یونیورسٹی آف لاہور ! فیس عدم ادائیگی پر تضحیک ! طالب علم نے خودکشی کر لی

0
600

اسرار احمد وڑائچ

 یونیورسٹی آف لاہور میں ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ادارے کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ ذرائع کے مطابق فیس کی عدم ادائیگی پر ایک استاد نے بھری کلاس میں اس کی تضحیک کی، اور اویس سلطان جو خواب اٹھائے اس درسگاہ میں آیا تھا،دل برداشتہ ہو کر زندگی سے ہار گیا۔ یہ ایک سفاک تعلیمی نظام کا فطری نتیجہ تھا۔

یونیورسٹی آف لاہور اور اس کے مالکان اس سرمایہ پرست سماج کا بدترین نمونہ ہیں، جہاں تعلیم عبادت نہیں، کاروبار ہے؛ جہاں طالب علم انسان نہیں، رسید ہے؛ اور جہاں عزت کا معیار قابلیت نہیں، فیس اسٹرکچر ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جو خود کو یونیورسٹی کہلواتے ہیں مگر اندر سے کارپوریٹ فیکٹریاں ہیں ،ایسی فیکٹریاں جہاں ڈگریاں بنتی ہیں اور انسان ٹوٹتے ہیں۔

ان مالکان کے ایک ایک فرد کی سو سو کہانیاں ہیں۔ کہانیاں ظلم کی، لالچ کی، طاقت کے ناجائز استعمال کی ،مگر سب کہانیاں نوٹوں کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ انہی نوٹوں کے نیچے یہ موت بھی دبا دی جائے گی۔ اسے حادثہ کہا جائے گا، کیمروں کے سامنے ہمدردی کے دو جملے بولے جائیں گے، اور پھر وہی کیمپس، وہی موسیقی، وہی کلچر پروگرام جیسے کوئی انسان مرا ہی نہ ہو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں یہ معاملہ محض ایک خودکشی نہیں رہتا بلکہ ادارے کے اجتماعی کردار کا پوسٹ مارٹم بن جاتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اویس سلطان کو کس نے چھلانگ لگانے پر مجبور کیا؟ کس نے استاد کو یہ اخلاقی جواز دیا کہ وہ فیس نہ ہونے کو جرم بنا دے؟

کس نے اسے یہ اختیار دیا کہ وہ بھری کلاس میں کسی نوجوان کی عزت نیلام کرے؟ اور کس نے انتظامیہ کو یہ حق دیا کہ وہ ایک جان کے ضیاع کے فوراً بعد تماشے سجا دے؟ نجی تعلیمی اداروں کا یہ ماڈل شروع دن سے درندہ رہا ہے۔ یہاں طالب علم کو پہلے دن بتا دیا جاتا ہے خاموش رہو، سر جھکاؤ، سوال مت کرو ورنہ دروازہ کھلا ہے۔

یہاں ذہنی اذیت پالیسی کا حصہ ہے، اور تضحیک انتظامی ہتھیار۔ اور جب کبھی کوئی ٹوٹ کر گرتا ہے تو ادارہ ہاتھ جھاڑ لیتا ہے۔ کہہ دیا جاتا ہے “ہم ذمہ دار نہیں” “یہ ذاتی مسئلہ تھا” “ہم انکوائری کریں گے”

یہ وہی انکوائریاں ہیں جو فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں، وہی رپورٹس جو کبھی منظرِ عام پر نہیں آتیں، اور وہی سچ جو ہمیشہ طاقت کے قدموں تلے کچلا جاتا ہے۔

اس سارے معاملے کا سب سے مکروہ پہلو میڈیا کی خاموشی ہے۔ کوئی بڑا صحافتی ادارہ اس خبر کو اس شدت سے اس لیے نہیں اٹھائے گا کہ سرمایہ دار صرف یونیورسٹیوں کے نہیں، اخبارات کے بھی مالک ہیں۔

یونیورسٹی آف لاہور کے مالکان کا اخبار جہانِ پاکستان کے نام سے شائع ہو رہا ہےاور جب قاتل خبر کا مالک ہو، تو صحافت لاش بن جاتی ہے۔

یہ مفادات کی سازش ہے۔ یہ وہ گٹھ جوڑ ہے جہاں تعلیم، میڈیا اور سرمایہ ایک دوسرے کو تحفظ دیتے ہیں اور بیچ میں صرف طالب علم پستا ہے۔

آج اویس سلطان مرا ہے۔ کل کوئی اور ہوگا۔ کوئی اور چھت، کوئی اور کلاس، کوئی اور استاد، کوئی اور انتظامیہ مگر نظام وہی رہے گا، جب تک اسے للکارا نہیں جاتا۔

یہ وقت سچ بولنے کا ہے۔ یہ وقت یہ ماننے کا ہے کہ ہمارے نجی تعلیمی ادارے طاقت کے مراکز بن چکے ہیں جہاں رحم کمزوری اور سوال بغاوت سمجھا جاتا ہے۔

اگر یونیورسٹی آف لاہور واقعی تعلیمی ادارہ ہے تو وہ اس موت کو حادثہ کہہ کر دفن نہ کرے وہ فیس پالیسی اور اساتذہ کے رویّوں کا عوامی آڈٹ کرائے وہ اس دن کو جشن نہیں، شرمندگی کا دن مانے

اور اگر یہ سب نہیں ہو سکتا تو کم از کم سچ بول دیا جائے:

یہ ادارے یونیورسٹیاں نہیں، کاروباری برانڈز ہیں تاکہ آئندہ کوئی نوجوان یہاں علم کی تلاش میں نہیں، سودا سمجھ کر آئے۔

یہ تحریر فردِ جرم ہے۔

اور اگر اس فردِ جرم پر بھی خاموشی رہی تو یاد رکھیے

اگلی لاش پر بھی موسیقی بجے گی،

اور ہم سب برابر کے شریکِ جرم ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here