باقی صدیقی جیسے عظیم شعرا کی وجہ سے قافلۂ علم و دانش چل رہاہے : پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر
باقی صدیقی جیسا جدید شاعر اپنی مٹی اور وطن سے حد درجہ محبت کرتا تھا : پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد
باقی صدیقی نے عشقِ رسولؐ میں ملکہ کی وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔۔ جبار مرزا
اسلام آباد — باقی صدیقی جیسے عظیم شعرا کی وجہ سے قافلۂ علم و دانش چل رہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار، ڈائریکٹر جنرل، ادارۂ فروغِ قومی زبان پروفیسرڈاکٹر محمد سلیم مظہر نےایوانِ باقی صدیقی اور ادارۂ فروغِ قومی زبان، اسلام آباد کے اشتراک سے باقی صدیقی کی 53ویں برسی کے سلسلے میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ شعرا نے آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ باقی صدیقی خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ اُن کے کلام کو تدوینی اُصولوں کے تحت یکجا کر کے باقاعدہ مقدمہ، تعارف اور تنقید کے ساتھ شائع کروانے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد ، صدرشعبہ اُردو، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے کہا کہ باقی صدیقی جیسا جدید شاعر اپنی مٹی اور وطن سے حد درجہ محبت کرتا تھا۔ان کی شاعری میں نئے خیالات کا ہجوم تھا۔باقی کی شاعری ان کے دور کے پورے ورثے کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔
نامور صحافی جبار مرزا نے کہا کہ باقی نے عشقِ رسولﷺ میں ملکہ کی وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے “نقشِ وفا باقی”کے نام سے مضمون پڑھا۔ تقریب کی صدارت ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان، اسلام آباد پروفیسرڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کی۔ افتتاحی کلمات ایگزایکٹو ڈائریکٹر ادارۂ فروغِ قومی زبان، اسلام آباد ڈاکٹر راشد حمید نے ادا کیے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، جبار مرزا ، پرنسپل قائداعظم اکیڈیمی ڈاکٹر طارق محمود قاضی اور سابق ڈائریکٹر پروگرام ریڈیو پاکستان سید الطاف احمد شاہ تھے۔ دیگرمقررین میں ڈاکٹر فرحت جبین،ساجدقریشی،جہانگیر عمران، ڈاکٹر مہناز انجم، انجم قریشی، ڈاکٹر باقر وسیم،نعیم اکرم قریشی ، تابش بنگش،شمائلہ عبیر چوہدری، اور آمنہ سید نے باقی صدیقی کی فن و شخصیت پر اپنے مقالات پیش کیے۔ تقریب کی نظامت احمد علی ہاشمی نے کی۔