نوجوان اہلِ قلم کومحترمہ نعیم فاطمہ علوی کی طرف سے الوداعی عشائیہ

0
543
اسلام آباد: اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام ملک بھر سے اقامتی منصوبے کے لیے آئے ہوئے نوجوان اہلِ قلم کو 24 جنوری 2025ء کی شب الوداعی عشائیہ معروف مصنفہ، افسانہ نگار، سوانح نگار، اور فعّال ادبی و سماجی شخصیت محترمہ نعیم فاطمہ علوی کی طرف سے پیش کیا گیا۔ اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف ڈائریکٹر جنرل جناب سلطان ناصر، اور ڈائریکٹر جناب محمد عاصم بٹ نے بھی عشائیے میں شرکت کی۔
اِس موقع پر اقامتی منصوبے کے شرکا سے ملاقات کے لیے بعض دیگر اہلِ قلم بھی تشریف لائے جن میں ڈاکٹر عبدالوحید رانا، ڈاکٹر فوزیہ سعید، ڈاکٹر ملیحہ حسین، انجم خلیق، اور  فاروق عادل شامل تھے۔
اقامتی منصوبے کے شرکا نے اپنی علمی ادبی کاوشوں کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے علاقوں کا تعارف بھی کرایا۔
ڈاکٹر فوزیہ سعید اور ڈاکٹر ملیحہ حسن نے سماجی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رواداری، برداشت، اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مضافاتی علاقوں کی خواتین کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی کوششوں کے حوالے سے بھی بات کی۔
ڈاکٹر وحید رانا نے آثاریات و بشریات کے حوالے سے اپنی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے استاد مرحوم احمد حسن دانی کی یادیں بھی تازہ کیں۔  فاروق عادل نے اپنے علمی ادبی مشاغل پر روشنی ڈالی اورانجم خلیق نے غزل پیش کی۔
اقامتی منصوبے کے مہمان شرکا میں محمد ضیا المصطفیٰ، حفیظ تبسم، جنابکاشف ناصر، ڈاکٹر ثناور اقبال،  نعیم یاد، سید آصف شاہ، سید قیس رضا، محترمہ ارم امتیاز اعوان،  محمد ولی صادق،  محمد مسلم،  ندیم گلانی،  اسحاق رحیم،  مہر زاہد نالوی،  ذاکر قادر، زبیر احمد، محترمہ ارم جعفر، میر منظور جویو،  طفیل عباس، اور  مستفیض الرحمان شامل تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here