آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے دنیا میں انقلاب آرہا ہے ، لوگوں کو اسکے موثر استعمال کی تعلیم و آگاہی دینا ہوگی، احسن اقبال

0
402
اسلام آباد (پاکستان ان دی ورلڈ ) وزارت صنعت و پیداوار کے تحت انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے اشتراک سے “انڈسٹری 4.0 اور انجینئرنگ انڈسٹری کے لیے پراسیس آٹومیشن” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینار نسٹ کیمپس ایچ-12، اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں حکومتی عہدیداروں، صنعتی ماہرین، پالیسی سازوں اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے صنعتی ترقی کے لیے آٹومیشن اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے سیمینار کے اختتام پر اکیڈمیہ اور صنعت کے اشتراک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے دنیا میں انقلاب آرہا ہے اور لوگوں کو اسکے موثر استعمال کی تعلیم و آگاہی دینا ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے نیشنل سینٹر برائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ، سائبر سکیورٹی ، بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ ، جی آئ ایس اور ریموٹ سینسنگ کی بنیاد رکھی اور ہر سینٹر کو 10 -8 یونیورسٹیوں کے ساتھ منسلک کیا تاکہ ملک میں انوویشن ایکو سسٹم ابھرے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی تبدیلی کی اولین زمہ داری یونیورسٹیوں نے نبھانی ہے، دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں پروفیسرز کی پروموشن ریسرچ کے اعلی معیار کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بات پر غور کرنی چاہیے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں موجود جدید مشینوں سے انڈسٹری کے لیے کتنا ریوینیو کمایا گیا، کتنے سٹارٹ اپ بنے اور معیشت کو کتنا فائدہ ہوا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کی یونیورسٹیاں عالمی برانڈ بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں مگر ملکی برانڈ کی پہچان کو دنیا بھر میں فروغ دینا ہوگی۔ پلاننگ کمیشن نے 5 UETs کے لیے فنڈز مختص کرکے انھیں اپ گریڈ کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ دفاعی ٹیکنالوجی کو کمرشلائز کر کے اقتصادی ترقی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے،
وزارت منصوبہ بندی نے ایچ ای سی کے لیے کوالٹی اشورنس فریم ورک بنایا تاکہ پاکستانی یونیورسٹیوں کو عالمی یونیورسٹیوں کے معیار پر لایا جائے۔ تقریر کے اختتام میں انھوں نء کہا کہ وزارت منصوبہ بندی نے نومبر میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار انجینئرنگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے نام سے STED پروگرام کا افتتاح کیا تھا جسکا پہلا پالیسی ڈائلاگ 24 -25 فروری کو منعقد ہوگا۔
سیمینار کا مقصد پاکستان کی صنعتی ترقی میں ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کے فروغ پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
سیمینار میں انڈسٹری 4.0 ٹیکنالوجیز، بشمول آئی او ٹی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بگ ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر-فزیکل سسٹمز کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ صنعتی کارکردگی اور عالمی مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے۔ نسٹ کے پرو ریکٹر (آر آئی سی) نے تحقیقی و تخلیقی ماحول کو فروغ دینے میں تعلیمی اداروں کے کردار کو اجاگر کیا۔
ای ڈی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر خدا بخش نے انڈسٹری 4.0 کو مسابقتی برتری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ حکومتی، تعلیمی اور صنعتی ماہرین نے پالیسی فریم ورک اور ڈیجیٹل اپنانے کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ای ڈی بی نے انجینئرنگ سیکٹر میں صنعت اور ٹیکنالوجی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر شرکاء نے نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (این ایس ٹی پی) کا دورہ بھی کیا جہاں جاری تحقیقی و تخلیقی منصوبوں کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں۔ ای ڈی بی کے سی ای او نے اعلان کیا کہ ایسے سیمینارز ملک کے بڑے صنعتی مراکز میں بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ صنعت کو تعلیمی اداروں سے مزید قریب لایا جا سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here