پشاور(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی خیبر پختونخوا کمیٹی کا اجلاس نائب صدر اور کمیٹی کے چیئرمین طاہر فاروق کی زیر صدارت ہوا ۔ جس میں سیکریٹری اطلاعات خیبر پختونخوا ارشد خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت جبکہ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل اعجاز الحق بھی اس اجلاس میں بطور خاص شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارشد خان نے کہا کہ اخبارات کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ بہت جلد ادائیگی کا عمل شروع ہوجائے گا جبکہ موجودہ اشتہارات کی ادائیگی کا عمل ریگولرائز کردیا گیاہے، اشتہارات کی تقسیم منصفانہ طور پر کی جارہی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک محکمہ اطلاعات اور اخبارات کے درمیان اب تک اخبارات کے اشتہارات کے بقایا جات کی مد میں١یک ارب روپے تک کی ریکنسیلیشن ہوچکی ہے۔
ا س موقع پر سیکریٹری جنرل سی پی این ای اعجاز الحق اور نائب صدر طاہر فاروق نے سیکریٹری اطلاعات (کے پی) ارشدخان کو اخبارات کو درپیش مسائل اور بقایات کی عدم ادائیگی کے باعث اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا اشتہارات کے بلوں کی ادائیگی ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک یقینی بنائی جائے جبکہ سالہا سال سے رکے ہوئے اخبارات کے بقایا جات کی فوری ادائیگی کا عمل شروع کیا جائے۔
سیکریٹری اطلاعات نے سی پی این ای کی کے پی کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کو اجاگر کرنے میں علاقائی اخبارات کا انتہائی اہم کردار ہے لہذاانہیں مضبوط اور مزید موثر بنانے کے لیے محکمہ اطلاعات بھرپور اقدامات اٹھا رہا ہے اور بہت جلد اخبارات کے بقایا جات کا مسئلہ بھی حل کرلیا جائے گا، صوبائی حکومت اس معاملے میں بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جس کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔
سی پی این ای کے نائب صدر طاہر فاروق نے کہا کہ اخبارات کو درپیش مسائل حل کرنے میں سیکریٹری اطلاعات اہم کردار ادا کررہے ہیں ،توقع ہے کہ ان کی کوششوں اور اقدمات کے باعث بقایاجات کی ادائیگی کے عمل میں تیزی آئے گی لیکن موجودہ صورت حال میں بقایاجات کی عدم ادائیگیوں کے باعث اخبارات بندش کے دہانے پر ہیں۔
سیکریٹری جنرل سی پی این ای اعجاز الحق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پی این ای نے طویل جدوجہد کے نتیجے میں مثبت نتائج حاصل کیے ہیں۔ اگرچہ یہ بہت طویل سفر ہے جس میں ہمیں کئی آزمائشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ہماری سمت درست ہے۔
اس اجلاس میں عدنان ظفر(آج)، تنویر صدیقی(آج)، مسعود خان (ریاست)، اشرف ڈار(عوام الناس)، ظاہر شاہ شیرازی(نوائے پاکستان)، علی نواز گیلانی (الجمعیت سرحد)، فضل حق (ڈیلی ٹائمز)، امجد عزیز ملک (کسوٹی)، عظمت دائود زئی (پیغامات) ، جاوید آفریدی(پیام خیبر) ، سردار نعیم (قائد)، محمد ارشد (عدن)، لیاقت یوسف زئی(سرخاب)، وزیر زادہ (انتباہ)، ممتاز صادق (آزادی سوات)، شہزاد جدون (سرحد نیوز)، قیصر رضوی (جدت)، سلمانثناء اللہ (فرنٹیئر اسٹار)، ممتاز بنگش (92 نیوز) و دیگر موجود تھے۔
ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی (ڈی آر پی اے) کے قیام سے متعلق خبروں پرتحفظات کا اظہار










