(اس مضمون کے تمام حصوں سے ہماری مطابقت ضروری نہیں ہے – ہم حکومت پنجاب کی میڈیا اشتہارات کی فہرست میں شامل نہیں ہیں – ہم یہ مضمون مفت شائع کررہے ہیں – تزئین اختر ایڈیٹر)
تحریر: محمد عمران حیدر
دنیا بھر میں ترقی کے سفر کو جاری رکھنے اور باہمی رابطے کے لیے فاصلوں کو آسانی سے طے کرنے اور سمیٹے کو بہتر بنایا جاتا ہے۔ گلوبلائزیشن کے دور میں اس کی اہمیت مذید بڑھ گئی ہے۔ عالمی، ملکی یا علاقائی سطح ہو، سڑک رابطوں اور معیشت کو بہتر بنانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ترقی کا زاویہ بہترین سفری سہولیات سے بھی لگایا جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی کارکردگی کو جانچنے میں سڑکوں کی تعمیر جو فاصلوں کو کم وقت میں طے اور آسان سفری سہولیات مہیا کرنے میں مدد دے،
ترقی کی رفتار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ معیاری اور آسان سفری سہولیات جہاں رابطے اور روزگار کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں وہیں غربت کی شرح کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔ آج انٹرنیٹ کا دور ہے۔ سماجی رابطے موبائل تک محدود ہو گئے ہیں مگر روزگار، خریدوفروخت ، میل ملاپ کے لیے سفری سہولیات کا بہتر ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جتنی سفری سہولیات آسان ہوں گی، اتنا ہی لوگ اپنے روزمرہ زندگی کے امور آسانی سے سر انجام دے سکیں گے۔
راولپنڈی رنگ روڈ علاقائی ترقی کا ایسا منصوبہ ہے جو بالآخر اس سال دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے راولپنڈی رنگ روڈ کو رواں برس دسمبر تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ذاتی دلچسپی کی بدولت رنگ روڈ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اب تک راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے پر 37 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے جو خو ش آئیند ہے۔
اقلیتیں …………سر کا تاج“مریم نواز شریف نے وعدہ سچ کر دکھایا پاکستان کی تاریخ کا پہلا مینارٹی کارڈ لانچ
اگر اس منصوبے کا جائزہ لیں تو راولپنڈی رنگ روڈ کی لمبائی 38.3 کلومیٹر ہے جو چھ لین پر مشتمل ہوگی۔ یہ روات کے قریب بانٹھ جی ٹی روڈ سے شروع ہوکر موٹر وے کے قریب ٹھلیاں پر اختتام پزیر ہوگا۔ رنگ روڈ پر بانٹھ، چک بیلی خان، اڈیالہ روڈ، چکری روڈ، ٹھلیاں، کل پانچ انٹر چینجز ہوں گے۔ بانٹھ کے قریب ایک ریلوے پل بھی بنایا جائے گا۔ 13 اوور پاسز، 10 سب وے جبکہ 2 ہائی لیول پلوں کے علاؤہ مختلف نالوں کے اوپر بھی 5 پل بنائے جائیں گے۔49 باکس کلورٹس بھی بنائے جا رہے ہیں۔
اگر معاشی زاویے سے منصوبے کا جائزہ لیا جائے تو رنگ روڈ کے اردگرد انڈسٹریل زون قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس کے اردگرد کی تمام اراضی کو کمرشل قرار دیا جائے گا اور سڑک کے دونوں اطراف تین سے دس منزلہ عمارتیں اور پلازے بھی بنائے جائیں گے۔ رنگ روڈ کے ساتھ ساتھ سروس روڈز بھی ہوں گی۔ ماحول کو صاف رکھنے کے لیے رنگ روڈ کے اطراف میں پودے بھی لگائے جائیں گے اور سڑک کے ساتھ تفریحی مقامات، بینچ، پھول بھی لگائے جائیں گے۔ کوالٹی اشورینس میکنزم کے تحت منصوبے پر کام جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف منصوبے کی تکمیل میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد گزشتہ برس انہوں نے روالپنڈی رنگ روڈ کا دورہ کیا۔ حال ہی میں منصوبے کی تکمیل کی رفتار کا جائزہ لینے کے لیے انہوں نے گزشتہ ماہ کے آخر میں راولپنڈی رنگ روڈ کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا فضائی جائزہ بھی لیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے خصالحہ خورد راولپنڈی رنگ روڈ کیمپ آفس کا بھی دورہ کیا جہاں کمشنر راولپنڈی ڈویژن عامر خٹک نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب کو تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ دسمبر تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دیدی۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ 38 کلومیٹر سے زائد طویل راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تکمیل سے ٹریفک کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ راولپنڈی رنگ روڈ کی تکمیل سے معاشی اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ راولپنڈی رنگ روڈ کی تکمیل سے لاکھوں شہریوں کو سفر میں آسانی ملے گی۔ منصوبے کی تکمیل کے لئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
پنجاب حکومت کا تمام تعلیمی اداروں میں تمباکو اور نکوٹین مصنوعات پر فوری طور پر مکمل پابندی کا فیصلہ










