ایک شہید کی بیوہ کی پکار آخرکار سنی گئی
شکریہ کا اظہار: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام
از بیوہ شہید لیفٹیننٹ کرنل مظہر القیوم، ایس جے اینڈ بار (PA-3263)
میں ایک نحیف، بیمار اور بستر پر پڑی ہوئی تقریباً 90 سالہ خاتون ہوں، شہید لیفٹیننٹ کرنل مظہر القیوم (SJ & Bar) کی بیوہ۔ میرے پاس گزارے کا واحد ذریعہ، میرا گھر — مکان نمبر 15، گلی 16، سیکٹر F-7/2، اسلام آباد — کو ناجائز طور پر نازش اقبال نے قابض کر لیا۔ ان کے شوہر شہزاد اقبال خان نے جھوٹ بول کر خود کو ریٹائرڈ کرنل ظاہر کیا، حالانکہ وہ 85ویں پی ایم اے لانگ کورس سے فوجی قوانین کی خلاف ورزی پر خارج کیے گئے تھے۔
نازش اقبال، سابق ایم پی اے ملک آصف کی بیٹی ہیں، اور ان کی بہن کی شادی موجودہ گورنر پنجاب سلیم حیدر خان سے ہوئی ہے۔ ان سیاسی تعلقات کی بنیاد پر انہوں نے ریاستی اداروں کو دباؤ میں رکھا۔ زبان پر افواجِ پاکستان اور شہداء کی عزت کے دعوے، لیکن عمل میں سراسر بے حسی اور استحصال۔
تقریباً آٹھ سال تک وہ میرے گھر میں رہتے رہے، معمولی کرایہ ادا کرتے ہوئے، جو سالوں تک تبدیل نہ ہوا۔ بار بار مالی مجبوریوں، بچوں کی فیس، اور ذاتی پریشانیوں کا بہانہ بنا کر میرے جذبات کا فائدہ اٹھایا۔ یہاں تک کہ میرے گھر کے خادموں کو رشوت دے کر میری ذاتی معلومات حاصل کیں۔
ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ بغیر کسی معاہدے کے قیام، عدالتی حکم، پولیس کی خاموشی، اور ایڈووکیٹ کاشف ملک جیسے طاقتور رشتہ داروں کے ذریعے عدلیہ کو گمراہ کرنا — سب کچھ ایک بااثر خاندان کی پشت پناہی سے ممکن ہوا۔ عید کے دن پانی کی لائن کاٹ دی گئی، ایف آئی آر درج کروائی گئی، مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ گیس کی چوری تو برسوں سے جاری تھی۔
میرے بیٹے اور میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، مگر انصاف کا سایہ بھی نہ ملا۔
آخرکار، ہم نے اپنی آخری امید فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے وابستہ کی — پاکستان کے فخر، جنہوں نے حال ہی میں افواجِ پاکستان کو نئی عزت اور وقار عطا کیا ہے۔ بے پناہ مصروفیات کے باوجود، انہوں نے ایک بے بس بیوہ کی فریاد سنی، اور فوری کارروائی کرتے ہوئے میرا گھر مجھے واپس دلایا۔
میرے جذبات الفاظ سے بالاتر ہیں۔ میں ہمیشہ کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی احسان مند رہوں گی، جنہوں نے میرے شوہر کی قربانی کا وقار بحال کیا۔
میری درخواست ہے کہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق بقایا کرایہ بھی ادا کیا جائے، اور شہداء کے خاندانوں کے تحفظ کیلئے ایک مستقل سیل قائم کیا جائے تاکہ کوئی اور بیوہ ایسی درندگی کا شکار نہ ہو۔
میں کچھ نہیں دے سکتی، سوائے دعاؤں کے۔ میرے شوہر نے جس ادارے کیلئے جان دی، آج اسی ادارے نے — فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں — اُن کے نام کا مان رکھا۔
Pakistan in the World – June 2025