پاک بحریہ : بہادری اور عزم کی لازوال داستان ! مسرور احمد

0
364

مسرور احمد

ہر سال 8 ستمبر کو یوم بحریہ مناتے ہوئے پاکستانی عوام اپنی بحریہ کی بے مثال بہادری، اسٹریٹجک بصیرت اور قومی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے ناقابل شکست عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ 1965ء اور 1971ء کی پاک-بھارت جنگوں میں پاک بحریہ کی شاندار فتوحات اور مئی 2025ء کے معرکہ حق میں اس کی مضبوط دفاعی تیاری نے اسے خطے کی ایک مستحکم قوت کے طور پر منوایا۔ ہمارے لئے یہ ایک فخر کا مقام ہے کہ بھارتی بحریہ تمام جنگوں اور علاقائی تنازعات میں، پاک بحریہ سے سات گنا بڑی ہونے کے باوجود پاکستان بحریہ کے خلاف کبھی کوئی قابل ذکر کامیابی یا سٹریٹیجک برتری حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

1965ء کی پاک-بھارت جنگ، جو کشمیر کے تنازع پر لڑی گئی، پاک بحریہ کی بہادری کا ایک سنہری باب ہے۔ اس جنگ میں پاک بحریہ نے محدود وسائل کے باوجود آپریشن دوارکا کے ذریعے بھارتی بحریہ کو زبردست سرپرائز دیا۔ یہ آپریشن 7-8 ستمبر 1965ء کی رات کو کراچی سے 200 کلومیٹر دور بھارتی ساحلی شہر دوارکا پر کیا گیا، جس کا مقصد بھارتی ایئر فورس کے ریڈار اسٹیشن کو تباہ کرنا اور بھارتی بحری اثاثوں کو للکارنا تھا۔

کموڈور ایس ایم انور کی قیادت میں پاک بحریہ کے سات جنگی جہازوں—پی این ایس بابر، خیبر، بدر، جہانگیر، عالمگیر، شاہ جہان، اور ٹیپو سلطان—نے دوارکا پر بمباری کی۔ ہر جہاز نے تقریباً 50 راؤنڈز فائر کیے، جنہوں نے ریڈار تنصیبات اور ساحلی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ بھارتی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ نقصان کم تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن غیر جانبدار ذرائع کے مطابق، اس آپریشن نے بھارتی کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور پاکستان کے قومی حوصلے کو بلند کیا۔ بھارت نے اس حملے کے نتیجے میں اپنا بحری بجٹ 35 کروڑ سے بڑھا کر 115 کروڑ روپے کیا، جو اس حملے کی اسٹریٹجک اہمیت کا ثبوت ہے۔ اس مشن نے پاک بحریہ کی محدود وسائل کے ساتھ طاقت کے مظاہرے کی صلاحیت کو جاندار اور بھر پور انداز میں ثابت کیا۔

1971ء کی پاک-بھارت جنگ، پاک بحریہ کے لیے مشکل حالات لے کر آئی۔ مشرقی پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمی اور بنگالی مکتی باہنی کی بغاوت نے آپریشنز کو محدود کیا۔ تاہم، مغربی محاذ پر پاک بحریہ نے شاندار کارکردگی دکھائی۔9 دسمبر 1971ء کو کمانڈر احمد تسلیم کی قیادت میں پی این ایس ہنگور، ایک ڈیفنی کلاس آبدوز، نے گجرات کے ساحل کے قریب بھارتی فریگیٹ INS Khukri کو ڈبو کر تاریخ رقم کی۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد آبدوز سے ہونے والی پہلی کامیابی تھی۔ ہنگور نے INS Kirpan کو بھی نقصان پہنچایا، جس سے بھارتی بحریہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوئی۔ INS Khukri کے ڈوبنے سے 18 افسران اور 178 ملاح ہلاک ہوئے، جو بھارتی بحریہ کے لیے بڑا دھچکا تھا۔

مشرقی پاکستان میں پاک بحریہ نے اپریل 1971ء میں آپریشن بریسٹر کیا، جو آپریشن سرچ لائٹ کی حمایت میں ایک دریائی آپریشن تھا۔ مغربی محاذ پر، بحریہ نے پاک فضائیہ کے تعاون سے کراچی کی حفاظت کی اور بھارتی حملوں کو محدود کیا۔ اگرچہ بھارتی آپریشنز ٹرائیڈنٹ اور پائتھون نے کراچی کی بندرگاہ کو نقصان پہنچایا، جن میں پی این ایس خیبر اور محافظ ڈوب گئے، پاک بحریہ کی مزاحمت نے بھارتی برتری کو مکمل غلبہ حاصل کرنے سے روک دیا۔

پاک بحریہ نے مشکلات کے باوجود مغربی محاذ پر اپنی سمندری حدود کی حفاظت کی۔ پی این ایس ہنگور کی کامیابی نے آبدوزی جنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پاک بحریہ کی تکنیکی مہارت کو ثابت کیا۔

22 اپریل 2025ء کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے، جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے، نے پاک-بھارت تنازع کو جنم دیا۔ بھارت نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے آپریشن سندور شروع کیا، جس میں پاکستان اور آزاد کشمیر میں فرضی دہشت گرد ڈھانچوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ پاکستان نے الزامات کی تردید کی اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی۔ یہ تنازع 7 سے 10 مئی 2025ء تک جاری رہا، لیکن پاک بحریہ کی مضبوط تیاری نے بھارتی بحری جارحیت کو روک دیا۔

پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت بھارت کی جارحیت کے خلاف ردعمل دیا، جس میں سائبر حملوں نے بھارتی فوجی اور حکومتی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ پاک بحریہ نے جہازوں، آبدوزوں، اور لانگ رینج میری ٹائم پیٹرول (LRMP) طیاروں کو تعینات کیا تاکہ کراچی اور گوادر کے گرد دفاعی حصار قائم کیا جائے۔ پاک بحریہ نے اپنی A2/AD حکمت عملی کے ذریعے بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت کو محدود کیا۔ چوکس بحری گشت اور اسٹریٹجک تعیناتی نے بھارتی بحریہ کے جہازوں، بشمول INS Vikrant، کو پاکستانی حدود سے دور رکھا۔ اس حکمت عملی نے کراچی، جو پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، کی حفاظت کو یقینی بنایا اور سمندری راستوں (SLOCs) کی حفاظت کی۔

پاک بحریہ نے ساحلی اینٹی شپ میزائلوں اور ایرانی طرز کے سوارم ٹیکٹکس کا استعمال کیا، جو LRMP طیاروں کی جدید سینسرز سے تقویت یافتہ تھے۔ یہ حکمت عملی بھارتی بحریہ کو پاکستانی حدود سے دور رکھنے میں کامیاب رہی۔ بھارتی وزیردفاع راجناتھ سنگھ کا بیان کہ“بھارتی بحریہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ شروع بھی نہیں کیا”دراصل پاک بحریہ کی موثر روک تھام کا اعتراف تھا۔

مئی 2025ء کے تنازع میں پاکستانی قوم نے متحد ہو کر اپنی فوج کی حمایت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں پاک بحریہ کی تیاریوں کی تعریف کی، جبکہ پاک فوج اور بحریہ نے مل کر بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ عوام نے سوشل میڈیا پر PakistanStandsStrong #کے تحت اپنا جوش و جذبہ ظاہر کیا، جبکہ پاک بحریہ کے جوانوں نے رات دن کی چوکس نگرانی سے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔

الجزیرہ سمیت عالمی میڈیا نے مئی 2025ء کے تنازع میں پاکستان کی اسٹریٹجک کامیابیوں کو سراہا، خاص طور پر کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور بھارت کے جدید ہتھیاروں کے مقابلے میں استقامت دکھانے کے لیے۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹریٹفور نے پاک بحریہ کی A2/AD حکمت عملی کو خطے میں ایک موثر دفاعی ماڈل قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کی، لیکن پاکستان کی دفاعی تیاریوں نے مجموعی طور پر عالمی برادری کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ ملکی وقار میں بھی اضافہ کیا جبکہ اسکے برعکس بھارت کو عالمی سطح پر بھی اور ملکی سطح پر بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاک بحریہ نے 1965ء، 1971ء، اور 2025ء میں ثابت کیا کہ تعداد نہیں بلکہ عزم اور حکمت عملی کامیابی کی کلید ہے۔ آپریشن دوارکا نے بھارتی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، پی این ایس ہنگور نے تاریخ رقم کی، اور مئی 2025ء کے معرکہ حق میں پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو جارحیت سے باز رکھا۔ یہ کامیابیاں اور نتائج پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت، تکنیکی ترقی، اور قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔

یوم بحریہ ہر پاکستانی کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ پاک بحریہ کی 1965ء، 1971ء، اور مئی 2025ء کی کامیابیاں قوم کے عزم، فوج کی تیاری، اور عوام کے جذبے کی گواہی دیتی ہیں۔ آپریشن دوارکا سے لے کر آپریشن بنیان المرصوص تک، پاک بحریہ نے ثابت کیا کہ وہ پاکستان کی سمندری حدود کی ناقابل تسخیر محافظ ہے۔ اس کی داستان آج بھی مشعل راہ ہے، جو ہر پاکستانی کو اپنے وطن کی حفاظت کے لیے متحد اور تیار رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ پاک بحریہ زندہ باد، پاکستان پائندہ باد!

مسرور احمد نمل یونیورسٹی اسلام آباد میں میڈیا سٹڈیز کے پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔ فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ صحافت انکا پیشہ نہیں لیکن شوق کی وجہ سے شعبہ صحافت سے ایک لمبے عرصہ سے وابستہ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here