’خواتین اور بچوں کو مارنے کے الگ الگ ریٹ‘: بوسنیائی جنگ میں ’سنائپر سیاحت‘ اور ’انسانی شکار‘ کے انکشافات نے یورپ کو ہلا دیا

0
577

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اٹلی کے شہر میلان میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ان دعوؤں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس میں اطالوی شہریوں پر الزام ہے کہ اُنھوں نے نوے کی دہائی میں جنگ کے دوران ’سنائپر سفاری‘ کے لیے بوسنیا ہرزیگووینا کا سفر کیا۔ اطالوی شہریوں اور بعض دیگر پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے محاصرہ زدہ شہر سارایوو میں شہریوں پر گولی چلانے کے لیے بڑی رقم ادا کی۔

میلان میں یہ شکایت صحافی اور ناول نگار ایزیو گوازینی نے درج کرائی تھی جن کا دعویٰ ہے کہ ہتھیاروں کے شوقین ’بہت امیر افراد‘ نے سارایوو کی پہاڑیوں میں سربین پوزیشنز سے ’نہتے شہریوں کو مارنے کے لیے‘ بڑی رقم ادا کی۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مردوں، خواتین اور بچوں کو مارنے کے لیے الگ الگ ریٹ مقرر کیے گئے تھے۔

لگ بھگ چار برس تک سارایوو میں جاری رہنے والے بدترین محاصرے کے دوران 11 ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ جنگ کی وجہ سے یوگوسلاویہ کے حصے بخرے ہو گئے تھے اور یہاں مسلسل گولہ باری اور سنائپر فائر کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ’انسانی شکاریوں‘ کے بارے میں اس نوعیت کے الزامات گذشتہ برسوں میں متعدد بار سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن گوازینی کے جمع کیے گئے شواہد میں بوسنیا کی فوج کے ایک انٹیلی جنس افسر کی گواہی بھی شامل ہے۔

بی بی سی نے سارہ رینس فورڈ، گائے ڈیلونی کی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق

اب اٹلی کے انسدادِ دہشت گردی کے پراسیکیوٹر الیسانڈرو گوبس اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں قتل کے الزامات بھی شامل ہیں۔ بوسنیا کے ملٹری انٹیلی جنس کے افسر نے انکشاف کیا کہ اُن کے بوسنین ساتھیوں کو 1993 میں ان مبینہ سفاریز کا علم ہو جنھوں نے یہ معلومات 1994 کے اوائل میں اٹلی کی ملٹری انٹیلی جنس (سسمی) کو دی۔

اُن کے بقول سسمی کی جانب سے ردِعمل تقریباً دو ماہ بعد آیا۔ اُنھیں پتہ چلا کہ یہ ’سفاری سیاح‘ شمالی اٹلی کے سرحدی شہر ٹریسٹی کے ذریعے سارایوو کا سفر کرتے تھے۔

انسا نیوز ایجنسی کے مطابق افسر کو بتایا گیا کہ ’ہم نے انھیں روک دیا ہے اور اب مزید سفاری نہیں ہوں گی اور دو تین مہینوں میں دورے بند ہو گئے۔‘

International Day of Reflection and Commemoration of Victims of Srebrenica Genocide & Movie Screening in Islamabad

گوازینی دہشت گردی اور مافیا کے بارے میں لکھتے ہیں۔ وہ تین دہائیوں قبل سنائپرز کے سارایوو کے دوروں کے بارے میں پڑھتے تھے۔ اس وقت ایک اطالوی اخبار اس پر بغیر کسی مستند ثبوت کے رپورٹ کرتا تھا۔

وہ سلووینیا کے ہدایت کار میران زپانک کی جانب سے سنہ 2022 میں بنائی گئی فلم ’سارایوو سفاری‘ کے بعد اس جانب متوجہ ہوئے۔ مذکورہ ہدایت کار نے الزام لگایا کہ اس قتل عام میں ملوث افراد کا تعلق اٹلی کے ساتھ ساتھ امریکہ اور روس سے بھی تھا۔

گوازینی نے اس معاملے میں مزید کام کیا اور فروری میں استغاثہ کو اپنے نتائج پیش کیے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ 17 صفحات پر مشتمل فائل ہے جس میں سارایوو کے سابق میئر کا بیان بھی شامل ہے۔

اٹلی کے اخبار ’اریپبلیکا‘ سے بات کرتے ہوئے گوازینی نے الزام لگایا کہ تقریباً 100 اطالوی شہریوں نے ایسا کرنے کے لیے ’بہت سارے پیسے‘ ادا کیے۔ اُن کے بقول آج کے لحاظ سے یہ رقم تقریباً ایک لاکھ ڈالر بنتی ہے۔

سنہ 1992 میں روسی قوم پرست مصنف اور سیاست دان ایڈورڈ لیمونوف کو ایک ہیوی مشین گن سے سارایوو میں کئی راؤنڈ فائرنگ کرتے ہوئے فلمایا گیا۔

اُنھیں بوسنیائی سرب رہنما راڈووان کاراڈزک کی طرف سے پہاڑی مقامات کا دورہ کرایا جا رہا تھا۔ کاراڈزک کا بعد میں دی ہیگ میں بین الاقوامی ٹربیونل نے ’نسل کشی‘ کا مجرم قرار دیا تھا۔

لیمونوف نے ’جنگی سیاحت‘ کے لیے ادائیگی نہیں کی تھی، وہ وہاں کاراڈزک کے مداح کے طور پر موجود تھے اور اس موقع پر اُنھوں نے کہا تھا کہ ’ہم روسیوں کو آپ سے سیکھنا چاہیے۔‘

کہا جاتا ہے کہ اطالوی استغاثہ اور پولیس نے گواہوں کی ایک فہرست کی نشاندہی کی ہے جب وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کون ملوث ہو سکتا ہے۔

لیکن 1990 کی دہائی میں سارایوو میں خدمات سرانجام دینے والے برطانوی افواج کے ارکان نے بی بی سی کو بتایا کہ بوسنیا میں تنازعے کے دوران اُنھوں نے کبھی کسی نام نہاد ’سنائپر سیاحت‘ کے بارے میں نہیں سنا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ عملی طور پر بہت مشکل ہے کہ کسی تیسرے ملک سے لوگوں کو لایا جائے جنھوں نے شہریوں کو مارنے کے لیے پیسے دیے ہوں۔ کیونکہ یہاں جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں۔

برطانوی افواج نے سارایوو کے اندر اور شہر کے آس پاس کے علاقوں میں خدمات انجام دیں، جہاں سرب افواج تعینات تھیں اور اُنھوں نے اس وقت کچھ بھی نہیں دیکھا جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ’سنائپر ٹورازم‘ ہو رہی ہے۔

30 سال پہلے 8000 بوسنیائی مسلمانوں کو کیسے قتل کیا گیا؟

11 جولائی سنہ 1995 کو بوسنیائی سرب فوجیوں نے بوسنیا ہرزیگووینا میں سربرینیکا کے قصبے پر قبضہ کر لیا۔

دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں ان کی فورسز نے منظم انداز میں 8000 سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔

یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کی سرزمین پر بدترین اجتماعی قتل و غارت تھی۔

بوسنیائی سرب یونٹس کے کمانڈر راتکو ملادچ کے فوجی قتلِ عام شروع کر رہے تھے جبکہ وہ خود خوفزدہ شہریوں کو بے خوف رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

ہلکے اسلحے سے لیس اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے ’پناہ گاہ‘ قرار دیے گئے اس علاقے میں اپنے اردگرد جاری تشدد کو روکنے کے لیے کچھ نہ کیا۔

اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بعد میں کہا: ’سربرینیکا کا سانحہ ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی تاریخ کے لیے ایک بھیانک خواب بنا رہے گا۔‘

یہ قتلِ عام بوسنیائی جنگ کے دوران بوسنیائی سرب فورسز کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کا ایک حصہ تھا۔ بوسنیائی جنگ سنہ 1990 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے بکھرنے کے دوران ہونے والے کئی مسلح تنازعات میں سے ایک تھی۔

اس وقت سوشلسٹ ریپبلک آف بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کہلانے والی یہ ریاست یوگوسلاویہ کا حصہ تھی اور یہاں کئی اقوام آباد تھیں جن میں بوسنیائی مسلمان، قدامت پسند سرب اور کیتھولک کروٹ افراد شامل تھے۔

بعد میں بوسنیا ہرزیگووینا نے سنہ 1992 میں ایک ریفرینڈم کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا اور اسے کچھ ہی عرصے بعد امریکی اور یورپی حکومتوں نے تسلیم کر لیا۔

مگر بوسنیائی سرب آبادی نے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس کے بعد جلد ہی سربیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے نئے تخلیق شدہ اس ملک پر حملہ کر دیا۔

Conference on War Crimes in Bosnia & Herzegovina and International Justice Mechanisms at NDU Islamabad

انھوں نے اس علاقے سے بوسنیائی لوگوں کو نکالنا شروع کر دیا تاکہ ’گریٹر سربیا‘ بنایا جا سکے۔ یہ پالیسی نسلی کشی کے مترادف تھی۔

بوسنیائی لوگ اکثریتی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور یہ بوسنیائی سلاو نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے قرونِ وسطیٰ کے دور میں عثمانی ترک حکمرانی کے عرصے میں اسلام قبول کیا تھا۔

بوسنیائی سرب فوجیوں نے 1992 میں سربرینیکا پر قبضہ کر لیا تھا مگر فوراً بعد ہی اسے بوسنیائی فوج نے دوبارہ حاصل کر لیا۔ فریقوں کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ شہر محاصرے میں چلا گیا۔

اپریل 1993 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس علاقے کو ’کسی بھی مسلح حملے یا کسی دیگر دشمنانہ کارروائی سے محفوظ علاقہ‘ قرار دے دیا۔

مگر محاصرہ جاری رہا۔ شہریوں اور اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں کے طور پر کام کر رہے ڈچ فوجیوں کی چھوٹی سی فورس کے لیے رسد ختم ہونی شروع ہوگئی۔ بوسنیائی رہائشی بھوک سے مرنے لگے۔

چھ جولائی سنہ 1995 کو بوسنیا کی سرب فورسز نے سریبرینیکا پر شدومد کے ساتھ حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی افواج نے ہتھیار ڈال دیے یا پھر شہر میں پیچھے ہٹ گئی اور جب نیٹو کی افواج کو فضائی حملے کے لیے بلایا گیا تو اس نے سرب فورسز کی پیش رفت کو روکنے میں کوئی مدد نہیں کی۔

یہ انکلیو پانچ دنوں میں ہی ان کے قبضے میں آ گیا۔ جنرل ملادچ دوسرے جرنیلوں کے ساتھ شہر میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے اور گشت کیا۔ تقریبا 20 ہزار مہاجرین اقوام متحدہ کے مرکزی ڈچ کیمپ کی جانب فرار ہوگئے۔

اس کے دوسرے دن ہی قتل و غارت گری کا آغاز ہو گیا۔ جب مسلمان پناہ گزینوں نے شہر چھوڑنے کے لیے بسوں پر سوار ہوئے تو بوسنیا کی سرب فورسز نے مردوں اور لڑکوں کو بھیڑ سے علیحدہ کیا اور انھیں وہاں سے دور لے گئے تاکہ انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیں۔

ہزاروں افراد کو پھانسی دے دی گئی اور پھر بلڈوزروں کے ذریعہ ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دھکیل دیا گیا۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بعض افراد کو تو زندہ ہی دفن کر دیا گیا تھا جبکہ کچھ بڑے بوڑھوں کو اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مارے جاتے ہوئے دیکھنا پڑا تھا۔

Bosnia and Herzegovina Association “Pomozi.ba” Provides Humanitarian Aid to Flood Affected People in Pakistan

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here