سپین میں مقیم 25 ہزار پاکستانیوں کا مستقبل بچانے کی خاطر نئے پاسپورٹ کیلئے پولیس رپورٹ کی شرط ختم کی جائے۔ اوور سیز پاکستانیز کا مطالبہ

0
267

اوور سیز پاکستانیز کے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانیز چودھری سالک حسین اور ڈائریکٹر جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ مصطفی جمال قاضی کے نام خطوط۔

سپین کی حکومت نے پچیس سال بعد غیر دستاویزی باشندوں کے لیے ایک تاریخی پالیسی جاری کی ہے جس سے 30 ہزار ایسے پاکستانیوں کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کا نادر موقع ملا ہے جو وہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور اب اس پالیسی سے فائدہ اٹھا کر سپین میں مقیم غیر دستاویزی پاکستانیوں کا نہ صرف روزگار محفوظ ہو گا بلکہ انھیں ہسپانوی معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہونے کا نادر موقع بھی مل جائے گا۔

 ان ہزاروں پاکستانیوں کو قانونی حیثیت دلوانے میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان کے پاس اس وقت وطن عزیز پاکستان کا پاسپورٹ نہیں ہے۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مختلف اور دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوے سپین پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اوراس وقت پاکستان کے لئے قیمتی زر مبادلہ بھیجنے کا باعث بن رہے ہیں۔

 امریکہ اور یورپ  بچوں کی مبینہ ٹریفکنگ ! این جی او ہوپ کی چیئرپرسن  گرفتار 

پاکستان نے ایسے تارکین وطن کے لئے یہ پروٹوکول و شرط عائد کر رکھی ہے کہ انھیں پاکستانی پاسپورٹ کے حصول کے لئے مقامی ہسپانوی پولیس کو رپورٹ کرنا لازم ہے جس کی وجہ سے پورے سپین میں پولیس اسٹیشنوں کے باہر کئی دن سے لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جس سے مقامی حکام بھی عاجز آچکے ہیں 

اس لازمی شرط کو پورا نہ کرنے کے باعث بہت سے پاکستانی تارکین وطن بر وقت ضروری دستاویزات حاصل کرنے سے قاصر ہیں جس وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے عائد کی گئی اس شرط کا سب سے زیادہ نقصان بھی پاکستانیوں کو ہو سکتا ہے۔

اوور سیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن کے چیرمین اختر ظہیر احمد نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف ، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار ، وزیر داخلہ سید محسن نقوی ،وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور ڈائریکٹر جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ مصطفی جمال قاضی کے نام خطوط میں اس اہم معاملے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ

” سپین میں موجود پاکستانی تارکین وطن کوپاسپورٹ کے اجراء میں فوری مدد کی جائے۔  غیر معمولی حالات اور سپین کی پالیسی کے محدود وقت کے پیش نظر،حکومت پاکستان غیر دستاویزی پاکستانیوں کے لیے پولیس رپورٹ کی شرط کو عارضی طور پر ختم کر دے تاکہ یہ افراد سپین کی نئی قانون سازی کی پالیسی سے استفادہ کر سکیں اور سپین کے قانونی شہری بن کر وطن عزیز کی بہتر طور پر خدمت کر سکیں۔”

پی ائی اے ڈائریکٹ بارسلونا سپین اوراوورسیزز پاکستانیوں کے دیگر مسائل جلد حل ھونگے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here