رائیونڈ کی ان تنگ گلیوں میں زندگی معمول کے مطابق رواں تھی، جہاں شفیق نامی ایک محنتی شخص اپنی اکیس سالہ رفاقت اور تین بچوں کے مستقبل کے لیے دن رات پسینہ بہاتا تھا۔
اسے گمان بھی نہ تھا کہ جس چھت تلے وہ سکون کی نیند سوتا ہے، وہیں اس کی موت کا جال بنا جا رہا ہے۔
کہانی کا آغاز تب ہوا جب شفیق کی چودہ سالہ بیٹی نے پندرہ سالہ عاطف سے چھپ کر تعلقات استوار کیے اور گھر میں ایک خفیہ موبائل فون داخل ہوا۔ شفیق کام پر جاتا تو پیچھے سے بیٹی اپنے آشنا کو گھر بلا لیتی۔
ایک دوپہر جب ماں نے بیٹی کو رنگے ہاتھوں پکڑا، تو معاشرے کی اخلاقیات دم توڑ گئیں؛ وہ ادھیڑ عمر خاتون، جو دو دہائیوں سے شفیق کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی، بیٹی کو روکنے کے بجائے خود بھی اسی نوجوان کی زلفوں کی اسیر ہو گئی۔ یوں ایک ہی چھت تلے ماں اور بیٹی نے ایک دوسرے کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کا بھیانک معاہدہ کر لیا۔
وقت گزرا تو شفیق کے بڑے بیٹے ذیشان کو بہن پر شک ہوا، تلاشی لینے پر موبائل تو برآمد ہو گیا مگر وہ اپنی ماں کے کالے کرتوتوں سے بے خبر رہا۔ اس نے غیرت کے نام پر خون بہانے کے بجائے عاطف کو شرافت سے سمجھایا کہ وہ رشتہ کروا دے گا، بس چوروں کی طرح آنا چھوڑ دے۔ لیکن ہوس کی آگ بجھنے والی نہ تھی۔ اور ذیشان یہ نا جانتا تھا کہ یہ سب معاملہ بہت پچیدہ ہو چکا، اُس کی بہن ہی نہیں، ماں بھی اس میں involve ہے۔
ایک دن شک کی بنیاد پر شفیق نے کام پر جانے کا بہانہ کیا اور چھپ کر گھر پر نظر رکھی۔ جیسے ہی عاطف اندر داخل ہوا، شفیق نے دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ بیٹی کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی، مگر شفیق نے شرافت کی انتہا کر دی؛ نہ شور مچایا نہ ہتھیار اٹھایا، بس عاطف کا گریبان پکڑ کر اسے آخری وارننگ دی اور بیوی کو سرزنش کی۔
بیوی پیروں میں گر کر معافی مانگنے لگی، معصوم صورت بیٹی نے بھی آنسو بہائے، اور اس نرم دل شخص نے سب کچھ بھلا کر انہیں معاف کر دیا۔
مگر یہی معافی اس کی زندگی کی سب سے بڑی بھول ثابت ہوئی۔ شفیق اب پہلے جیسا شفیق نہ رہا تھا؛ اس کا لہجہ تلخ اور برتاؤ سخت ہو گیا، وہ بات بات پر بیوی کو ٹوکتا اور بیٹی پر نظر رکھتا۔
ذیشان، جو اصل حقیقت سے ناواقف تھا، باپ کی اس سختی کو دیکھ کر کڑھتا رہا۔ ادھر قید ہو جانے والی آزادی کو دوبارہ پانے کے لیے ماں، بیٹی اور ان کے آشنا عاطف نے مل کر ایک لرزہ خیز منصوبہ ترتیب دیا۔
ایک رات جب شفیق تھکا ہارا گھر لوٹا، تو اسے کھانے میں نیند کی گولیاں دے دی گئیں۔ جوں ہی وہ گہری نیند کی وادیوں میں اترا، موت کا رقص شروع ہوا۔ بیوی نے اپنے آشنا عاطف کو گھر بلا لیا۔ اندھیری رات کے سناٹے میں ماں اور بیٹی نے شفیق کے ہاتھ جکڑے، بیٹے نے پاؤں پکڑے، اور عاطف نے دوپٹے کا پھندہ شفیق کی گردن میں ڈال کر اس وقت تک کسا جب تک اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز نہ کر گئی۔
لاش کو بیدردی سے گندے نالے میں پھینک دیا گیا تاکہ قصہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے، مگر قانون کے ہاتھ طویل ہوتے ہیں۔
دو دن بعد جب پولیس نے فیس بک پر ایک لاوارث لاش کی تصویر لگائی، تو رشتہ داروں نے شفیق کو پہچان لیا۔ جب پولیس تفتیش کے لیے گھر پہنچی تو بیٹی بدحواس ہو کر عاطف کے گھر جا چھپی اور وہاں خودکشی کی دہائیاں دینے لگی۔
لیکن موبائل ڈیٹا اور کال ریکارڈز نے سارا کچا چھٹا کھول کر رکھ دیا۔ گرفتاری کے بعد ذیشان کا کہنا تھا کہ وہ ماں اور بہن پر باپ کی سختی برداشت نہیں کر پایا، جبکہ عاطف نے انکشاف کیا کہ اسے ماں اور بیٹی دونوں نے “سچی محبت” کے واسطے دے کر اس قتل پر اکسایا تھا۔ رائیونڈ کی وہ گلی آج ایک عبرت کدہ بن چکی ہے، جہاں ہوس کی خاطر ایک بیٹے نے اپنے باپ کے پاؤں پکڑے تاکہ کوئی دوسرا اس کا گلا گھونٹ سکے۔