پولیس “پیٹرولیم سروس آف پاکستان” بن چکی ! پولیس میں نااہل ترین شخص کو وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے دفتر میں تعینات کیا ہوا ہے سابق (آئی جی) سندھ غلام شبیر شیخ

0
40

پولیس “پیٹرولیم سروس آف پاکستان” بن چکی ہے پسند و ناپسند کو میرٹ پر فوقیت دی جا رہی ہے

پولیس میں دنیا کے نااہل ترین شخص کو وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے دفتر میں تعینات کیا ہوا ہے

بوری بند لاشوں کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے

افسران بھاری رقوم دے کر اہم تعیناتیاں حاصل کرتے ہیں پھر انہی پوسٹنگز سے مالی فوائد حاصل کرتے ہیں

پولیس افسران کی منشیات فروشی سے لاعلمی نہیں بلکہ یہ دلچسپی کا معاملہ ہو سکتا ہے

اے این ایف کے قیام کے بعد پولیس کے بجٹ اور اختیارات میں کمی اور ذمہ داری تقسیم ہوئی ہے

سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس غلام شبیر شیخ نے ایک نجی ویب پلیٹ فارم کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں سندھ پولیس، صوبائی بیوروکریسی اور حکومتی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے متعدد سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس افسران مبینہ طور پر رقوم دے کر اہم تعیناتیاں حاصل کرتے ہیں، پھر انہی پوسٹنگز سے مالی فوائد حاصل کرکے آئندہ تعیناتیوں کے لیے سرمایہ جمع کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان پولیس سروس  کو طنزیہ انداز میں ’’پیٹرولیم سروس آف پاکستان‘‘ قرار دیا۔
غلام شبیر شیخ نے نام لیے بغیر پنجاب اور سندھ کے بعض اعلیٰ افسران کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک گریڈ 20 کے ڈی آئی جی کا تبادلہ محض اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ بااثر حلقوں کو مالی فوائد پہنچاتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر بھی بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ موجودہ نظام میں تعلقات اور پسند و ناپسند کو میرٹ پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ سندھ عبداللہ شاہ کو ایک بہترین منتظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نااہل یا بدعنوان افراد کو اپنے اردگرد برداشت نہیں کرتے تھے، جبکہ موجودہ دور میں صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔
سابق آئی جی نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں تعینات گریڈ 20 کے افسر فرخ بشیر پر بھی انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ’’دنیا کا نااہل ترین شخص‘‘ قرار دیا۔ غلام شبیر شیخ کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ افسر نے مبینہ طور پر تھانوں سے گاڑیاں غائب کروائیں، دو شوروم قائم کیے اور ایک شہری کی برآمد شدہ گاڑی، لیپ ٹاپ اور موبائل فون واپس کرنے کے بجائے اپنے قبضے میں رکھے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر کوئی شخص فرخ بشیر کی کارکردگی یا قابلیت کی حقیقی بنیادوں پر تعریف کر دے تو وہ اسے ایک لاکھ روپے انعام دینے کے لیے تیار ہیں۔
کراچی میں ماضی کے بوری بند لاشوں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے غلام شبیر شیخ نے ان واقعات کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر عائد کی۔ انہوں نے حالیہ ہائی پروفائل منشیات کیس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مبینہ کوکین ڈیلر انمول پنکی کو یقین تھا کہ پولیس اس کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر سکے گی کیونکہ وہ ماضی میں بھی مبینہ طور پر مالی اثر و رسوخ کے ذریعے قانونی گرفت سے بچتی رہی ہے۔
سابق آئی جی سندھ نے کہا کہ سندھ میں ’’پرو پولیسنگ‘‘ کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے اور پولیس کا نظام عوامی خدمت کے بجائے دیگر عوامل کے زیر اثر آ چکا ہے۔ انہوں نے منشیات فروشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی علاقے میں منشیات فروشی جاری ہے اور متعلقہ افسران لاعلم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو یہ لاعلمی نہیں بلکہ دلچسپی (Interest) کا معاملہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے ڈی آئی جی اسد رضا کا نام لیتے ہوئے بھی اسی تناظر میں سوالات اٹھائے۔
غلام شبیر شیخ نے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اے این ایف کے قیام کے بعد پولیس کے بجٹ اور اختیارات میں کمی آئی جبکہ منشیات کے خاتمے کی ذمہ داری بھی تقسیم ہو گئی۔ ان کے مطابق منشیات کی فروخت پر تنقید اور سوالات کا سامنا اب بھی پولیس کو کرنا پڑتا ہے، جبکہ اے این ایف کی کارکردگی پر عمومی طور پر کوئی بازپرس نہیں ہوتی۔

تاہم سابق آئی جی سندھ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات اور دعوؤں پر وزیراعلیٰ سندھ، سندھ حکومت، متعلقہ پولیس افسران یا دیگر نامزد شخصیات کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بشکریہ: مظہر جلالی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here