اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں صنفی تعصبات بے نقاب، مرد ملازم کو “پدری رخصت” دینے سے انکار، وفاقی محتسب کا سخت نوٹس

0
133

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آرٹیکل 38 عوام کی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کی ضمانت دیتا ہے اور ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ بغیر کسی امتیاز کے انسانی وقار کے مطابق کام کے حالات، منصفانہ سلوک اور سماجی انصاف کو یقینی بنائے۔ انہی آئینی ضمانتوں کی توثیق کرتے ہوئے وفاقی محتسب نے صنفی بنیادوں پر امتیاز برتنے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا، کیونکہ ادارے نے ایک مرد ملازم کو پدری رخصت دینے سے انکار کیا، حالانکہ اسی وفاقی قانون کے تحت خواتین ملازمین کو  دی جا رہی تھی۔

سخت الفاظ میں جاری کیے گئے حتمی حکم میں وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ پدری رخصت سے انکار، پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ، 2010 کے تحت صنفی بنیادوں پر امتیاز کی صورت میں ہراسمنٹ کے مترادف ہے۔ یہ شکایت اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ایک افسر کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس کی  دن کی پدری رخصت کی درخواست محض اس بنیاد پر مسترد کر دی گئی کہ متعلقہ پالیسی موجود نہیں، حالانکہ قانون نافذ العمل تھا۔

حکم میں ادارہ جاتی خودمختاری کے اس دیرینہ مؤقف کو بھی قطعی طور پر مسترد کر دیا گیا جو قانونی حقوق سے انکار کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ، 1956، اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن آرڈیننس، 2001، رولز آف بزنس، 1973 اور لاہور ہائی کورٹ میں اسٹیٹ بینک کے اپنے مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد فورم نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک وفاقی حکومت کی ملکیت، کنٹرول اور نگرانی میں ہے اور اس کی مکمل ذیلی ادارہ اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن وفاقی فلاحی قانون سازی کے اطلاق سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتی۔

وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ  پدری رخصت سے انکار فرسودہ صنفی تصورات کو فروغ دیتا ہے اور آئین کے آرٹیکلز 25، 27 اور 37 کے ساتھ ساتھ مساوات، انسانی وقار اور خاندانی تحفظ کے آئینی تصور کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حکم میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں، اور پدری رخصت سے انکار مشترکہ والدین کی ذمہ داری، زچگی کی صحت اور بچے کے بہترین مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔

چونکہ امتیاز ثابت شدہ اور ناقابلِ تردید تھا، فورم نے اسٹیٹ بینک پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، جس میں سے چار لاکھ روپے بطور ہرجانہ شکایت کنندہ کو ادا کیے جائیں گے جبکہ ایک لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے جائیں گے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ شکایت کنندہ کو مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پدری رخصت دی جائے اور اپنی لیو پالیسی  سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے۔

یہ فیصلہ ایک واضح اور غیر مبہم پیغام دیتا ہے کہ قانونی حقوق کو اندرونی پالیسیوں کے ذریعے پامال نہیں کیا جا سکتا اور کام کی جگہ پر صنفی برابری کوئی اختیاری امر نہیں۔ طاقتور وفاقی ادارے بھی آئینی ضمانتوں اور فلاحی قانون سازی کے پابند ہیں، اور کسی بھی قسم کا امتیاز سخت قانونی نتائج کا باعث بنے  گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here