تحریر:طاہر محمود چوہدری
آج سے 47 سال قبل مارچ، 1975 ء میں ضلع کچہری گجرات کی گول عدالت میں اس وقت کے گجرات سے ممبر پنجاب اسمبلی اور صوبائی وزیر مال و آبپاشی رہے چوہدری محمد انور سماں ایڈووکیٹ کا بہیمانہ قتل ہوا تھا۔ بعد ازاں چوہدری اعتزاز احسن نے مرحوم انور سماں کی وفات سے خالی ہونے والی پنجاب اسمبلی کی اس نشست سے بلامقابلہ کامیاب ہو کر اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا۔ اس بلامقابلہ کامیابی کے بعد انہیں پنجاب کابینہ میں اطلاعات، پلاننگ اور ڈیویلپمنٹ کی وزارتیں دی گئیں۔
اس طرح مرحوم چوہدری انور سماں کا قتل ایک لحاظ سے چوہدری اعتزاز احسن کی سیاست کا آغاز ثابت ہوا۔ آئین، قانون اور جمہوریت کے علمبردار چوہدری اعتزاز احسن کی اس وقت کی حکومت کے اثر و رسوخ اور انتظامیہ کے کندھوں پر سوار ہو کر پہلی بار 1975 ء میں بلامقابلہ ایم پی اے بننے کی کہانی کافی دلچسپ ہے۔ یہ کہانی مجھے کچھ عرصہ پہلے ان واقعات کے چشم دید اور سال ہا سال ڈسٹرکٹ بار گجرات میں پریکٹس کرنے والے قانون دان چوہدری احسن وڑائچ ایڈووکیٹ نے سنائی تھی۔ چوہدری احسن آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔
آج کل خبروں کی زینت بنے چوہدری اعتزاز احسن کی سیاست میں آمد کی کہانی سنانے سے پہلے تھوڑا تذکرہ چوہدری انور سماں کا ہو جائے۔ چوہدری اعتزاز احسن کے سیاست میں عروج کا باعث بننے والے گجرات کے سیاست دان چوہدری انور سماں ایڈووکیٹ کا تعلق گجرات شہر سے ملحقہ موضع سماں سے تھا۔ وہ 1970 ء کے انتخابات میں گجرات سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی۔ 20 (گجرات۔ II) سے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔ چوہدری انور سماں کو بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب کابینہ میں شامل کیا۔ اور انہیں وزیر مال و آبپاشی مقرر کیا گیا تھا۔
مارچ، 1975 ء میں ایک دن چوہدری انور سماں اپنے خلاف قتل کے ایک مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں ضلع کچہری گجرات میں واقع ایس پی آفس میں ڈی ایس پی (صدر) کے پاس آئے ہوئے تھے۔ انکوائری سے فارغ ہو کر وہ اپنے باڈی گارڈز کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے ایس پی آفس گجرات کے بالمقابل اپنے مجسٹریٹ دوست سے ملنے ان کی عدالت کی طرف چلے گئے۔ انور سماں اور ضلع کچہری گجرات میں تعینات مجسٹریٹ کی دوستی کا سب کو علم تھا۔ اور یہ بات بھی اکثر لوگ جانتے تھے کہ وہ جب بھی ضلع کچہری آتے، تو اپنے اس مجسٹریٹ دوست سے ملنے اس کے دفتر ضرور جاتے تھے۔ انور سماں کو قتل کروانے کے لیے اسی چیز کا فائدہ اس کے مخالفین نے اٹھایا تھا۔
چوہدری محمد انور سماں (مرحوم) (سابق وزیر مال پنجاب)
مجسٹریٹ کی عدالت پہنچ کر ان کے باڈی گارڈ گول عدالت کے برآمدے میں کھڑے ہو گئے اور جونہی انور سماں عدالت کے اندر داخل ہوئے تو دروازے کے اندر کی جانب چادر کی بکل مارے کھڑے ایک شخص ارشاد عرف شادے نے کاربین نکال کر بہت قریب سے چوہدری انور سماں پر پشت کی جانب سے ایک ہی فائر کیا۔ جس سے وہ شدید زخمی ہو کر وہیں گر گئے۔ انور سماں ہی کے گاؤں سے تعلق رکھنے والے قاتل شادے نے بھاگنے کی بجائے فوراً وہیں اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ جس پر انور سماں کے محافظوں نے موقع پر ہی قابو پا لیا۔
انور سماں کو زخمی حالت میں ڈی ایس پی صدر کی جیپ میں عزیز بھٹی شہید ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ چوہدری انور سماں کا قتل بظاہر تو خاندانی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، مگر بہت سے لوگوں کی یہ رائے ہے کہ درحقیقت یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گجرات میں کرایا گیا ایک سیاسی قتل تھا۔ 1975 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی خصوصی طور پر چوہدری انور سماں کی وفات پر اظہار افسوس کے لیے ہیلی کاپٹر پر گجرات میں موضع سماں تو آئے تھے۔ مگر افسوس کہ چوہدری انور سماں کی فیملی کو انصاف نہیں دلا سکے تھے۔
چوہدری اعتزاز احسن نے مرحوم چوہدری انور سماں کی وفات سے خالی ہونے والی پنجاب اسمبلی کی اس نشست سے بلامقابلہ کامیاب ہو کر اپنی سیاست کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس طرح انور سماں کا قتل ایک لحاظ سے چوہدری اعتزاز احسن کی سیاست کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ آئیے چوہدری اعتزاز احسن کی چوہدری انور سماں کے قتل کے بعد خالی ہونے والی ایم پی اے کی اس نشست پر بلا مقابلہ کامیابی کی کہانی اور تاریخ کے اس خفیہ گوشے سے پردہ اٹھاتے ہیں۔
1975 ء میں چوہدری انور سماں کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی نے اس نشست پر ٹکٹ دینے کا فیصلہ گجرات کے موضع منگووال کی سیاسی شخصیت چوہدری محمد احسن (علیگ) کے نوجوان صاحبزادے بیرسٹر اعتزاز احسن کے حق میں دیا۔ جو 1967 ء میں انگلینڈ سے بیرسٹر بن کر آئے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اعزاز احسن نے اپنی پریکٹس کا آغاز گجرات کی بجائے لاہور سے کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں کئی نوجوان وکلاء کو سیاست کے میدان میں متعارف کرایا، جنھوں نے بعد ازاں خوب نام کمایا۔ انہی میں سے ایک اعتزاز احسن بھی تھے۔
گجرات سے 1970 ء کے انتخابات میں کئی نوجوان وکلاء کو ٹکٹ دیے گئے تھے۔ جن میں چوہدری منظور دھدرا، میاں افضل حیات، انور سماں اور امان اللہ لک وغیرہ شامل تھے۔ اور اسی بنا پر ایک بار پھر 1975 ء میں نوجوان بیرسٹر اعتزاز احسن کے حق میں فیصلہ ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو سمیت پارٹی کا یہ بھی فیصلہ تھا کہ چوہدری اعتزاز احسن کو ہر صورت گجرات سے بلامقابلہ ایم پی اے منتخب کرایا جائے۔
ضمنی انتخاب کے لیے اس نشست پر اعتزاز احسن سمیت سات آٹھ لوگوں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ مگر ضلعی انتظامیہ نے زور زبردستی اور دھونس کے ذریعے کئی امیدواروں کو یا تو زبردستی اعتزاز احسن کے حق بٹھا لیا تھا، جو نہ بیٹھے انہیں پولیس کے ذریعے اٹھا لیا گیا تھا۔ کٹھالہ سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار چوہدری محمد سرور ایڈووکیٹ کے سوا باقی تمام امیدواروں کو ضلعی انتظامیہ نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع نہ کروانے یا جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔
1975 ء میں ان دنوں گجرات میں ایس ایس پی کا چارج سید باقر علی شاہ ایس پی کے پاس تھا۔ باقر شاہ بڑے سخت گیر اور جابر قسم کے ایس پی مشہور تھے۔ چوہدری احسن ایڈووکیٹ کے بقول ”ان دنوں لڑکوں میں لمبے بال رکھنے کا رجحان عام تھا۔ باقر شاہ ایس پی کو لمبے بال سخت ناپسند تھے۔ ان کی فرعونیت کا یہ عالم تھا کہ وہ اکثر اپنی جیپ رکوا کر راہ چلتے لڑکوں، خصوصاً طلباء کو روک ان کی ٹنڈ کروا دیتے یا ان کے بالوں میں کٹ لگوا دیتے تھے۔“
اس وقت کی پی پی پی حکومت کی جانب سے ڈی سی اور ایس پی باقر شاہ کو سختی کے ساتھ ہدایات تھیں کہ جو کچھ مرضی کرو، اعتزاز احسن کو ہر صورت بلامقابلہ کامیاب ہونا چاہیے۔ اب ہوا یوں کہ موضع کٹھالہ سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار چوہدری سرور ایڈووکیٹ کے سوا باقی سارے امیدوار پولیس نے اعزاز احسن کے حق میں بٹھا لیے۔
کاغذات نامزدگی واپس لینے کی تاریخ سے چند روز پہلے چوہدری سرور پرسرار طور پر روپوش ہو گئے۔ پولیس نے کٹھالہ میں اس کے گھر سمیت اس کے رشتے داروں اور ارد گرد کے علاقوں میں اس کے دوست احباب کے گھروں پر بھی چھاپے مارے، مگر سرور کا کہیں سے بھی کوئی سراغ نہ مل سکا۔
ضلعی انتظامیہ کو جب سرور کی تلاش میں ہر جگہ سے ناکامی ہوئی تو پولیس نے اپنا روایتی حربہ آزمایا۔ چوہدری سرور کے بزرگ والد کو گرفتار کر لیا گیا۔ سرور سمیت ان کے والد کے خلاف بھینسوں کی چوری سمیت کئی قسم کے جھوٹے مقدمے بنا دیے گئے۔ ان دنوں عالم یہ تھا کہ پولیس ہر روز ایک نئی ایف آئی آر چوہدری سرور کے خلاف کاٹ دیتی۔ مگر پھر بھی پولیس کو کامیابی نہ ہوئی۔ جوں جوں کاغذات نامزدگی واپس لینے کی تاریخ قریب آ رہی تھی توں توں پولیس کے ہاتھ پاؤں پھولتے جا رہے تھے۔
چوہدری اعتزاز احسن کے مخالف امیدوار چوہدری سرور ایڈووکیٹ، پنجاب یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں چوہدری اعتزاز احسن کے شاگرد رہ چکے تھے۔ اعتزاز احسن چاہتے تھے کہ سرور ایک بار ان کے سامنے آ کر کہہ دے کہ وہ ان کے مقابلے میں انتخاب لڑنا چاہتا ہے۔ یقیناً انہیں یہی امید ہو گی کہ ان کا شاگرد اپنے استاد کے احترام میں ان کے روبرو آ کر ان کے مد مقابل انتخاب لڑنے سے انکار کر دے گا۔ شاید اسی لیے چوہدری سرور نے بھی اپنے استاد کے سامنے آنے کی بجائے اپنے آپ کو روپوش کیا ہوا تھا۔
چوہدری اعتزاز احسن کے مقابلے میں چوہدری سرور کو اس وقت کی دیگر سیاسی پارٹیوں اور خصوصاً چوہدری ظہور الٰہی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ پیپلز پارٹی اس وقت مقبول جماعت تھی۔ اگر پی پی پی اور چوہدری اعتزاز احسن اپنے شاگرد چوہدری سرور کو دستبردار کروانے کے لیے انتظامیہ کے ذریعے اتنے پاپڑ نہ بھی بیلتے تو پھر بھی چوہدری اعتزاز احسن نے آسانی کے ساتھ جیت جانا تھا۔ مگر اس وقت ان کے سروں پر انہیں بلامقابلہ منتخب کروانے کا بھوت سوار تھا۔
ادھر چوہدری سرور نے بھی پولیس سے چھپنے کا ہر ممکن تہیہ کیا ہوا تھا۔ وہ کبھی ایک ڈیرے پر تو کبھی دوسرے پر رات گزارتا۔ دن کے وقت فصلوں میں چھپا رہتا۔ کٹھالہ میں اس کے گھر سمیت ہر جگہ پولیس نے اپنے مخبروں کے ذریعے مسلسل نگاہ رکھی ہوئی تھی۔
Pakistan in the World – July / Aug 2024
ایک رات کسی مخبر نے رات گئے سرور کے گھر سے نکلنے والے ایک شخص کا پیچھا کیا، جو سرور کو قریبی گاؤں کے ایک ڈیرے پر کھانا پہنچانے جا رہا تھا۔ دن چڑھے یہ اطلاع پولیس تک بھی پہنچ گئی۔ اور پھر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح کٹھالہ سمیت ارد گرد کے دیہات میں بھی پھیل چکی تھی کہ سرور کا پتہ چل گیا ہے۔ ”
کینیڈا میں مقیم چوہدری احسن ایڈووکیٹ کے بقول جو اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں نے مجھے بتایا کہ ”وہ ان دنوں آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ اس دن جب گاؤں کے درجنوں لوگ اور“ منڈیکا ”یعنی بچہ پارٹی کے ہمراہ جن میں وہ خود بھی شامل تھے۔ چوہدری سرور کو لینے پولیس پارٹی کے ہمراہ گاؤں سے باہر ایک ڈیرے پر گئے تھے۔
چوہدری سرور ناگہانی طور پر ایک ہجوم کو اپنی جانب آتے دیکھ کر ڈیرے سے ملحقہ دو تین ایکڑ پر مشتمل قریبی کماد کے کھیتوں میں چھپ گئے۔ اس سے پہلے کہ سب لوگ اسے تلاش کرنے کماد کے اندر داخل ہوتے، سرور کے ایک عزیز نے یہ صورت حال دیکھ کر اسے آواز لگائی کہ ”سرور اب چھپنے کا کوئی فائدہ نہیں، بہتر یہی ہے کہ اب تم باہر آ جاؤ۔“ جب اور کوئی چارہ کار نہ رہا تو پھر تھوڑی دیر بعد سرور ان کی آواز پر گنے کے کھیتوں سے باہر آ گئے۔ آخر وہ اس سسٹم کے آگے کہاں تک بھاگ سکتے تھے۔ ”
چوہدری احسن کا کہنا ہے کہ ”ایک ہجوم کی صورت میں چوہدری سرور کو کٹھالہ لایا گیا۔ جہاں اس کی ملاقات چوہدری اعتزاز احسن سے کرائی گئی۔ جو اس کے ملنے پر خصوصی طور کٹھالہ پہنچے تھے۔ ضلعی انتظامیہ خصوصاً سید باقر شاہ ایس پی کی مداخلت اور زور زبردستی کے“ دستبرداری مذاکرات ”کے بعد گورنمنٹ مڈل سکول کٹھالہ میں منعقد ہوئے ایک اجتماع میں ایک شاگرد نے اپنے استاد کے حق میں انتخاب سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر زور دار تالیاں بجیں، اور آخری امیدوار کے دستبردار ہونے کی خوشی میں شرکاء میں مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔
چوہدری سرور کے چوہدری اعتزاز احسن کے حق میں دستبردار ہوتے ہی اس کے والد بھی رہا ہو گئے اور ان سمیت خاندان کے باقی افراد کے خلاف کٹے ہوئے درجنوں پرچے بھی ختم ہو گئے۔ اور یوں چوہدری اعتزاز احسن حکومتی آشیرباد اور انتظامیہ کے کندھوں پر سوار ہو کر بلامقابلہ پنجاب اسمبلی پہنچ گئے۔ جہاں جاتے ہی انہیں وزیر بھی بنا دیا گیا۔ اور یوں اپنی اس پہلی بلامقابلہ کامیابی کے بعد ، بعد ازاں وہ اپنی صلاحیتوں کی بدولت سیاست اور وکالت میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ایک بڑے آدمی بھی بن گئے۔ مگر سیاست میں ان کی ابتدائی اٹھان کیسے ہوئی تھی اس کے متعلق آج بہت کم لوگ واقف ہیں۔ ”
مگر جیسے کہا جاتا ہے کہ ”ہر بڑے انسان کی کامیابی یا دولت کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی یا کہیں نہ کہیں کوئی جرم چھپا ہوا ہوتا ہے۔“ ۔ بظاہر، بلکہ بادی النظر میں یہاں بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔ چوہدری سرور ایڈووکیٹ اپنے استاد کے احترام اور مواقع نہ ملنے کے باعث چوہدری اعتزاز احسن کی طرح بڑے آدمی تو نہ بن سکے مگر انہوں نے اس بوسیدہ سسٹم کے آگے اپنے تئیں کھڑا ہونے کی کوشش تو بہرحال کی۔ مگر ہمارے سسٹم کا یہی المیہ ہے کہ یہ کمزور کی بجائے طاقتور کو مزید توانا بنانا ہے۔
اس واقعہ کے حوالے سے چوہدری اعتزاز احسن کا موقف معلوم کرنے کے لیے میں نے گجرات میں چوہدری اعتزاز احسن کے بچپن کے دوست چوہدری اعظم سے رابطہ کیا۔ اور ان سے درخواست کی کہ وہ چوہدری صاحب کا موقف معلوم کر کے دیں یا براہ راست گفتگو کے لیے مجھے ان کا نمبر فراہم کر دیں۔ انہوں نے ہر دو صورتوں میں تعاون کا وعدہ کیا۔
تاہم چوہدری اعظم نے اسی سے متعلقہ مجھے ایک اور واقعہ بھی سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”جب 1975 ء میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو چوہدری انور سماں کی وفات پر اظہار تعزیت کے لیے موضع سماں آئے۔ تو ہیلی پیڈ کے پاس ذوالفقار علی بھٹو کا استقبال کرنے والے گجرات پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کے علاوہ استقبالیہ قطار میں انور سماں کی سیٹ پر ٹکٹ کے خواہش مند متعدد ایسے امیدوار بھی شامل تھے جو بغلوں میں فائلیں دبائے کھڑے تھے۔
بھٹو سے ہاتھ ملاتے ہوئے وہ ٹکٹ کی درخواستیں بھی انہیں دیتے جا رہے تھے۔ اس موقع پر بھٹو نے اپنے ملٹری سیکرٹری سے پوچھا کہ ان فائلوں میں کیا ہے؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ سب انور سماں کی وفات سے خالی ہونے والی سیٹ پر پارٹی ٹکٹ کے امیدوار ہیں۔ اس پر بھٹو صاحب نے وہیں کھڑے کھڑے سب سے کہہ دیا کہ انہوں نے اس حلقے سے ایک ذہین اور قابل نوجوان بیرسٹر اعتزاز احسن کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ”
چوہدری اعظم نے اپنی گفتگو میں مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ جلد چوہدری اعتزاز احسن کا موقف معلوم کر کے انہیں آگاہ کریں گے۔ مگر بعد ازاں متعدد بار ان کے واٹس ایپ نمبر پر اس بابت پیغامات چھوڑے گئے۔ اور کی گئی کالوں کا انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔
اس واقعہ سے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے میں نے گجرات میں چوہدری اعتزاز احسن کے دیرینہ دوست اور انتخابی قوانین کے ماہر بزرگ قانون دان، 83 سالہ چوہدری مسعود اختر ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا۔ جن کا کہنا تھا کہ ”وہ اس وقت کی انتظامیہ کی جانب سے 1975 ء میں ہونے والے ایم پی اے کے ضمنی انتخاب میں چوہدری اعتزاز احسن کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کو زور زبردستی دستبردار کروانے کی نہ تو تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی تردید۔“
تاہم چوہدری مسعود اختر نے مزید بتایا کہ ”وہ اس انتخاب سے جڑے کچھ واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ اس وقت چوہدری اعتزاز احسن کے مقابلے میں درخواست دینے والے متعدد امیدواروں میں سے دو امیدواروں نے انتخاب سے دستبردار ہونے کے عوض اپنے کچھ مطالبات پورے کروانے کے لیے انہیں (چوہدری مسعود اختر ایڈووکیٹ) کو اپروچ کیا تھا کہ اگر ان کے یہ مطالبات پورے کر دیے جائیں یا کم از کم پورے کرنے کے وعدے کر لیے جائیں تو وہ انتخاب سے دستبردار ہو جائیں گے۔
ان میں سے ایک تو موضع مہسم کے انور تھے، جبکہ دوسرے امیدوار دریا والی سائیڈ کے ایک نوجوان وکیل تھے۔ جن کا نام اب انہیں یاد نہیں ہے۔ انور مہسم کا مطالبہ غالباً اپنے والد یا خالہ کے بیٹوں کے ایک کیس کے حوالے سے تھا کہ اگر وہ ختم کروا دیا جائے تو وہ دستبردار ہو جائیں گے۔ ان کے اس مطالبے کی انہوں نے حامی بھر لی تھی کہ وہ اسے تو اپنی ذاتی حیثیت میں ختم کروا دیں گے۔
جبکہ دوسرے وکیل امیدوار محکمہ فیملی پلاننگ میں ملازمت کے حصول کے متمنی تھے۔ جن کو بھی دستبردار ہونے کے عوض ملازمت دینے کا وعدہ کر لیا گیا تھا۔ جو بعد میں مطلوبہ ملازمت دے کر پورا بھی کر دیا گیا۔ تاہم کچھ عرصے کے بعد وہ وکیل صاحب ملازمت چھوڑ کر امریکہ چلے گئے تھے۔ ”
چوہدری مسعود اختر ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ”باقی امیدواروں کو جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہیں انتظامیہ نے زور زبردستی چوہدری اعتزاز احسن کے مقابلے میں انتخاب سے دستبردار کروایا تھا یہ ان کے علم میں نہیں ہے۔“
معروف کالم نگار، اینکر اور سابق بیوروکریٹ اوریا مقبول جان نے بھی اپنے ایک کالم بعنوان ”چوہدری ظہور الٰہی کی گمشدہ سیاسی روایت“ (جولائی، 2022 ء روزنامہ 92 لاہور ) میں 1975 ء میں گجرات میں ہوئے اس ضمنی انتخاب سے متعلق کچھ روشنی ڈالی ہے۔ اوریا مقبول جان ان دنوں گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات میں طالب علم تھے۔ اور کالج کی سٹوڈنٹ یونین میں کافی فعال تھے۔ وہ اپنے کالم میں یوں رقمطراز ہیں۔
” گجرات کی ایک نشست پر ضمنی الیکشن آ گئے۔ بھٹو مقابلہ برداشت نہیں کیا کرتا تھا۔ اس الیکشن سے پہلے گجرات شہر میں انور سماں کے قتل کے بعد اعتزاز احسن کو ٹکٹ ملا تو “ بیچارے ڈپٹی کمشنر ”کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ اسے بلا مقابلہ جیتنا چاہیے۔ اس“ غریب ”نے چوبیس امیدواروں کو ایسا غائب کیا کہ کوئی کاغذات نامزدگی جمع کروانے نہ آ سکا اور بیرسٹر اعتزاز احسن بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔“
چوہدری احسن ایڈووکیٹ نے مجھے بتایا کہ ”بعد ازاں چوہدری اعتزاز احسن کے مقابلے میں دستبردار ہونے والے آخری امیدوار چوہدری سرور کچھ عرصے بعد اپنی فیملی کے ہمراہ پاکستان سے بیرون ملک (آئرلینڈ) منتقل ہو گئے تھے۔ جہاں انہوں نے آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں اپنا گارمنٹس کا کاروبار شروع کیا۔ جو بعد ازاں خوب پھلا پھولا۔ چوہدری سرور نے اپنی باقی ماندہ زندگی آئرلینڈ میں ہی گزاری۔
آئرلینڈ کی مصروف زندگی اور فکر معاش کی اسی تگ و دو میں چوہدری سرور کو کینسر جیسے موذی مرض نے آن گھیرا۔ کینسر سے زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے گزشتہ سال 2021 ء کے وسط میں چوہدری سرور اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ورثاء نے ان کی تدفین آئرلینڈ میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے چوہدری سرور چند دنوں کے لیے پاکستان میں اپنے گاؤں کٹھالہ بھی آئے۔ جہاں اپنے عزیزوں سے ملنے کے بعد وہ خاموشی سے واپس آئرلینڈ لوٹ گئے تھے۔
Pakistan in the World – June/July 2024