لوگوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنسا کر بلیک میل کرنا، پیسہ بنانا بزنس بن چکا

0
372
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور
میں توہین مذہب کے کچھ مقدمات میں بطور وکیل پیش ہو رہا ہوں۔ احمد نورانی کی اسٹوری سو فیصد درست ہے۔ لوگوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنسا کر انہیں بلیک میل کرنا، پیسہ بنانا اب باقاعدہ ایک بزنس بن چکا ہے۔ اس گروپ میں وکیل بھی شامل ہیں، ایف آئی اے اہلکار بھی۔ آج ہائیکورٹ کے ایک جج صاحب کا استعفی سامنے آیا ہے۔ احمد نورانی کی توہین مذہب کاروبار سے متعلق ایک اور حالیہ اسٹوری میں ان جج صاحب کا نام بھی آیا تھا۔
توہین مذہب کے مقدمات میں مدعی گھوم پھر کر چند ہی لوگ ہیں۔ کہانی بھی تقریبا ایک جیسی ہوتی ہے کہ کسی نے مجھے توہین آمیز مواد پھیلانے والے گروپ میں شامل کیا جہاں میں نے دیکھا کہ فلاں بندے نے توہین آمیز پوسٹ شیئر کی ہے۔ یا یہ کہ فلاں بندے نے مجھے توہین آمیز مواد پر مبنی پوسٹ میرے وٹس ایپ یا میسنجر پر بھیجی۔
طریق واردات ایک ہی تھا نوجوان لڑکیوں کے زریعے معصوم لڑکے اور لڑکیوں کو واٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا گرپوں میں ایڈ کیا جاتا ۔اچانک گروپ میں کوئی توہین آمیز مواد شئیر ہوتا ۔شکار گروپ ایڈمن کی لڑکی کو بتاتا تو وہ حیرانگی کا اظہار کرتی اور توہین آمیز مواد بھیجنے کا کہتی ۔یہاں پر شکار پھنس جاتا ۔جیسے ہی توہین آمیز مواد بھیجتا ساری سابقہ چیٹ ڈیلیٹ کر دی جاتی اور شکار قانون کی دسترس میں آجاتا ۔اس موقع پر بلاسفیمی بزنس گروپ کے ایف آئی اے میں موجود اور دیگر کردار حرکت میں آتے اور پھر دردناک کہانی شروع ہو جاتی ۔
سوچیے۔ یہ توہین آمیز پوسٹ یا مواد گھوم پھر کر پاکستان میں ان چند لوگوں کوہی کیوں بھیجا جاتا ہے؟ جس پر وہ جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر ایف آئی آر درج کروا دیتے ہیں۔ توہین بزنس گروہ میں موجود لوگ دنوں میں امیر ہوئے ہیں۔
عدالتوں میں بھی ان کی اجارہ داری ہے۔ الزامات ہی اتنے سنگین ہوتے ہیں کہ زیادہ تر جج کی بھی جرات نہیں ہوتی کہ ملزم کو ریلیف دے۔ ججز ان مقدمات میں پریشر کا شکار ہیں۔ توہین کے مقدمات میں ملزمان کی پیروی کرنے والے وکلا کو عدالت میں جج کے سامنے بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
لاہور میں جن عدالتوں میں توہین مذہب کے ملزمان کے ٹرائل چل رہے ہیں ان عدالتوں کے باہر اور قریبی راہداریوں میں جابجا “تحفظ ختم نبوت” کی تختیاں لگائی گئی ہیں۔ یہ تختیاں حکومت یا عدالتی افسران نے نہیں لگائیں بلکہ وکلا کی ایک نجی تنظیم نے لگائی ہوئی ہیں۔
چن کر ان عدالتوں اور قریبی راہداریوں میں ان تختیوں کا لگایا جانا چہ معنی دارد جو عدالتیں خاص توہین کے مقدمات سننے کیلئے مخصوص ہیں؟ کیا یہ ججز کیلئے پیغام یا دھمکی ہے؟ کہ اپنی عدالت آتے جاتے اس پیغام اور اس تنظیم کے عہدیداروں سے متعلق ذہن میں رکھیں؟

Another Woman Suicide Bomber ! Another Attack ! Another Damage to Security of Pakistan – Chronology , Causes, Cure by Tazeen Akhtar

توہین کا بزنس کرنے والے گروپ کے نام اب بڑے واضح ہیں۔ ایک کمیشن بیٹھے اور دیکھے کہ یہ توہین آمیز مواد چند لوگوں کے ساتھ ہی کیوں شیئر ہوتا ہے اور گھوم پھر کر یہی چند نام ہی ان مقدمات میں مدعی کیوں بنتے ہیں؟ کوئی توہین کرنے والا اتنا بیوقوف کیوں ہو گا کہ اپنے فون نمبر یا سوشل میڈیا اکاونٹ سے ڈھونڈ کر ان لوگوں کو ہی توہین آمیز مواد بھیجے جو ان کیسز میں ایف آئی آرز کروانے کیلئے جانے جاتے ہیں۔
محکمہ داخلہ (اسپیشل برانچ) کی رپورٹ بھی موجود ہے جس میں اس گروپ کے لوگوں کے نام لے کر بتایا گیا ہے کہ یہ یہ لوگ توہین بزنس کر رہے ہیں۔ ٹریپ کا شکار نوجوان بچے جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی ایک رپورٹ جس میں توہین بزنس کو ایکسپوز کیا گیا تھا کے مندرجات کو عدالت میں چیپنج کیا گیا تھا۔ حیران کن طور پر یہ پٹیشن جسٹس چودھری عبدالعزیز کی عدالت میں لگی۔ جج صاحب نے چند روز قبل 24 فروری کو اس رپورٹ پر حکم امتناع جاری کیا تھا اور اب ان کا استعفی سامنے آیا ہے۔ احمد نورانی پہلے ہی اپنی اسٹوریز میں ان جج صاحب کا نام لے چکے ہیں اور توہین بزنس گروپ کے کرتا دھرتا وکیل اور ان جج صاحب کا تعلق بھی بتا چکے ہیں۔ تصویر بھی موجود ہے۔
کوئی ادارہ مجھ سے میرے ان کیسز کی تفصیلات کیلئے رابطہ کرتا ہے جن میں میں بطور وکیل پیش ہوا تو ضرور شیئر کروں گا۔
انصاف کیجیے۔ اگر کوئی واقعی توہین کی نیت سے توہین آمیز مواد شیئر کرتا ہے تو قانون کے مطابق اسے سزا دیں لیکن اگر نوجوانوں کو لڑکیاں دکھا کر یا لڑکیاں استعمال کر کے ٹریپ کیا جا رہا ہے۔ ان سے پیسہ بنایا جا رہا ہے تو اس گروپ تک پہنچا جائے۔ اصل توہین یہ لوگ کر رہے ہیں۔ انہیں پکڑا جائے۔

Pakistan in the World – February 2025

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here