بنگلہ دیش-پاکستان لیڈرشپ اینڈ انوویشن ایکسچینج کا اختتام: باہمی تعاون کے روشن امکانات

0
263

 اسلام آباد، پاکستان | 9 اکتوبر 2026

09 اکتوبر کو، بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے نجی شعبے کے چھ رکنی وفد نے پاکستان کے اپنے چار روزہ دورے کا اختتام کیا۔ اس دورے نے تعلیمی، میڈیا، ترقیاتی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں سے وابستہ رہنماؤں کو یکجا کیا تاکہ عوامی سطح پر رابطوں کو مضبوط بنایا جا سکے، علم کا تبادلہ ہو، ادارہ جاتی شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے اور طویل مدتی تعاون کے مواقع کی نشاندہی کی جا سکے۔

‘جابز ڈی سی’ (JOBS DC) کی جانب سے اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے لیے سینئر مشیر جناب عمران شوکت اور اٹلانٹک کونسل کے نان ریزیڈنٹ سینئر فیلو جون ڈینیلووچ کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس دورے نے وفد کو پاکستان کے ممتاز اداروں، ٹیکنالوجی تنظیموں، ترقیاتی امور کے اسٹیک ہولڈرز اور نجی شعبے کے نیٹ ورکس کے ساتھ روابط استوار کرنے کے مواقع فراہم کیے۔

دورے کے دوران وفد نے تبادلہ لیب (Tabadlab)، کرن‌ انداز (Karandaaz)، گلوب سائٹ (Globesight)، نیشنل انکیوبیشن سینٹر اسلام آباد، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB)، نادرا (NADRA) اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (STZA) کے ساتھ بات چیت کی۔ ان مذاکرات میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل خدمات، انٹرپرینیورشپ (کاروباری نظام)، جدت طرازی، ٹیکنالوجی، ادارہ جاتی ترقی اور کاروباری شراکت داری کے شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔

ان ملاقاتوں میں باہمی تعاون کا مضبوط جذبہ نمایاں رہا؛ پاکستانی اداروں اور اسٹیک ہولڈرز نے اپنی مہارت شیئر کرنے، مستقبل کے روابط کو آسان بنانے اور بنگلہ دیش میں متعلقہ اقدامات کی حمایت کے مواقع تلاش کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ان ملاقاتوں نے دونوں ممالک کے کاروباری افراد، جدت کاروں اور ترقیاتی تنظیموں کے درمیان علم کے تبادلے، ادارہ جاتی روابط اور ممکنہ شراکت داری کی راہیں بھی ہموار کیں۔

اس دورے کا ایک اہم پہلو وفد کا ٹیکسلا میوزیم اور گندهارا تہذیب کے قدیم تاریخی مقامات کا دورہ تھا، جس سے خطے کی مشترکہ تاریخ اور ثقافتی روابط کو سمجھنے اور سراہنے کا موقع ملا۔ وفد نے سفارتی، کاروباری اور پیشہ ورانہ برادریوں کے ساتھ میل جول کے ذریعے پاکستان کی مہمان نوازی کا بھی تجربہ کیا، جس میں پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان کی جانب سے دیے گئے ظہرانے کی تقریب بھی شامل تھی۔

چار روزہ نتیجہ خیز اجلاسوں اور پیشہ ورانہ روابط کے ساتھ ساتھ پاکستانی کھانوں، ثقافت، ورثے اور مقامی لوگوں کے ساتھ پُرتپاک میل جول کے تجربے کے بعد، وفد نے پاکستان میں اپنے قیام کے دوران حاصل ہونے والے تجربات پر اطمینان اور دورے کے دوران قائم ہونے والے روابط کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے پرامیدی کا اظہار کیا۔

یہ تبادلہ ایک وسیع تر علاقائی اقدام کا حصہ ہے جس میں سری لنکا اور نیپال بھی شامل ہیں، اور اس کا مقصد جنوبی ایشیا بھر میں سرحد پار تعلقات، علمی شراکت داری، جدت طرازی اور عوام کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے۔

دورے کے اختتام پر، اب توجہ اس پیش رفت کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور باہمی دلچسپی کو عملی تعاون میں بدلنے پر مرکوز ہے۔ اس اقدام کا مقصد بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان ایسے مضبوط تعلقات کے قیام میں کردار ادا کرنا ہے جو باہمی احترام، مشترکہ سیکھنے کے عمل، اداره جاتی تعاون اور علاقائی ترقی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہوں۔