بے نظیر واقعی بے نظیر تھی 

0
483
Benazir Bhutto waves to supporters at a campaign rally in Rawalpindi.

تحرير : عبدالفتاح عباسی 

یہ  ایک اٹل حقیقت ہے کہ ملک پاکستان میں جس طرح قیام پاکستان کے بعد سندھ کے لاڑکانہ کے بھٹو خاندان میں ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے اپنے اقتدار میں بے روزگاری کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے اور نوجوانوں کو روزگار دیا گیا اس طرح کسی نے بھی نہیں روزگار دیا یہ بات نہ صرف انکی پارٹی کے لوگ بلکہ ان کے سیاسی مخالفین بھی دل سے مانتے ہیں کہ واقعی وہ بے نظیر تھی. اس بے نظیر بھٹو نے اقتدار کے دونوں پیرڈ میں غریب عوام کی آواز کو سمجھا اور ان کے آواز کیلئے بڑے بڑے آمروں جابروں لٹیروں غاضبوں کو للکارا وہ تھی تو عورت مگر مردوں کی طرح گونجتی للکارتی رہی ھر ظالم کو اسی لئے کہ وہ بے نظیر بھٹو تھی،
انہوں نے کبھی بھی کسی صورت بھی لالچ میں کسی جابر سے مفاہمت نہیں کی وہ عوام کی حقیقی معنوں میں ایک سچی لیڈر تھی. ملکی سیاست میں وہ تاریخی کارنامے کئے جس کا انداز کرنا مشکل ہے. بے نظیر بھٹو اور اس کے والد ذوالفقار علی بھٹو کا عوام کی خوشحالی ترقی امن و سلامتی کیلئے ویزن فلسفہ تھا. وہ ملک کے چاروں صوبوں کے غریب عوام، نوجوانوں کیلئے ایک امید تھے. پاکستان کی سیاست میں عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار شخصیات میں اگر غیر جانبدارانه تجزیہ کیا جائے تو پھر عوامی شخصیت اور لیڈروں میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام سرفهرست ہیں. جنہوں نے اپنی پوری زندگی عوام کے خاطر قربان کردی اور وہ سیاسی شہید بن گئے.
انہوں نے غیر جمہوری قوتوں اور ایک سے بڑھ کر ایک مافيائون کو کس قدر للکارا اور ملک کے عوام کے جائز حقوق کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا کر آخر کار باطل قوتوں کو ہرا دیا اور ملک کے چاروں صوبوں کے ساتھ کشمیر کے عوام کی آواز بن کر جس طرح انکی آواز بن گئی اسی کوئی بھی فراموش نہیں کر سکتا ہے. شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو لاڑکانہ سندھ کے پیدائشی تھے. وہ بہادر قومی لیڈر تھے جنہوں نے پورے ملک پاکستان کا سیاست میں نام روشن کیا اور وہ بین الاقوامی سطح پر سیاسی طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں. ان کے سیاسی مدبرانہ سوچ کے تحت عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن ہونے کے ساتھ ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر مانا جاتا رہا اور یہاں تمام اسلامی ممالک کی کانفرنسیں ہونے لگیں اور ان مدبر سوچ کے مالک شخصیات کی وجہ سے پوری دنیا کے لوگوں کی نظریں پاکستان پر جم گئی.
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بہادر اور دلیر بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی اس طرح تربیت کی کہ وہ کسی غاضب، غدار، غیر جمہوری سوچ کو کس طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سیاست کیا کرتی تھی. انہوں نے اپنی زندگی میں ایک اپنے آپ سے عہد کردیا تھا کہ کسی صورت بھی عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو معاف نہیں کرنا ہے اور انہوں نے پاکستان کی سیاسی ڈکشنری میں ملکی اور بین الاقوامی طور ایسی عظیم قربانی دے کر گئی جس کو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا.
ان سیاسی مدبرانہ سوچ کے مالک باپ بیٹی نے ایسے ایسے کام کئے جس کو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا. شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں اسلام دشمن لابی قادیانیوں کو کافر قرار دے کر جس طرح اسلام کو ایک جال سے محفوظ رکھنے میں بھرپور اور تاریخی کردار ادا کرکے دکھایا اس کار خیر میں اس کے ساتھ عالم اسلام کی عظیم مذہبی شخصیت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمت الله عليه تھے. جس پر اس کو پوری دنیا میں بہت بڑی پذیرائی حاصل ہوئی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نام خاص طور پر اسلامی ممالک میں گونجنے لگا. شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میں بھی اپنے بڑوں کی طرح اولياءَ الله، کاملین اور صوفياءِ کرام کا ادب احترام، شان و شوکت لحاظ کرتا تھا. وہ ان عظیم شخصیات کے حوالے سے بہت مشہور تھا کہ جب بھی کسی صوبے یا شہر میں جاتے ہیں تو وہاں کے کامل ولی اللہ بزرگ ھستی کے مزارات پر ضرور عقیدت و احترام کے ساتھ حاضری دیتے ہیں.
اگر وہ پنجاب کے شہر لاہور میں آتے ہیں تو ضرور بضرور کامل اکمل بزرگ ھستی حضرت داتا علی ھجویری رحمت الله عليه ، سندھ کے نامور صوفی بزرگ لاہور میں مدفن مزار انوار حضرت میان میر قادری رح، اگر ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاتے ہیں تو حضرت عبداللطيف قادری المعروف بری امام سرکار رح، حضرت میہر علی شاہ گولڑہ شریف رح، ملتان میں حضرت غوث بھاو الدین ذکریا رح، حضرت شاہ رکن عالم رح،
اگر سندھ کے کراچی شہر میں جاتے ہیں تو حضرت عبداللہ شاہ غازی رح، سیون شریف جاتے ہیں تو حضرت محمد عثمان مروندی المعروف لعل شهباز قلندر رحمت الله عليه، بھٹ شاہ حیدرآباد میں جاتے ہیں تو شاعروں کے سرتاج حضرت شاهه عبداللطيف بھٹائی رح،  خیر پور میرس جاتے ہیں تو کھوڑا شریف میں حضرت شہید مخدوم عبدالرحمان ھاشمی رح ،درازا شريف میں جاتے ہیں تو حضرت سچل سرمست رح، لاڑکانہ سندھ اپنے آبائی شہر پہنچتے ہیں تو لازمی طرح کامل ولی بزرگ ھستی حضرت عبدالغفار نقشبندی المعروف پیر مٹھا سائین رحمت اللہ علیہ کی مزار پر حاضری دی جاتی ہے اور اسی طرح حضرت بابا بلھے شاہ رح، رحمان بابا رح، مست توکلی رح، بابا غلام فريد رحمت الله عليه ، سندھ کے اندر شکارپور گڑھی یاسین میں حضرت خواجہ شاھ محمد شھپر دین کرن شريف رحمت الله عليه سميت دیگر عظیم ھستیوں کی مزارات پر حاضری دے کر روحانی سکوں حاصل کرتی ہے .
اس کے ساتھ ہی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے بانی و امیر اھلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ کی روحانی شخصیت سے بہت متاثر رہی اور ایسے مدنی ماحول کو بہت پسند کیا اسی طرح ہی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے فرزند پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی( پرانی سبزی منڈی )، میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ودیگر صوبائی وزراء کے ساتھ حاضری دی جہاں پر دعوت اسلامی کے مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حاجی محمد عمران عطاری، حاجی عبدالحبیب عطاری، حاجی محمد اطہر عطاری، حاجی برکت علی عطاری سمیت دیگر سے ملاقات ہوئی.
پیپلز پارٹی کی روایات میں یہ بات واضح ہے کہ ان کے سربراہان قیادت شہید ذوالفقار علی بھٹو ہو یا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ہوں ان دونوں کا تعلق اھلسنت سے اور بزرگان دين سے محبت و عقیدت والا رشتہ تھا. وہ بزرگان دين کے فیضان کو مانتے تھے اور ان کی مزارات پر پھولوں کی چادریں لیکر جاتے تھے اور وہاں پر روحانی سکوں حاصل کرتے تھے. شہید بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ انٹر نیشنل سطح کے مذھبی عظیم شخصیت جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ اور ورلڈ اسلامک مشن کے چیئرمین علامہ الشاھ احمد نورانی صدیقی کی شاندار شخصیت سے بہت ہی متاثر تھے .
دونوں باپ بیٹی نے اگر سب سے زیادہ پرسنلٹی والا قدآور شخصیت کے طور پر دیکھا تو وہ شاید واحد قومی لیڈر علامہ شاھ احمد نورانی صدیقی تھے، اسی سلسلے میں مرکزی جماعت اہلسنت سندھ کے صوبائی صدر مفتی محمد جان نعیمی نے بتایا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ سے سیاسی ملکی حالات خصوصاً جب کراچی میں لسانی فسادات عروج پر تھے اسی دوران شاید دو مرتبہ ملاقات ہوئی تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاھ جو کہ ہمارے دوست بہت خیال کرنے والا بندھ تھا ، انہوں نے محترمہ کا پیغام لیا اور میرے مدرسہ ملیر کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاھ اور علامہ شاھ احمد نورانی صدیقی بھی ملاقات ہوئی اس طرح علامہ نورانی صاحب کی توسل سے مجھے رویت ہلال کمیٹی کا چیئر مین بنانے کیلئے آفر بھی ہوئی کہ آپ کا نام منتخب کیا گیا ہے مگر میں نے معذرت کرلی کہ یہ اتنی بڙی ذمہ داری نہیں قبول کرسکتا ہوں
مگر رویت ہلال کمیٹی کا دو مرتبہ میمبر ہوا، پھر نورانی صدیقی صاحب نے مفتی اظہر نعیمی صاحب کو منتخب کروایا، ایک مرتبہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا پیغام پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کا موجودہ صوبائی صدر سینیٹر نثار احمد کھوڑو ، کراچی کی ہر دلعزيز شخصيت عبداللہ مراد شہید, مظفر شجرہ وہ دیگر لیکر آئے کہ آپ کو پاکستان پیپلز پارٹی کی مشائخ علماء ونگ کا صدر بنانے کا نام تجویز کیا گیا ہے اسی سلسلے میں آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے جس پر میں نے معذرت کرلی کیونکہ میں اپنے دینی مدرسے میں بہت مصروف رہتا ہوں، مجھے اس معاملے کیلئے ٹائم نہیں ہے . جس پر دوسرے دن اخبارات میں میری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی تصاویر دیکھ کر علامہ شاھ احمد نورانی صاحب نے فرمایا کہ یہ کیوں آئے تھے جس پر میں نے پوری تفصیل بتائی جس نورانی صدیقی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جواب دیکر اچھا کیا،
ویسے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اھلسنت جماعت کیلئے بہت بڑا کردار رہا ہے ، وہ علماء اھلسنت کا دل سے قدر کیا کرتی تھی اور علماء اھلسنت سے محبت و عقیدت تھی. ان کا مزارات پر بڑا عقیدہ تھا ملک کے تقریباً ہر شہر میں اولیاء اللہ ، کاملین، بزرگان دين کی درگاہوں خانقاہوں پر بڑی عقیدت و احترام سے جایا کرتی تھی اور انکے سجادہ نشین پیر صاحبان سے فیوض و برکات حاصل کیا کرتی تھیں، وہ عالمی سطح کی انٹر نیشنل قومی لیڈر تھی. اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے اور شہادت قبول فرمائے آمین ثم آمین،
محترمہ بے نظیر بھٹو لاڑکانہ کے قریب ہی قمبر میں روحانی درگاھ حسين آباد میں اہلسنت کی مایہ ناز روحانی شخصیت حضرت قبلہ سائین سید غلام حسین شاھ بخاری غفاری نقشبندی کی درگاھ شريف میں ضرور حاضر ہوتی تھی اور اس طرح روحانی سکوں اطمینان حاصل کرتی تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں پیپلز پارٹی لاڑکانہ کے سینیئر اطلاعات انفارمیشن سیکرٹری اصغر علی شیخ اور موجودہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام ایکٹو سرگرم سینئر رہنما علی اصغر عباسی جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام آتا ہے تو وہ ان کی بہادرانہ دلیرانہ کارساز سمیت دیگر واقعات سناتے ہوئے افسردہ ہوجاتے ہیں،
وہ کہتے ہیں کہ 27 دسمبر 2007 پورے ملک پاکستان کیلئے ایک بہت بڑا سانحہ ہوا جس پر ملک کے کونے کونے میں جمہوریت پسند لوگوں کے گھروں میں غمی دکھ چھا گیا، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے انٹرویوز میں یہ باتیں کھلی کتاب کی طرح واضح ہیں. بے نظیر واقعی بے نظیر تھی. ان کے رہن سھن میں اسلامی مذھبی خیالات اور بڑے بزرگوں کی طرح وہ اکثر سفید چادر اوڑھ کر زندگی بسر کرتی تھیں. جب وہ اپنے صوبہ سندھ کے لاڑکانہ ضلع کے شہر قمبر شریف میں کامل ولی بزرگ ھستی سید غلام حسین شاہ بخاری غفاری کے آستانہ عالیہ میں حاضر ہوئی تو محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کو بزرگ کی جانب سے اوپر بیٹھنے کے لئے کہا گیا مگر محترمہ بے نظیر بھٹو نے  کہا کہ میں پیر صاحب کے درگاہ میں فیض لینے آئی ہوں. قدموں میں سہی ہوں. اس طرح شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ نے بزرگان دين کے فیوض و برکات سے ایسی کامیابیاں حاصل کیں جس کے لئے کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں.
وہ اولیاء اللہ، کاملین، صوفياءِ کرام کی چاہنے والی تھی. ان کے عقیدت کا مظہر و مرکز وہی صاحب ولایت بزرگان دين تھے جنہوں نے دن رات خلق خدا کو راھ راست پر چلانے کے لئے محنتیں، کوششیں کیں. ان کی صحبت بابرکت سے ھميشہ فیوض برکات نچھاور ہوتے ہیں. ان برگذیدہ اور مبارک مایہ ناز ھستیوں نے اپنے آبائی وطن شہر چھوڑ کر پاکستان کو شرف بخشا اور ملک کے کونے کونے میں اولیاء اللہ کا فیضان جاری رہا اور اولیاء اللہ پر عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے باعث آج شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر پر بھی اسی لئے عوام پھولوں کی چادریں چڑھا کر عقیدت کا اظہار کرتے ہیں.
شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو وہ گلستان کے مھکتے پھول ہیں جس سے تمام پاکستانی محبت کا اظہار کیا کرتے ہیں اور شدت سے موجودہ حالات میں یاد کرتے ہیں کہ شاید اس طرح کے حقیقت پسند سیاسی مدبر عوام دوست لیڈر ہوتے تو آج ملک کا عوام محرومیوں کے بجائے خود دار، باوقار قوم کی طرح فخر کے ساتھ جیتا مگر بدقسمتی کہ حادثاتی طور پر آئے ہوئے حکمرانوں نے ملک کو معاشی طور پر کنگال کردیا ہے. ایک وہ ملک کے حکمران تھے اور ایک یہ ہیں. زمین آسمان کا فرق واضح ہے اگر ہم باوقار قوم کی طرح ترقی کرنا چاہتے ہیں تو بے ضمیر، کرپٹ حکمرانوں کے بجائے صاف شفاف ستھرے سیاستدانوں کو ووٹ دیا جائے. جو حقیقی معنوں میں ملک کی ترقی کے لئے کردار ادا کر سکیں.
ویسے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنے ورکرز ، کارکنان ، جانثاران سے بے انتھا محبت و عقیدت تھی جیسے لاڑکانہ ڈسٹرکٹ کے انفارمیشن سیکریٹری اصغر علی شیخ ، سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سپاف سے لیکر پاکستان پیپلز پارٹی میں تمام تر کوشان رہنے والے محمد ایاز سومرو اور اسکے بھائی ریاض علی سومرو ، کراچی کے منور سہروردی،  کامریڈ نجیب احمد ، راشد ربانی, وقار مہدی و دیگر وہ کارکن ورکر تھے کہ ہر وقت اپنی پارٹی کیلئے کوشاں تھے ، آجکل بھی پاکستان پیپلز پارٹی میں بہادر دلیر مخلص بندوں کی کمی نہیں ہے جیسا کہ لاڑکانہ کا بہت بڑا راشدی خاندان جو پڑھا لکھا تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ سلجھی ہوئی فیملی ہے . جس میں سینیئر سیاستدان سید اکبر حسین شاھ راشدی ، محترمہ مہتاب اکبر شاھ راشدی   اس راشدی خاندان کی کیا بات کی جائے انتہائی نفیس سیاسی بصیرت والا گھرانہ ہے .
لاڑکانہ کا عوام خاص طور پر اس خاندان بڑا عقیدت کا رشتہ رکھتا ہے. کیونکہ ان کا آباء اجداد بڑے بزرگ سندھ صوبے میں سب کیلئے قابل احترام دینی ، مذھبي اور عام و خاص سب کا قدر و احترام کرتے ہیں،  اگر دوسری جانب دیکھا جائے تو شہید بھٹو کے آبائی گاؤں گڑھی خدا بخش کے قریبی گاؤں بنگل دیرو کے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے انور علی بھٹو کا بھائی عبدالفتاح بھٹو جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کا سرگرم عمل ڈسٹرکٹ صدر رہا ہے، لاڑکانہ ضلع کے اندر پیپلزپارٹی کے حوالے سے ایک مضبوط قسم کے سیاسی ذھن اعجاز احمد لغاری کی عوام رابطہ مہم کا اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے جانثاری کا چرچہ رہتا ہے.
اسی طرح سومرا برادری میں جمیل احمد سومرو جو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پولیٹیکل سیکرٹری ہونے کے ساتھ ہی حالیہ انتخابات میں لاڑکانہ سے کامیاب ہو کر سندھ اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا ہے، انکی سیاسی ھلچل عوامی رابطہ حالیہ دنوں میں مزید بڑھ گیا ہے. شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اس لئے تو وہ سب سے بے نظیر تھی کہ اس سے جو بھی ایک مرتبہ ملتا تھا وہ انکی سحر انگیز شخصیت کے گن گاتا تھا محترمہ بے نظیر بھٹو میں یہ بڑی خاصیت کوالٹی تھی اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح آنے والے غریب متوسط طبقہ کے بے روزگار نوجوانوں کو نوکریاں دیتی تھیں وہ یہ نہیں دیکھتی تھی کہ یہ کون ہے، کس برادری سے تعلق ہے، کس پارٹی سے تعلق رکھنے والا ہے، وہ صرف بے روزگاری کی لعنت کو مٹانے کیلئے نوکری دیتی تھی اور کسی گھر میں چولھا چلانے کیلئے آگے بڑھتی تھی.
موجودہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پیپلزپارٹی کے صوباٸی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو سے بھی سندھ کے بے روزگار نوجوانوں کی اپیل ہے کہ وہ بھی اپنی سیاسی لیڈر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح 17 سالوں سے اپنے بچوں، بھائیوں کی نوکری کیلئے درخواستیں دی رہے ہیں، بار بار رابطہ کر رہے ہیں انکی 17 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود بھی اگر کسی غریب متوسط طبقے کے بے روزگار نوجوانوں کو نوکری نہ ملے تو پھر باقی پیپلزپارٹی کے اقتدار ہونے کا کیا فائدہ ہے. سب جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نوجوانوں کو روزگار دیتی ہے مگر ابھی بے نظیر بھٹو شہید کی طرح سندھ کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا ہے تو پھر نوجوان کیا کریں، اگر واقعی شہید بے نظیر بھٹو کے اقتدار میں رہنے والے جیالے جانثار ہیں تو ہمارے بے روزگار بھائیوں کو بھی روزگار مل جانا چاہیے.
کوئی کیا جانے کہ اس مہنگائی کے دور میں بھوک بیروزگاری کیا شامت ہے. مڈل کلاس طبقہ اور وہ بھی بے روزگار ہو کس طرح مہنگائی کے دور میں رہ سکتا ہے. اگر پاکستان پیپلز پارٹی کا چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، پی پی پی لیڈیز ونگ کی مرکزی صدر میڈم فریال ٽالپر، پی پی پی سندھ کا صدر نثار احمد کھوڑو، ایم این اے خورشید احمد جونیجو، ایم پی اے جمیل احمد سومرو چاہیے تو لاڑکانہ کے تمام مڈل کلاس غریب بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے. شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ گڑھی خدا بخش بھٹو کی ہمیشہ سدا رہی ہے کہ ملک میں تمام عوام کو بنیادی حقوق دیئے جائیں.
سب سے بڑی قوت عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نکالا جائے کسی مظلوم کا کسی صورت حق غضب نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس مظلوم کی زبان آھ و زاری درد اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتا ہے، خدارا غریب والدین اور بے روزگار نوجوانوں کی درد رسی کرتے ہوئے ان کو روزگار دیا جائے، حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کئی سینکڑوں ہزاروں افراد نوجوان دل برداشت ہوکر بھیانک اقدام خودکشیاں کر رہے ہیں اس کا عذاب کس پر ہوگا عوام کی عوامی خاموش زبان کو سمجھا جائے اور پڑھے لکھے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کی درد رسی کی جائے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی عوامی فلسفے نظریات پر تمام اقتدار پرست حکمرانوں کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح عوامی نمائندہ بن کر عملی نمونہ بننا پڑے گا،
غریب عوام کو مہنگائی سے نجات دلائی جائے ، روزمرہ کی اشیائے ضرورت آٹا ، چینی ، تیل گھی وغیرہ سست داموں فروخت کیا جائے ، سوئی گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور نام نھاد غیر قانونی ٹیکس ختم کیا جائے . بے نظیر بھٹو ہونے کیلئے وقت کے حکمرانوں کو عوام کا حقیقی نمائندہ ہونا پڑے گا . شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 17 ویں برسی پر دوسری بات سیاست کی نہیں صرف اور صرف پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کی بات عملی طور پر کی جائے.
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کس لئے سیاست میں ایک لازوال شاندار امر کردار بنی رہی کیونکہ وہ عوام کی دکھ درد، بھوک بیروزگاری، غربت، مفلسی، تنگدستی، افلاس، غریبوں کی محرومیوں کو سمجھتی تھی وہ وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، خانوں، نوابوں، چوہدریوں، رئسون کے بجائے ھاریوں، کسانوں، مزدوروں، شاگردون، عام ملازمین کی احساسات کا احساس سمجھنے کے علاوہ ان کے جذبات کی صحیح طرح عکاسی کیا کرتی تھی اسی لئے ان کو چاروں صوبوں کا کروڑوھا  کروڑ مرد خواتین تمام عوام دل سے چاہتا تھا اور بے نظیر کہتا تھا. واقعی وہ ایک بے نظیر تھی جس کا ملکی سیاست میں متبادل نہ ہوسکا اور نہ ہوسکے گا. ملک پاکستان کی سیاست میں ایک بے نظیر کی سخت ضرورت ہے جو بحرانوں سے نکالنے کی حقیقی صلاحیت رکھتی ہو.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here