سی ڈی اے اسٹری ڈاگ پاپولیشن کنٹرول سینٹرمیں بے زبان جانوروں کیساتھ غیر انسانی سلوک ختم کیا جائے،

0
480

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)

اسلام آباد کی سول سوسائٹی،جانور دوست شہری،کارکنا ن اور جانوروں کے حقوق کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سی ڈی اے اسٹری ڈاگ پاپولیشن کنٹرول سینٹرمیں بے زبان جانوروں کیساتھ غیر انسانی سلوک ختم کیا جائے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے التمش سعید، معروف اداکارہ مشی خان، مسٹر جارج،انیلا ، پریشے خان و دیگر کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اہلکار آوارہ کتوں کو اٹھا کر ایک ایسی جگہ لے جاتے ہیں جسے اب عام طور پر “موت کا گڑھا” کہا جانے لگا ہے

سی ڈی اے اسٹری ڈاگ پاپولیشن کنٹرول سینٹر طبی مہارت، انسان دوست نگہداشت یا زندگی کے بنیادی احترام سے محروم ہے اور یہ مرکز ظلم اور غفلت کی ایک علامت بن چکا ہے، جو نہ صرف جانوروں بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے،آوارہ کتوں کو نگہداشت چاہیے، ظلم نہیں،

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کسی ایک گروہ کی لڑائی نہیں، یہ سول سوسائٹی کی مشترکہ اپیل ہے شہریوں، کارکنوں، ویٹرنری ڈاکٹروں، وکلاء، صحافیوں، طلباء، اور پڑوسیوں کی، جو ہمدردی اور انصاف پر یقین رکھتے ہیں، ہر آواز اہم ہے، ہر وہ شخص جو فکر مند ہے، اس تحریک کا حصہ ہے،

انہوں کہا کہ ہماری آج کی پریس کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت اور سی ڈی اے کے ارباب اختیار سےشہر کے آوارہ کتوں کے وقار، تحفظ اور انسان دوست سلوک کا مطالبہ کر سکیں۔ یہ پُرامن اجتماع ایک بڑھتی ہوئی تحریک کی عکاسی کرتا ہے یہ ایک ایسی تحریک ہے جو محبت، غم اور اجتماعی ضمیر کی پکار پر مبنی ہے اورجو ظلم کو نظرانداز کرنے سے انکار کرتی ہے،

اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے حوالے سے یہ معاملہ 25 جون 2025 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کیا جائے گا،ان کا مزید کہنا تھا کہ پالتو جانوروں بالخصوص کتوں کیساتھ ہمدردی ہمارا فرض انصاف ان کا حق ہے،اب مزید موت کے گڑھے نہیں ہر جاندار کا وقار لازم ہے،

آوارہ جانوں کی زندگی اہم ہے،ہر بے زبان کے لیے ہم بولیں گے،محفوظ شہر ہمدردی سے شروع ہوتا ہے،آوارہ کتوں کو نگہداشت چاہیے، ظلم نہیں،انسان دوست حل،منصفانہ سلوک اکٹھےغم سے عمل کی طرف ہمارے لیےہمارا شہرہمارا ضمیر اورہماری ذمہ داری ہے لہذاٰظلم کا خاتمہ کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here