عمران اور بشریٰ پر دی اکانومسٹ کی ٹیبل سٹوری: تسکین خود کون ہے؟ “ری سائیکل شدہ پروپیگنڈا” مہم کہاں سے شروع ہوئی؟

0
584

تزئین اختر

عمران خان کے تتے توے پر بہت سے لوگ اپنی اپنی روٹیاں پکا رہے ہیں – ان کی پارٹی والے بھی – دوسری پارٹی والے بھی -اکانومسٹ کے چوہے کا مضمون اور جنگ کی لیڈ اسٹوری اسی سلسلے کی کڑباں ہیں اور کچھ نہیں،کچھ خواتین کو عمران سے یہ غصہ ہے کہ اس نے ہمیں کیوں نہیں اٹھایا اور باقیوں کو کیوں؟

معروف انگریزی جریدے دی اکانومسٹ کے ذیلی جریدہ 1843 نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بارے میں اوون بینیٹ اور بشریٰ تسکین نامی دو افراد کا ایک مضمون شائع کیا جو دراصل ایک ٹیبل سٹوری سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہی مضمون 17 نومبر 2025 کو پاکستان کے ایک بڑے اخبار روزنامہ جنگ نے لیڈ اسٹوری کے طور پر اردو میں دوبارہ پیش کیا۔

دونوں میڈیا اداروں نے شور مچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہے اور ان کی کوششیں چائے کی پیالی میں طوفان ثابت ہوئیں۔ تسکین نے اپنی تسکین کا ساماں کرنے کی کوشش کی مگر صرف تزلیل اس کے حصے میں آ سکی

اس مضمون کا بنیادی نکتہ ہے “بشریٰ بی بی کا روحانی علم اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتاتھا”، ایک بیانیہ جو پہلے ہی تمام پاکستانی جانتے ہیں۔ آئیے مضمون کا تجزیہ کریں اور ہم بشریٰ تسکین کے بارے میں بھی کچھ معلومات شیئر کریں گے۔

عمران خان مختلف عہدوں پر تعیناتیوں کے اہم فیصلے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مشاورت سے کر رہے تھے جو ایک روحانی شخصیت ہیں اور وہ انہیں ناموں کی دی گئی فہرست میں سے موزوں افراد کے نام تجویز کرتی تھیں۔ یہ پاکستان میں ایک جانی پہچانی حقیقت ہے اور ہر قسم کے میڈیا میں کئی بار شائع اور پروپیگنڈہ کی گئی ہے۔

میرا وطن میرا مقتل……بیرون ملک مقیم خواتین کی کہانیاں جنہیں پاکستان لاکر قتل کرد یا گیا۔ شاہین کمال

اب جب معروف ترین جریدے دی اکانومسٹ کے ذیلی جریدہ نے وہی باتیں دہرائی ہیں جنہیں پی ٹی آئی نے بجا طور پر ’’ری سائیکلڈ پروپیگنڈہ‘‘ قرار دیا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس معزز جریدے نے مضمون شائع کرکے اپنی ساکھ کیوں خطرے میں ڈالی ہے جس کی شریک تصنیف بشریٰ تسکین پاکستان کے صحافی یا ادبی حلقوں میں جانی ہی نہیں جاتی۔

بشریٰ تسکین کون ہے جو ایک پردیسی کے ساتھ مل کر ایسی باتیں لکھ کر اپنی “تسکین” کا مواد فراہم کر رہی ہے؟جو بار بار ہو چکی ہیں۔ دونوں مصنفین کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کیا ہے؟ کیا انہوں نے ماضی میں مشترکہ طور پر کوئی اور کہانی شائع کی؟ اب ایسا مضمون کیوں، جب عمران اور بشریٰ دونوں پہلے ہی قید ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں؟

میں نے سوالات حل کرنے کی کوشش کی اور اپنے ذرائع سے خاتون بشریٰ تسکین کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کیں۔ جیسا کہ میں اکثر کہتا ہوں کہ “عورت ہی عورت کی دشمن ہے”، یہی بات دو بشریٰ کے معاملے میں بھی درست ہے۔ یہ بنیادی طور پر دو ناکام محبت کرنے والوں کی طرف سے انتقام کی ناکام کوشش ہے۔ ایک بشریٰ تسکین عمران کی مسترد محبت اور خاور مانیکا بشریٰ بی بی کا متروکہ شوہر۔

اس ری سائیکل شدہ پروپیگنڈے یا حقائق ، کی اکانومسٹ میں اشاعت کے بعد ایک بڑے اخبار روزنامہ جنگ میں تصویروں کے ساتھ اردو میں اس کا دوبارہ چھپنا، اس تاثر کو مزید پختہ کرتا ہے کہ یہ کوئی منصوبہ بند مہم ہے،جس کا مقصد نہ صرف پہلے سے قید سیاسی رہنما اور اس کی شریک حیات کو بدنام کرنا ہے بلکہ حالیہ آئینی ترمیم سمیت ملک کے اہم ترین مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔

میں نے اپنے ذرائع سے خاتون بشریٰ تسکین کے بارے میں کچھ معلومات اکٹھی کیں۔ آپ ایک چور کے بارے میں دوسرے چور سے جان سکتے ہیں۔ اسی طرح روحانی شخصیات کے پاس اپنے جیسے دوسرے لوگوں کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں۔

روحانی علم اور اس سے رہنمائی حاصل کرنا پاکستان اور جنوبی ایشیا میں ایک معمول کی بات ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام سیاست دان روحانی شخصیات کے پاس جاتے ہیں اور ان سے دعاؤں اور رہنمائی کے لیے کہتے ہیں۔ مصنفین نے اسے جادو کے طور پر مورد الزام ٹھہرایا ہے اور یہ بات بھی پہلے ہی بار بار ہو چکی ہے۔ یہاں بشریٰ تسکین سے پوچھا جا سکتا ہے کہ “آپ نے اپنی زندگی میں ایسا جادو کبھی نہیں کیا؟ آپ بھی تو جادوگر ہیں۔”

اپنے معتبر ذرائع سے ہمیں پتہ چلا کہ اس ری سائیکلنگ کا منصوبہ اس وقت بنایا گیا جب تسکین اور مانیکا ڈاکٹر افشاں ملک کنول رانی جو پاکستان میں پیر آف موہڑہ شریف اور اجمیر شریف کی نائب ہیں کے ہاں اکٹھے تھے۔

خان سنتا ہے

بشریٰ تسکین اور خاور مانیکا نے چند ماہ قبل ڈاکٹر افشاں ملک سے ملاقات کی۔ اکانومسٹ اور روزنامہ جنگ نے جو تصاویر شائع کی ہیں وہ مانیکا کے موبائل فون میں تھیں جنہوں نے یہ تصاویر ڈاکٹر افشاں ملک کو دکھائیں لیکن انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ بشریٰ تسکین نے مانیکا سے تصاویر سمیت معلومات اکٹھی کیں اور اب اپنے مضمون میں استعمال کی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ وہ اس معاملے پر کام کر رہے تھے اور ڈاکٹر افشاں ملک جیسی دیگر روحانی شخصیات کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن انہوں نے کسی بھی سیاسی تنازعہ کا حصہ بننے سے گریز کیا۔

تسکین ان ہزاروں خواتین میں سے ایک ہے جنہوں نے عمران کو چاہا، بشریٰ بی بی نے مانیکا کوعلیحدگی اور عمران سے شادی کرکے زخم دیا۔ دونوں نے اپنے اپنے پیاروں سے بدلہ لینے کے لیے ہاتھ ملایا اور یہاں اکانومسٹ کے ایک رپورٹر نے تسکین کے اس ری سائیکل شدہ پروپیگنڈے کو شائع کرنے میں مدد کی۔ اوون بینیٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تسکین کا فرینڈ ہے۔

یہ تسکین کچھ عرصے پی ایم ایل این کے میڈیا لیڈر پرویز رشید کی دوست رہی۔ متذکرہ افراد کے درمیان قریبی رشتوں کی یہ ترکیب پوری تصویر قارئین کے سامنے لے آتی ہے۔ دی اکانومسٹ کو بہت زیادہ معاوضہ دیا گیا ہو گا اور روزنامہ جنگ میں لیڈ سٹوری کے طور پر ترجمہ کی اشاعت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہاں! اس مواد کی اشاعت کے پیچھے کچھ بڑی گن ہیں جنہوں نے ملکی سیاسات میں پھر گند ڈالا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کے معاملے میں اس مضمون کی اشاعت کی کوئی وجہ عقل قبول نہیں کرتی صرف اس لیے کہ دونوں کے ان معاملات پر بہت بحث ہو چکی اور اب مقدموں اور قید کا سامنا کر رہے ہیں۔ بلیم گیم یا کردار کا قتل اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی اٹھنے کے لیے تیار ہو یا کسی عہدے کے لیے مقابلہ کر رہا ہو۔

آئیے اس منظر میں تیسرا کردار دیکھتے ہیں۔

وہ لیفٹیننٹ جنرل ر فیض ہیں، جنہیں حقیقی گیمر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بشریٰ اور عمران کو کٹھ پتلیوں کے طور پر استعمال کر رہے تھے ۔ یہاں ہم اس مہم کا کچھ سنس دیکھ سکتے ہیں۔

کچھ غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیض کا کورٹ مارشل مکمل ہو چکا ہے اور سزا سنائی جانے والی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ میں ملک کی سب سے اعلیٰ ترین خفیہ ایجنسی کے کسی سربراہ کے لیے پہلا واقعہ ہوگا۔

بہت ممکن ہے کہ مضمون کا مقصد فیض کے آئی ایس آئی اور ملٹری کے اندر اور باہر پیروکاروں پر ثابت کرنا ہو کہ انہیں سزا دینا ایک درست فیصلہ ہے۔ یہ اس ڈرامے کے تناظر میں ایک قیاس ہے۔ ہو سکتا ہے یہ غلط ہو۔ فیض کے بارے میں حقیقت کچھ بھی ہو، آئی ایس پی آر کو جلد از جلد اپنا موقف دینا چاہیے

عمران خان والے 190 ملین پاؤنڈ سے جدید ترین دانش یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ ، رواں ماہ ترسیلات زر 13.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ،اسی تیزی سے برآمدات کو بڑھانا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here