ٹورنٹو سے کراچی ! پی آئی اے ! قومی ایئر لائن پر سفر کا مشورہ مہنگا پڑ گیا ! ایک دوست خوار! دوسرا شرمسار

0
142

ذبیح اللہ بلگن

میں آج ٹورنٹو ایئرپورٹ سے ابوظہبی کیلئے روانہ ہوا ہوں ۔ مجھے چونکہ دبئی میں دو روز قیام کرنا ہے اسی باعث میں نے اتحاد ائیر ویز کا ٹکٹ خریدا تھا ، بصورت دیگر جہاں پی آئی اے کی فلائٹ میسر ہو میں ہمیشہ پی آئی اے کو ترجیح دیتا ہوں ۔ چونکہ پی آئی اے پاکستان کی قومی ایئرلائن ہے یہی سبب ہے کہ ہزار خامیوں کے باوجود مجھے اس پر سفر کرنا اچھا لگتا ہے ۔

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ میں نے تقریباً چھ روز کینیڈا میں قیام کیا ہے ، اس دوران بہت سارے پاکستانی دوستوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں ۔چونکہ پی آئی اے کی فلائٹ کینیڈا سے براہ راست پاکستان آتی ہے لہذا دوستوں سے یہی عرض کرتا رہا کہ جب بھی پاکستان کا سفر کریں اپنی قومی ایئرلائن کو ترجیح دیں اور اسی پر سفر کریں ۔

ان دوستوں میں ذیشان حیدر بھی شامل ہیں ۔ ذیشان حیدر ٹورنٹو سے کراچی جارہے تھے ، میں نے ان سے بھی گزارش کی کہ وہ کراچی کا سفر پی آئی اے کے زریعے ہی کریں ۔ مجھے نہیں معلوم میری گزارش پر یا کسی اور وجہ سے ، بہرحال انہوں نے پی آئی اے کا ٹکٹ خرید لیا ۔

ہم لوگ ایک ہی وقت پر ٹورنٹو ایئرپورٹ پہنچے ۔ میں نے اتحاد ایئر ویز کی بورڈنگ کروائی جبکہ انہوں نے پی آئی اے کی ۔

یہ تحریر میں جہاز میں بیٹھا دوران سفر لکھ رہا ہوں ۔ اتحاد ایئرویز میں انٹر نیٹ کی سہولت بھی موجود ہے ۔ جیسے ہی میں نے واٹس ایپ دیکھا تو سامنے ذیشان حیدر کا مسیج تھا کہ پی آئی اے کی فلائٹ ٹورنٹو سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد واپس ٹورنٹو ایئر پورٹ پر لینڈ کر گئی ہے ۔

انتظامیہ کی طرف سے مسافروں کو بتایا گیا ہے کہ جہاز میں فائر الارم کا سگنل آن ہونے کی وجہ سے فلائٹ کو ہنگامی طور پر واپس لینڈنگ کرنا پڑی ۔مسافر بیچارے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے کہ آخر ان ساتھ ہوا کیا ہے ؟

کچھ دیر انتظار کے بعد تمام مسافروں کو جہاز سے اتار لیا گیا اور بتایا گیا کہ اب یہ جہاز کل روانہ ہوگا ۔ مجھے معلوم ہے جناب ذیشان حیدر نے مجھے محض اطلاع دینے کیلئے یہ مسیج نہیں کیا بلکہ وہ مجھے بتانا چاہ رہے ہیں کہ “اب تمہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ ہم پی آئی اے پر سفر کیوں نہیں کرتے؟ “ ۔

حقیقت یہ ہے کہ جب ہم وطن عزیز میں اس طرح کی ناگفتہ بہ صورتحال دیکھتے ہیں تو دل شدید کڑھتا ہے ۔ ہم کس طرح لوگوں کو آمادہ و تیار کرسکتے ہیں کہ وہ بہرصورت اپنے ملک کے اداروں سے پیار اور محبت کیا کریں ۔ میرے جیسے خود ساختہ محبان وطن بہت مشکل اور محنت سے احباب کے دلوں میں پاکستان کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم ہمارے ادارے اپنی روائتی روش کے باعث لوگوں کو پھر سے متنفر کر دیتے ہیں ۔

انصاف سے بتایئے گا کہ ہم کیسے کسی عام پاکستانی کو آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ واپڈا کے دفتروں اور بجلی کے کھمبوں کی حفاظت کیا کرے۔ وہ جواب میں فورا کہے گا “ وہ واپڈا کا دفتر ، جو مجھے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے اور وہ بجلی کے کھمبے جن سے مجھے آٹھ آٹھ اور بارہ بارہ گھنٹے بجلی ہی نہیں ملتی ، میں ان کی حفاظت اور عزت کیوں کروں؟”۔

اسی طرح ہم لوگوں کو نادرہ دفتر ، پاسپورٹ آفس ، پولیس سٹیشن اور یونین کونسل جیسے دیگر ریاستی اداروں اور وہاں کام کرنے والے عملے کا احترام کرنے پر کیسے مجبور کر سکتے ہیں ؟ جبکہ ان بیچاروں کو انہیں دفاتر میں روزانہ ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

یہ بات درست ہے کہ ہم سب کو پاکستان سے محبت کرنا چاہیے مگر ہماری اس محبت کو دوام تبھی ملے گا جب پاکستان کے اداروں کی جانب سے بھی عام آدمی کو عزت ملے گی۔ وگرنہ یہ ون وے محبت کب تک چلے گی ؟ ظاہر ہے جب ریاستی اداروں کی طرف سے عام آدمی کو توہین کا سامنا کرنا پڑے گا تو پھر اسے یہ سمجھانا بہت مشکل ہوجائے گا کہ آپ وطن عزیز کے اداروں سے غیر مشروط محبت کرتے چلے جاؤ ۔میں جہاز میں بیٹھ  ابوظہبی کی جانب عازم سفر ہوں اور مجھے رہ رہ کر ذیشان حیدر کا خیال آ رہا ہے ، وہ دل ہی دل میں کہہ رہے ہونگے “

جا ذبیح اللہ تیرا بھلا ہوئے ، اچھا تم نے مجھے وطن سے محبت کا سبق پڑھایا ہے “