اقلیتی فورم پاکستان پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 کے اجراء اور الیکشن کمیشن پاکستان کے مقامی حکومتوں کے الیکشن کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے کیونکہ پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نفاذ صوبے میں جمہوریت کی نچلی سطح تک بحالی اور عوامی نمائندگی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہو گا۔
صدر پنجاب اقلیتی فورم پاکستان نے بیان کیا کہ محتاط اندازے کے مطابق پنجاب میں آبادی کے تناسب سے4500 سے 6000 شہری و دیہاتی یونین کونسلیں قائم ہوں گی، جس سے کم از کم مخصوص نشستوں پر 6000 سے زائد فی کیٹگری اقلیتی، نوجوان، کسان/ ور کر اور خواتین اور تقریباً 54000 سیاسی کارکنان مقامی حکومت کا حصہ بنیں گے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل عوامی شمولیت اور سیاسی تربیت کے فروغ کے لیے ایک وسیع موقع فراہم کرے گا۔
صدر پنجاب نے واضح کیا الیکشن میں مسلم سیٹ کی بجائے جنرل سیٹ کا ہونا ایک مثبت موقع ہے جو اقلیتوں سمیت کسی بھی شہری کو بلا رنگ و نسل ، مذہب اور جنس کے جنرل نشستوں پر انتخاب لڑنے پر کوئی قانونی پابندی نہیں لگاتا، تو کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ بلدیاتی قانون ووٹ کے حق اور نمائندگی کی سطح پر مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں رکھتا۔ مزید برآں، ٹاؤن، تحصیل اور ضلع کونسل کی سطح پراقلیتی مردوں اور خواتین دونوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے، جو مساوی شمولیت کا مثبت اشارہ ہے۔
تاہم صدر پنجاب نے تشویش ظاہر کی کہ غیر جماعتی اور شو آف ہینڈ کے نظام سے جمہوری روایات جیسے خفیہ رائے شماری جیسی آئینی قانونی روایت کے منافی ہے اسی طرح چئیرمین کے الیکشن میں مخصوص نشستوں پر کونسلروں کو فیصلہ سازی میں شامل نہ کرنا، مساوی شہریت کے منافی ہے۔
اقلیتی فورم پاکستان نے گورنر پنجاب، حکومتِ پنجاب الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہے کہ : 1۔بلدیاتی اداروں کے انتخابات شفاف، جماعتی بنیادوں پر اور عوامی اعتماد کے ساتھ کرائے جائیں۔
2 الیکشن رولز میں واضح کیا جائے کہ کاغذات۔ نامزدگی میں مذہبی ڈیکلریشن صرف مسلم امیدواروں کے لئے ہے۔ مزید جہاں اقلیتی نمائندہ میسر نہ ہو سیٹ خالی رکھی جائے جب تک اقلیتی کونسلر میسر نہ ہو۔
اقلیتوں اور خواتین کی نمائندگی کو مؤثر اور فیصلہ سازی کے عمل میں فعال بنانے کے لیے طریقہ انتخاب میں عوامی رائے کا احترام کیا جائے۔
ووٹر کے تحفظات، خاص طور پر اقلیتی ووٹوں کی درست رجسٹریشن اور احترام کو یقینی بنایا جائے۔
اقلیتی فورم پاکستان یقین رکھتا ہے کہ خوشحال اور جمہوری پاکستان کی بنیاد مساوی شہریت، مؤثر نمائندگی، اور با اختیار مقامی قیادت کے نفاذ پر ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-اے بھی تمام صوبائی حکومتوں کو پابند بناتا ہے کہ موثر مقامی حکومتیں قائم کریں۔ تاکہ مقامی قیادت کے ذریعے شہریوں کو بلا تخصیص حکومتی سہولیات میسر ہوں۔