اسرار احمد راجپوت + علی عمران عباسی
بینظیر بھٹو ٹیچنگ ہسپتال کی ڈاکٹر وردہ کی لاش مل گئی مبینہ طور پر اغوا ہونے والی ڈاکٹر وردہ کا قتل
ان کی قریبی دوست اور اس کے شوہر نے کروایا جن کے پاس وردہ نے سونا اور نقدی امانتاً رکھوائی تھی
مقتولہ ڈاکٹر وردہ کی لاش ٹھنڈیانی لڑی بنوٹہ کے جنگل سے برآمد کر لی گئی ہے۔ ڈاکٹر وردہ نے اپنی بچپن کی دوست ردہ جدون کے پاس 67 تولہ سونا اور لاکھوں روپیہ کیش رکھوایا تھا۔ دوست نے شوہر کے کہنے پر امانت ہڑپ کر لی۔
ڈاکٹر وردہ نے جب اپنی امانت واپس مانگی تو انہیں ٹریپ کر کے بلوایا گیا کہ فلاں بندے کے پاس رکھوائی ہے ، اس سے لیتے ہیں۔ڈاکٹر کو جھانسا دے کر قاتلوں کے حوالہ کر دیا گیا۔ جنہوں نے مغویہ کو قتل کرنے سے پہلے ایک کروڑ روپیہ کے چیک بھی سائن کروائے۔
پولیس نے اغواء کیس میں ملوث مرکزی ملزمہ ردا اس کے شوہر وحید بلا اور مبینہ طور پر اس گھناؤنے فعل میں شامل لڑی بنوٹہ ٹھنڈیانی کے خطرناک ڈکیت و منشیات فروش گروہ کے سہولت کار ندیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے ۔
ذمہ دار کپڑے کے تاجر وحید اس کی اہلیہ ردا ، ڈکیت و منشیات فروش گروہ کا سرغنہ شمریز اور ندیم تو ہوں گے مگر انکے ساتھ اتنا ہی زمے دار تھانہ کینٹ کا ناتجربہ کار اور سفارشی ایس ایچ او بھی ہوگا جس نے بروقت کوئی کاروائی نہیں کی اور ڈاکٹر وردا کی سہیلی مرکزی ملزمہ ردا اور اس کے شوہر کو واپس گھر بھیج دیا اور اسکے لواحقین کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ،
دو دن تک ڈی پی او ہارون الرشید کو اس کیس سے مکمل طور پر لاعلم رکھا ، جب ڈی پی او کے نوٹس میں یہ کیس آیا تو انھوں نے ملزمہ اور اس کے شوہر کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا ، تفتشی ٹیم تشکیل دی جس نے ملزمہ سے سچ اگلوایا۔
ملزمہ کے مطابق ڈاکٹر وردا کو وہ اپنی گاڑی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال سے جدون پلازہ والے گھر میں لے کر گئی گھر کے اندر ندیم نامی ڈکیت و منشیات فروش اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھا،ڈاکٹر کو ان کے حوالے کر کے ملزمہ وہاں سے اپنی گاڑی اور ڈرائیور کے ہمراہ نکل گئی ، ندیم اور گینگ کا سرغنہ شمعریز نامی شخص نے ڈاکٹر وردا کو وہاں سے سوزوکی کے ذریعے منتقل کیا ،
برطانیہ کے شہر سوئنڈن میں گیس لیکج کے باعث دو پاکستانی طلبہ جاں بحق
ملزمہ کی نشاندہی پر نواں شہر پولیس نے بڑا آپریشن کر کے ندیم کو گرفتار کیا تو اس نے جو حقائق پولیس کو بتائے اس کے بعد پولیس نے ٹھنڈیانی کے جنگلات اور ندی نالوں میں ڈاکٹر وردا کی بازیابی اور تلاش کے لئے آپریشن شروع کر دیا۔
اہلِ خانہ خصوصاً ڈاکٹر کے والد انتہائی ذہنی اذیت اور صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
عوامی حلقے یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایس ایچ او کینٹ اور ان کی ٹیم نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو شاید آج ڈاکٹر وردا مشتاق بازیاب ہو چکی ہوتیں۔
دوسری جانب ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر معظم خان نے کہا ہے کہ چار دن گزر جانے کے باوجود ڈاکٹر وردہ کی بازیابی نہ ہونا اداروں کی سنگین نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔ اسی غفلت کے خلاف بطور احتجاج بروز سوموار بینظیر بھٹو شہید ہسپتال ایبٹ آباد میں تمام الیکٹو سروسز کا بھرپور اور مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
علی عمران عباسی کی رپورٹ کے مطابق
جنگلات سے لاش ملنے کی اطلاعات، مرکزی ملزمان گرفتار، پولیس کی ابتدائی کارروائی پر سنگین سوالات
ایبٹ آباد کی ڈی ایچ کیو ہسپتال سے لاپتہ ہونے والی لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کا معمہ مزید گہرا ہو گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی لاش تھنڈیانی روڈ پر واقع لڑی بنوٹہ کے جنگلات سے برآمد ہونے کی خبر سامنے آئی ہے جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ سرکاری طور پر شناخت اور فرانزک تصدیق کا عمل جاری ہے۔
واقعے نے پورے ضلع میں تشویش، غم اور شدید بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ ڈاکٹر وردہ چند روز قبل ڈی ایچ کیو ہسپتال سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں سامنے آنے والے شواہد نے اس کیس کو ایک سنگین اغوا میں تبدیل کر دیا۔
پولیس نے ابتدائی طور پر ڈاکٹر وردہ کی قریبی سہیلی ردا اور اس کے شوہر وحید بلا کو حراست میں لیا لیکن تھانہ کینٹ کے سابق ایس ایچ او نے انہیں چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا اور اہل خانہ کو گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ اہم حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ ایس ایچ او نے دو دن تک ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون الرشید کو اس سنگین کیس سے لاعلم رکھا۔
یہی وہ پہلو ہے جس نے پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور کردار پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
لڑکی کو ملنے آئے دو لڑکوں کے درمیان فائرنگ ، ایک لڑکا اور لڑکی جاں بحق، دوسرالڑکا شدید زخمی
ڈی پی او کے نوٹس میں کیس آنے کے بعد ردا اور اس کے شوہر وحید کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔تحقیقات کے دوران ردا نے اعتراف کیا کہ وہ ڈاکٹر وردہ کو اپنی گاڑی میں ڈی ایچ کیو سے نکال کر جدون پلازہ میں واقع ایک گھر تک لے گئی جہاں خطرناک ڈکیت اور منشیات فروش گینگ کے اہم کارندے موجود تھے۔
ردا کے مطابق گھر کے اندرندیم نامی ڈکیت، گینگ کا سرغنہ شمریز اور دیگر نامعلوم ساتھی موجود تھے۔
ردا ڈاکٹر کو ان کے حوالے کر کے اپنی گاڑی کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔بعد ازاں شمریز اور ندیم نے ڈاکٹر وردہ کو ایک سوزوکی میں منتقل کیا اور انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔
ردا کی نشاندہی پر نواں شہر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گینگ کے سہولت کار ندیم کو گرفتار کیا۔ ندیم نے جو انکشافات کیے ان کی روشنی میں پولیس نے ٹھنڈیانی کے جنگلات، ندی نالوں اور دشوار گزار علاقوں میں ڈاکٹر وردہ کی تلاش کے لیے بڑا آپریشن کیا۔ صبح کے وقت یہ اطلاع ملی کہ تھنڈیانی روڈ کے قریب لڑی بنوٹہ گاؤں کے جنگلات سے ایک لاش ملی ہے۔
پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے لیا۔ خاتون کی شناخت اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے تک پولیس نے سرکاری طور پر ڈاکٹر وردہ ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم دستیاب شواہد اور مقام کی نشاندہی کیس کے مرکزی ملزموں کے اعترافات سے میل کھاتی ہے۔
ڈاکٹر وردہ کے والد اور قریبی رشتہ دار انتہائی صدمے اور اضطراب کی کیفیت میں ہیں۔گھر کے باہر عوام، سماجی کارکنان اور ڈاکٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو مسلسل انصاف کی اپیل کر رہی ہے۔
عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی نے ابتدائی پولیس کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تھانہ کینٹ کا ایس ایچ او بروقت قدم اٹھاتا تو ڈاکٹر وردہ کی جان بچ سکتی تھی۔اس تاخیر کو مجرمانہ غفلت قرار دیا جا رہا ہے اور مختلف حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ متعلقہ افسر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔
پولیس کی جانب سے آئندہ چند گھنٹوں میں اہم پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔تاہم علاقے میں چلنے والی افواہوں، جنگلات میں جاری مسلسل تلاش اور لاش ملنے کی اطلاعات نے عوام میں خوف، بے چینی اور افسردگی کی فضا مزید بڑھا دی ہے۔
امریکہ اور یورپ بچوں کی مبینہ ٹریفکنگ ! این جی او ہوپ کی چیئرپرسن گرفتار










