بھارتی ”میڈ ان انڈیا” مہم کو بڑا جھٹکا -ڈیلرز مودی کی جنگ بازی کا فائدہ اٹھا کراربوں روپے لوٹ رہے ہیں جبکہ ناقص ہتھیارو ں سےفوجیوں کی جانیں جا رہی ہیں

0
425

تزئین اختر

مئی 2017 میں، بھارتی فوج نے جنوبی کوریا کو 155 ملی میٹر ”K9 وجرا“سیلف پروپیلڈ ہووٹزر کے 100 یونٹس کا آرڈر دیا تھا

ابتدائی 10 یونٹ ہنوا انڈسٹریز کے ذریعے فراہم کیے گئے تھے اور 90 کو”میڈ ان انڈیا“اقدام کے تحت بھارت میں تیار کیا گیا

تاہم، بھارت میں مقامی طور پر تیار کردہ ”K9 وجرا ہووٹزر“ یونٹس کو فیلڈ فائرنگ کے دوران تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑ ا

جس سے بھارت میں مقامی سطح پر تیار کردہ ہتھیاروں کے معیارپر سوالیہ نشان اٹھنے لگے

اے کے 47 رائفل کی جگہ نئی 5.56 ایم ایم “انساس ” رائفل کے بریچ لاک، پسٹن ایکسٹینشن، باڈی ہاؤسنگ، یونٹ برسٹ کنٹرول میں خرابیاں

بھارت اس لحاظ سے بہت بدقسمت ملک ہے کہ ایک طرف وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑلگاتا اور پڑوسیوں کی سلامتی کو چیلنج کرتا ہے لیکن دوسری طرف روایتی ہتھیاروں جیسے رائفلز، توپ خانے، ٹینکوں اور دیگر ہتھیاروں کے لیے گولہ بارود بنانے میں ناکام ہے۔ ایک طرف بھارتی دنیا میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے اور دوسری طرف مقامی طور پر معیاری روایتی ہتھیار اور گولہ بارود تیار نہیں کر سکتا۔ بھارتی کمپنیاں اور ہتھیاروں کے ڈیلرز مودی کی جنگ بازی کا فائدہ اٹھا کراربوں روپے کمیشن اور رشوت کی مد میں لوٹ رہے ہیں جبکہ ہتھیار اس قدر ناقص ہیں کہ فوجیوں کی جانیں جا رہی ہیں۔

اور یہ کسی دوسرے ملک کا پروپیگنڈہ نہیں، بھارتی میڈیا پر یہ خبریں زیر بحث ہیں۔ ماضی قریب میں اور اب بھی ہندوستانی میڈیا میک ان انڈیا ہتھیاروں کی کوالٹی پر بے شمار سوالات اٹھا رہا ہے جس نے بہت سے اہلکاروں کی جانیں لینے کے ساتھ ساتھ بھارت کے فوجی شراکت داروں کو بھی جھٹکا دیا۔

بھارتی میڈیا والے جو اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں ان میں دی ڈیفنس پوسٹ، گلوبل ڈیفنس انسائٹ، این ڈی ٹی وی، دی اکنامک ٹائمز، دی ٹائمز آف انڈیا، اے پی این، دی ویک، انڈیا ٹوڈے اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ ان کی رپورٹس گوگل پر بہت آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں بین الاقوامی میڈیا جیسے ویون ٹی وی اور دیگر نے بھی بھارتی ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کے خراب معیار کی رپورٹیں نشر اور شائع کی ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی سیکورٹی فورسز کے 429 ہتھیار، سازوسامان اور آلات ناقص پائے گئے ہیں جس نے نہ صرف بھارتی ”میڈ ان انڈیا” والی مودی حکومت کو چونکا دیا ہے بلکہ اس کی نام نہاد دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بجاد ی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے علاوہ خود بھارتی فوج نے کئی ہتھیاروں کو مسترد کرتے ہوئے خراب معیار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی فوج نے مقامی ساختہ ٹینکوں، توپ خانے، فضائی دفاع اور دیگر توپوں کے لیے فراہم کیے جانے والے گولہ بارود کے ناقص معیار کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہونے والے حادثات پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

Pakistan in the World – May 2025

سب سے اہم بات اس بنیادی رائفل کے بارے میں ہے جس کا استعمال تمام بھارتی فوجی ہر محاذ پر کرتے ہیں ۔ مودی حکومت نے اے کے 47 رائفل کی جگہ نئی 5.56 ایم ایم “انساس ” رائفل لانے کے لیے اربوں ڈالر سے ایک پروجیکٹ شروع کیا۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق پچھلے 6 سال میں 27 فوجیوں نے ناقص “انساس ” کی وجہ سے اپنی جان گنوائی۔ اکنامک ٹائمز کی رپورٹ ہے کہ بھارتی فوج نے مسلسل دوسرے سال “انساس ” رائفل کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ یہ ٹرائلز میں بری طرح ناکام رہی تھی۔

اسی میڈیا آرگنائزیشن نے اعداد و شمار پیش کیے کہ 2015-16 سے 2019-20 کے دوران بھارتی فوج نے مختلف خرابیوں کی وجہ سے 13 سے 17 فیصد “انساس ” رائفلیں واپس کیں۔ خرابیاں بریچ لاک، پسٹن ایکسٹینشن، باڈی ہاؤسنگ، یونٹ برسٹ کنٹرول وغیرہ میں پائی گئی ہیں۔

دی ویک لکھتا ہے کہ “انساس ” صحیح طریقے سے فائر کرنے میں ناکام رہی۔ بھارتی حکومت کی آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رائفل کام نہیں کر رہی۔اے پی این نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ رائفل ٹیسٹ کے مرحلے میں ناکام ہوگئی۔

این ڈی ٹی وی نے مغربی بنگال میں بھارتی فضائیہ کے تربیتی کرافٹ کے گر کر تباہ ہونے پر ایک رپورٹ نشر کی ہے جبکہ ویون ٹی وی نے تکنیکی خرابیوں پر مدھیہ پردیش میں بھارتی فضائیہ کے 2 جہازوں کے حادثے کے بارے میں ایک اور رپورٹ نشر کی ہے۔

دسمبر 2021 میں بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور دیگر 11 افرادریاست تامل ناڈو میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ جنرل راوت بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، یہ عہدہ حکومت نے 2019 میں قائم کیا تھا، اور انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے قریب دیکھا جاتا تھا۔دراصل بھارت نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی پوسٹ پاکستان کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی پوسٹ سے نقل کی کیونکہ اس کی فوج کے تینوں ونگز کے درمیان رابطے میں مدد ملتی ہے۔ ہیلی کاپٹر روسی ساختہ ایم آئی 17 تھا، لیکن اسے بھارتی نظام سے چلایا جا رہا تھا۔

K9 وجرا ہووٹزر پر بھی انڈیا میں ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔جب بھارت نے انہیں مقامی طور پر تیار کیا تو یہاں بھی بھارت کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا کیونکہ اس میں تکنیکی خرابیاں پائی گئی ہیں اور فوج نے ان کے معیار پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

مئی 2017 میں، بھارتی فوج نے جنوبی کوریا کو ”K9 وجرا“سیلف پروپیلڈ ہووٹزر کے 100 یونٹس کا آرڈر دیا تھا۔ابتدائی 10 یونٹ ہنوا انڈسٹریز کے ذریعے فراہم کیے گئے تھے اور 90 کو”میڈ ان انڈیا“اقدام کے تحت بھارت میں تیار کیا گیا تاہم، بھارت میں مقامی طور پر تیار کردہ ”K9 وجرا ہووٹزر“ یونٹس کو فیلڈ فائرنگ کے دوران تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے بھارت میں مقامی سطح پر تیار کردہ ہتھیاروں کے معیارپر سوالیہ نشان اٹھنے لگے۔ 31 مارچ 2022 کو بھارتی فوج میں شامل”K9 وجرا“کی بیرل ناقص ایمونیشن کے استعمال سے پھٹ گئی جس کے نتیجے میں بیرل اور مزل بریک ناکارہ ہو گئیں۔

یہ 155 ملی میٹر، 52-کیلیبر ٹریکڈ سیلف پروپلڈ ہووٹزر (کم رفتار سے اونچی رفتار پر گولے فائر کرنے کے لیے ایک مختصر بندوق) ہے جسے بھارتی کمپنی لارسن اینڈ ٹوبرو نے بھارت میں جنوبی کوریا کی کمپنی ہنوا ڈیفنس سے منتقل کی گئی ٹیکنالوجی کے ساتھ بنایا۔

بھارت نے K9 وجرا ہووٹزر رجمنٹ کو لداخ سیکٹر میں تعینات کیا ہے۔ یہ بنیادی طور پر صحراؤں میں استعمال کے لیے خریدا گیا تھا، لیکن لیکن جب چین نے لداخ میں بھارت کو للکارا تو بھارت نے اس رجمنٹ کو لداخ میں چین کے خلاف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔

لیفٹننٹ جنرل آر پی آر شنکر نے اگست 2017 میں ایک مضمون لکھا تھا کہ گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا میں 155 ایم ایم گن K-9 تھنڈر کی فائرنگ کے دوران ایک حادثہ پیش آیا تھا جس میں ان کے دو فوجی مارے گئے تھے۔ یہ 21 اگست کو دی کوریا ہیرالڈ میں رپورٹ کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ گولہ بارود سے متعلق حادثہ معلوم ہوتا ہے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

لارسن اینڈ ٹوبرو ہنوا ڈیفنس نے 21 اپریل کو بھارتی فوج کے لیے وجرا ہووٹزر آرٹلری گن پروگرام انجام دینے کے لیے 720 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے ۔ اب جب مقامی پیداوار تسلی بخش نہیں ہے تو بھارت نے انہیں کوریا سے خریدنے کا فیصلہ کیا جس پربھارتی میڈیا میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور انہوں نے سوال اٹھانا شروع کر دیے کہ 720 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیوں ہوئے اگر دوبارہ اسلحہ درآمد کیا جائے گا مقامی طور پرنہیں بنایا جائے گا؟

مزید یہ کہ بھارتی میڈیا فوجی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں اور ڈیلروں پر ایسے معاہدوں اور سودوں میں کمیشن لینے اور کک بیکس لینے کے الزام لگاتاآر ہا ہے۔

Pakistan in the World – March 2025

بھارت کے پاس 15 لاکھ سے زیادہ فعال اہلکاروں کی دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت ہے۔ اس کے پاس 51 لاکھ سے زیادہ اہلکاروں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی رضاکار فوج بھی ہے۔ مالی سال 2021 کے لیے بھارتی فوج کا بجٹ 4 لاکھ78 ہزار کروڑ روپے تھا۔ 2023 میں 5.6 ٹریلین روپے یا 70 ارب ڈالر تھا۔ امریکہ 372 ارب ڈالر اور چین 261 ارب ڈالرکے بعد تیسرا سب سے بڑا سالانہ فوجی بجٹ بھارت کاہے۔یہ سعودی عرب کے بعد دوسرا سب سے بڑا فوجی درآمد کنندہ ہے جو عالمی ہتھیاروں کی درآمد کا 9.2 فیصددرآمد کرتاہے ۔بھارت نے 2000 سے 2022 تک،روس، فرانس، اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ سے سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کیا۔

بھارت میں ملکی فوجی صنعت کا 60% سرکاری ملکیت میں ہے۔ پبلک سیکٹر میں این ٹی آر او، سی ایس آئی آر، پی آر ایل، ڈی آر ڈی او اور اس کی 50 لیبز، 4 دفاعی شپ یارڈ، 12 دفاعی پی ایس یو شامل ہیں۔ 2022 میں، بھارتی حکومت نے کئی بڑے دفاعی پلیٹ فارمز اور آلات کی درآمد ختم کر دی، جس میں کوسٹ گارڈ کے لیے ہیلی کاپٹر، آل ٹیرین گاڑیاں (اے ٹی وی) اور مختصر فاصلے کے میزائل شامل تھے۔ درآمدات کم کرنے اور ملکی مینوفیکچرنگ بڑھانے کے لیے بھارت نے فوجی خریداری اورملکی مینوفیکچرنگ کی نئی پالیسی اختیار کی ہے جس میں بھارت کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

مودی کے ذہین افسران نے فوجی ہتھیاروں کی کم درآمد اور زیادہ برآمدات کی نئی حکمت عملی تیار کی تھی اور انہوں نے مسٹر پردھان منتری کو باور کرایا تھا کہ بھارت ہتھیاروں کی برآمد سے 2 لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے کمائے گا لیکن جلد ہی ان کا خواب ٹوٹ گیا۔

بھارتی آ رمی فوجی بجٹ کا 50 فیصد خرچ کرتی ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ”میڈ ان انڈیا” اقدام بھارت میں روایتی گولہ بارود اور ہتھیاروں کی تیاری کا تھا لیکن یہ اقدام بری طرح ناکام ہوا اور میڈیا مودی حکومت پر کڑی تنقید کر رہا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ ذمہ دار کون ہیں اور انہیں احتساب کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے، یہ بحران ایک ایسے وقت میں ابھرا ہے جب نریندر مودی اور ان کی پارٹی تیسری مدت کے لیے انتخاب میں ہے جو ناممکن نہیں تو بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔

مودی حکومت نے اپنے پہلے سال میں 39 کیپٹل پروکیورمنٹ تجاویز کو کلیئر کیا، جن میں سے 88,900 کروڑروپے یا 11 ارب ڈالر یا کل پروپوزل کی مالیت کے 96% مالیت کی 32 تجاویز کو ”میڈ ان انڈیا” کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں سازوسامان کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے، مودی حکومت نے مسلح افواج کو وزارت کی مشاورت کے بغیر 500 کروڑ تک کا سامان خریدنے کے مالی اختیارات دیے ہیں۔اس سے ہتھیاروں کی اقسام، ان کے پرزے اور اجزاء، برقرار رکھنے کی لاگت میں مزید اضافہ ہو گا جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں عدم مطابقت اور معیار کے مسائل پیدا ہوں گے۔

دفاعی شعبے کی تزویراتی اور اقتصادی اہمیت کے باوجود، ایسے متعدد اسکینڈل سامنے آئے ہیں جن کا تعلق دفاعی سودوں سے ہے جن میں ہندوستانی حکومت کی جانب سے غیر ملکی ہتھیاروں کی درآمد شامل ہے۔ ان میں سے بہت سے اسکینڈلوں میں رشوت ستانی اور درمیانی افراد کی مبینہ شمولیت کے الزامات شامل ہیں۔

سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے مطابق، وپن کھنہ، سدھیر چودھری اور سریش نندا ہتھیاروں کے تین سب سے بڑے اور طاقتور ڈیلر تھے۔ مبینہ طور پر، کھنہ، چودھری اور نندا نے 1980 کی دہائی میں بوفورس سکینڈل سے پہلے سے ہی دفاعی شعبے پر غلبہ حاصل کرنا شروع کر دیا تھا، اور ان کے خاندان نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

Pakistan in the World – September 2025

ہتھیاروں کے سودوں سے ان کا کمیشن 15% تک ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کھنہ، چودھری اور نندا نے دفاعی سودوں کی منظوری حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ ان کے پاس ہندوستان کے اندر اپنے اثر و رسوخ اور روابط کی وجہ سے سیاسی اور بیوروکریٹک پروکیورمنٹ کے عمل کے ذریعے ڈیل حاصل کرنے کی صلاحیتیں ہیں۔تینوں افراد اور ان کے خاندان کے افراد پر کئی دفاعی اسکینڈلز میں الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم ان کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا۔

فوجی ہتھیاروں اور ساز و سامان کی تیاری میں بھارت کا یہ حال ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ متحدہ برصغیر کی تقسیم کے بعد تمام آرڈیننس فیکٹریاں بھارت میں چلی گئیں جبکہ پاکستان کی سرزمین پر ایک بھی آرڈیننس فیکٹری نہیں تھی۔ اس کے باوجود پاکستان نے اپنا سفر صفر سے شروع کیا اور اب اس مقام پر پہنچ گیا جہاں دنیا کے کئی ممالک پاکستانی آرڈیننس فیکٹریوں میں تیار ہونے والے ہتھیار اور آلات خریدنا پسند کرتے ہیں۔ اور ایک ایسا ملک جس نے تمام کارخانے لے لیے وہ دفاعی پیداوار کے میدان میں اب بھی بہت پیچھے ہے۔

اللہ کے فضل و کرم سے پاکستانی آرڈیننس فیکٹریاں جدید ترین ہتھیار اور سازوسامان تیار کر رہی ہیں جن کا استعمال کرنے والے اہلکاروں کے لیے 100% حفاظتی معیارات ہیں۔ پاکستانی دفاعی مصنوعات جدید ترین مصنوعات ہیں جن کی دنیا میں بڑی مارکیٹ ہے۔ پاکستانی فوج پوری دنیا کی واحد فوج ہے جو خود انحصاری کے فلسفے پر کام کرتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضروری مواد، سازوسامان، آلات اور ہتھیار مقامی طور پر  تیار کیے جائیں اور قومی خزانے پر کم سے کم انحصار کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here