میرے کالم کا عنوان انسپیکٹر جنرل اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کے وہ لفاظ ہیں جو وہ اپنی سپاہ کے سامنے کھڑے ہو کر ادا کر رہے ہیں ان کے لہجے چہرے اور باڈی لینگویج سے فتح کا سرور صاف دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے میرے ،،گرائیں ،،ایس ایس پی شعیب خان کے تو گالوں کو ہاتھ لگا کر وہ کہہ رہے ہیں کہ تم سب نے وہ کام کر دکھایا جس پر میں فخر محسوس کر سکتا ہوں
یہ وہ لمحہ تھا جب رات کی تاریکی ختم ہو چکی تھی اور صبح کی روشنی پھیل رہی تھی ایک انتشار پسند ٹولہ پولیس کی بے رحم مار کھانے کے بعد نہ صرف غائب ہو چکا تھا بلکہ ان کے جلے ہوئے کنٹینرز اور گاڑیوں کی فوٹج سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز لے رہی تھی پولیس کے ایک نوجوان ایس ایچ او کی شہادت کی خبر اس کی تصویر سمیت پوری قوم کے درد دل رکھنے والے پاکستانیوں کو خوفزدہ کر رہی تھی کہ مرنے والے بھی شہید اور مارے جانے والے بھی شہید ہونے کے دعویدار تھے
تحریک لبیک پاکستان کے دونوں ،،رضوی برادرز،، غائب تھے یا غائب کر دیے گئے تھے پولیس یا حکومت کی طرف سے ان کی گرفتاری یا شہادت سے مکمل لاعلمی ظاہر کی جا رہی تھی کہ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو چکا تھا اور کوئی بڑا ہی ہو چکا ہے جو کافی سنگین ہو سکتا ہے ،
ماضی میں سٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اغوا اور تشدد کا نشانہ بننے والا میرا چھوٹا بھائی عمر چیمہ بھی بتا رہا تھا کہ حکومت کی طرف سے ٹی ایل پی کی تین ہلاکتوں اور ٹی ایل پی کی طرف سے 180 ہلاکتوں کچھ بھی سچ نہیں ہے تین سے زیادہ ہلاکتوں کی شہادت ہے اور 180 تو کسی بھی صورت میں نہیں ہے لیکن کیا ایک بھی شہادت یا ہلاکت کسی سانحہ سے کم ہوتی ہے ؟
یہ وہ سوال ہے جو ایک لاکھ کے قریب دہشت گردی کی بھیٹ چڑھنے والے شہیدوں کے ورثاپوچھتے ہیں ۔لیکن کسی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے اگر جواب ہے بھی تو کوئی دینا نہیں چاہتا ۔
امیر المومنین ضیاء الحق کے دور میں میں بہت نوجوان تھا۔ ویگنوں اور بسوں کے ساتھ چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں روزانہ بم پُھٹتے تھے ۔شیعہ سنی کی جنگ عروج پر تھی۔ ضیاء الحق ائے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے دعوے کیے تھے لیکن یہ جڑیں ختم ہونے کے بیجا ے پورے پاکستان میں پھیل گئیں ۔دہشت گردی اج بھی ایک خوفناک حقیقت بن کر منہ کھولے کھڑی ہے ۔
مذہبی جماعتوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز پاکستان کے سسٹم کا منہ نوچتے رہتے ہیں الطاف حسین سے اکبر بگٹی تک اور سعد رضوی سے کے پی کے کے نئے انے والے وزیر اعلی آفریدی تک سب کو دہشت گرد کا نام دیا جاتا ہے ۔نواز شریف کو مودی کا یار اور عمران کو یہودیوں کا ایجنٹ ۔
بڑے بڑے خونی اپریشن ہوئے۔ لال مسجد کا خونی کھیل ہو یا سعد رضوی کی جماعت کے خلاف گولیوں کی بوچھاڑ ایم کیو ایم کے خلاف جنرل نصیر اللہ بابر کا تاریخی آپریشن کلین اپ ہو یا اکبر بگٹی کا قتل ۔یہ سلسلہ رک کیوں نہیں رہا ؟ہر بار یہ لولی پا پ دیا جاتا ہے کہ بس اب بہت ہو گیا اب امن ہوگا خوشحالی ہوگی مذہبی دہشتگردی سمیت صوبائی عصبیت کا مکمل خاتمہ ہوگا لیکن یہ سلسلہ جاری تھا ،جاری ہے
”ماڈل ٹاؤن لاہور ہو یا لال مسجد میں قتل عام یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ؟جب طاہر لقادری اور سعد رضوی جیسے ،،عاشق رسول ،،طاقت پکڑنا شروع کرتے ہیں تو قانون انہیں پکڑنے کے بجائے ڈھیل دیتا ہے یا پھر ،،ڈیل ،،پھر یہ لوگ اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ ریاست اور سسٹم کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔پھر ریاست بھی ایک ماں کے بجائے ایک ڈائن کا روپ دھار لیتی ہے اور اپنے ہی ان بگڑے ہوئے بچوں کو کھا جاتی ہے ۔
اب یہ وقت ہے کہ تمام سیاسی قوتیں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک فیصلہ کر لیں کہ اس ملک میں اب کسی کو فتنہ نہیں بننے دیا جائے گا یہ فتنےبننےاور بنانے کا کھیل ختم ہو جائے گا تو دہشت گردی بھی جڑ سے خود ہی ختم ہو جائے گی ورنہ اور کی جگہ کئی اور لوگ آتے رہیں گے ۔پھر وقت کے حکمران ہوں یا ،،طاقتور لوگ ،، ان کو بھی انتشار پسند فتنوں کے نام دیتے رہیں گے اور ایسے ہی آپریشن اس ملک کا مقدر بنے رہیں گے #
اس کالم پر قارئین اور ساتھی صحافیوں کا ردعمل
Saleh Moghal Journalist
اپنے لوگون پر گولی چلانا نہ پہلے ٹھیک تھا نہ اب ٹھیک ۔۔۔رہا آئی جی کا شاباش دینا تو پولیس کو شتر بے مہار نہیں ہونا چاہیے کہیں تو ان کے لیے چیک اینڈ بیلنس رہنا چاہیے ۔۔۔
یہ یاد رکھیں یہ معاملات نفرتیں بڑھاتے ہیں ۔میں ٹی ایل پی یا کسی ایسی جماعت یا شخص کےقانون ہاتھ میں لینے کو بھی کسی صورت درست نہیں کہہ رھا لیکن جس دن ان لوگوں نے ملین مارچ کا اعلان کیا ہمیں پولیس و حکومت کی روکنے و نمٹنے کی تیاریاں تو نظر آئیں لیکن مارچ شروع ہونے سے قبل اور مریدکے پہنچنے تک کسی بھی سطح پر انکو بات چیت سے انگیج کرنے کی کوشش کہیں دیکھائی نہ دی مطلب حکومت یا سٹیک ہولڈرز پہلے ہی طے کر بیٹھے تھے کہ اس دفعہ انھیں ہر صورت ٹف ٹائم دینا ہے ۔۔۔
ویسے تو زبان بندی بہتر ہے لیکن کیا کسی نے کوشش کی یہ خون ریزی نہ ہو ۔۔سیاسی قیادت کہاں تھی آخری دنوں میں مولانا فضل الرحمان صاحب۔ کا زکر سامنے آیا لیکن اسکی بھی تصدیق نہیں ہوسکی ۔۔
اللّٰہ کریم اس ملک کی حفاظت فرمائے اور ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین
Zulqarnain Naqvi
دہشتگردی۔ فر قہ واریت ۔ ایم کیو ایم۔ اس ملک میں ضیاء الحق نے متعارف کرائی تھی لاقانونیت اس ملک کا مقدر بنانے والے کون ہیں دوہرے قانون و انصاف کو رائج رکھنے والے دہشتگرد کون ہیں آۓ روز شہداء کے جنازے بھیجنے والے کون ہیں کونسا محاذ فتح ہو رہا ھے پہلے 50 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو 40/50 سال سے پاکستان میں جرائم کا بادشاہ بنانے والے کون ہیں امریکہ کو افغانستان سے محفوظ راستے سے نکالنے والے کون ہیں آج افغان بارڈر پر انکی 19 پوسٹوں پر قبضہ کر کے سعودیہ کے پیغام پر بہن بھائی بنانے والے جنگ بندی روکنے والے کون ہیں اس ملک کو قرضوں کے سہارے پر لاکھڑا کرنے والے کون ہیں اس عوام کو امدادی پیکج بھیک دیکر بھیکاری بنانے والے کون ہیں کیا یہ سب کچھ جنکی ناک تلے ہو رہا ھے وہ ہیروئن کا سنگھاڑہ لگا کے پر باش خاموش تماشائی بن کے دیکھ رہے ہیں فیکٹریاں ملیں لگا کے روزگار دینے کی بجاۓ الیکٹرک بسوں پر سیر کرانے والے کون ہیں مہنگائی ختم کرنے کی بجاۓ پیٹرول کی قیمتیں آۓ روز بڑھانے والے کون ہیں عوام دال روٹی سے خدا کی قسم راجہ صاحب مجبور ہیں بجلی گیس کے بلوں بچوں کی سکول فیسوں کرایوں سے تنگ ہیں یہاں ہمارے حکمران عیاشیوں ناانصافیوں کے بادشاہ اس ملک وقوم کے بڑے خیرخواہ ہیں اصل میں امریکہ اسرائیل کے غلام ابن غلام ہیں جو آرڈر امریکہ سے آتا ھے اس پہ من و عن انکے سر تسلیم خم ھیں دور چاہے کوئی بھی ہو اٹھہتر سال گزرچکے انگریز کو پاکستان سے گۓ ہوۓ وہ یہاں اپنے جھنڈے ایسے گاڑ کے گیا تھا کہ ملک کس نام تو پاکستان ہوگا رہتے بھی مسلمان ہی ہونگے مگر اس ملک پہ حکمرانی انگریز کی باقیات ہی کریں گے جو حکمرانی پاکستان پہ کرتے ہیں رہنا سہنا انگریزوں کیساتھ پسند کرتے ہیں بچوں کی تعلیم و تربیت انگریزوں کیساتھ پسند کرتے ہیں حقیقی پاکستانی جو ہیں یہاں اس وطن عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نظرانہ اپنی شہادتیں پیش کرتے ہیں اور اس ملک کی عوام دن بدن غربت کی لکیر سے نیچے ہی نیچے جا رہے ہیں ترقی یافتہ ممالک اس طرح ہوتے ہیں ہر بار عوام کو لولی پاپ دیتے ہوۓ اپنا دور اقتدار گزارا اور گۓ اگلی فلیٹ سے انگریز کے ملک ۔
Basheer Ahmad
ساری بات اسرائیل پہ آکے ختم ہو چکی ہے اسرائیل سے ریلیٹڈ کچھ نہ کچھ ہوا ہے باقی آپ سمجھ دار ہیں
Asad Nawaz
ضرورت کے مطابق اسٹبلیشمنٹ بناتی ھے ان کو پھر جب مقصد۔پورا ھونے کے بعد یہ گلے پڑتے ھیں تو پھر اسی طرح ملک میں فساد اور دونوں طرف سے شہید ھوتے ھیں۔ طالبان۔ بناے گیے ھمارے ملک سے جوانوں کو۔ جہادی جوش دے کر اسلامی بھائ ملک افغانستان کا نعرہ لگا کر جنگ لڑوائ گیی اور امریکہ کے جانے کے بعد جب یہی طالبان ھمارے سر پڑے ھیں تو کبھی رد الفساد۔ کبھی کیا کبھی کیا۔ بھائ ان۔ کو اپنی گیمیں پوری کرنے کے لیے پیدا کیوں کرتے ھوں جس کے نتایج اج ساری قوم۔ بھگت رھی ھے
Raja Jhanzeb
اس ملک کے ھی سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھی گئیں کہ دوران ریلی مسلح جتھے آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کرنے والے ورکرز کے ساتھ انتظامیہ کا رویہ دوسری طرف صرف ٹی ایل پی جو ڈنڈے جیسے غیر آتشیں چھڑی سے مسلح کے ساتھ رویہ کسی مقتدر کی ذاتی پسند وناپسند کو ریاستی آئین پر فوقیت دینے سے مسائل حل نہیں مزید ریاست اور عوام میں خلا پیدا ھوتا ھے۔
Sardar Ejaz Muhammad Khan
سیاسی حکومت تو بس ربڑ سٹیمپ ہے۔ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کرواتی ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ اس ملک میں ایوب خان سے عاصم منیر تک مارشل لا رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ حالات ہیں۔
Sohaib Shabbir Qazi
الطاف حسین کے نام کے ساتھ ہی عمران خان کو بھی نتھی کر دیا ہے اور اجکل کے ملکی حالات سے چشم پوشی کر گٸے اللہ کرۓ حافظ صاحب کو جلد ایکسٹینشن مل جاۓ دیکھ لیجیے گا ملک میں بلکل امن ہو جاۓ گا
Tazeen Akhtar
صحافی کی کوئی پارٹی نہیں ہوتی! مگر صحافی رائٹ رانگ میں سے ایک پارٹی سلیکٹ کر سکتا ہے! غیرجانبداری تما م معاملات میں نہیں ہو سکتی!
ذیادتی دونوں طرف سے ہو رہی ہے! راجہ صاحب نے صحیح لکھا ہے۔چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قرار ! دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی










