عالمی برادری امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت کرے: کیوبا کے سفیر کی اپیل

0
34

محاصرہ کیوبا کی آبادی کے خلاف اجتماعی سزا ہے بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے،دامیان کورڈیرو ٹورس

سپلائی چین کی پابندیوں کی وجہ سے شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح 9.3 فی ہزار تک بڑھ گئی پریس کانفرنس

جمہوریہ کیوبا کے سفیر دامیان کورڈیرو ٹورس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 27 اور 28 اکتوبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیوبا کی سالانہ مسودہ قرارداد “جمہوریہ کیوبا کے خلاف امریکہ کی اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی ناکہ بندی ختم کرنے کی ضرورت” کی حمایت کرے۔یہ 34 واں مسلسل سال ہے جب ہوانا نے یہ قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان میں کیوبا کے سفارت خانے نے “انسانی اور معاشی نقصان : دنیا کو کیوبا پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے ووٹ کیوں دینا چاہیے” کے عنوان سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں دہائیوں سے جاری امریکی ناکہ بندی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔سفیر نے انکشاف کیا کہ یکم مارچ 2025 سے 28 فروری 2026 کے درمیان ناکہ بندی کے نتیجے میں کیوبا کو ہونے والے کل نقصانات ریکارڈ 8.083 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

سفیر نے حالیہ اقدامات کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی، جن میں ایگزیکٹو آرڈر 14380 (29 جنوری 2026 کو جاری) شامل ہے، جس نے کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے تیسرے ممالک پر محصولات عائد کر کے توانائی کے محاصرے کو باضابطہ شکل دی، اور ایگزیکٹو آرڈر 14404 (یکم مئی 2026 کو جاری) جس نے توانائی، کان کنی، مالیات، سیکیورٹی اور دفاع جیسے اسٹریٹجک شعبوں کو نشانہ بنانے والی ثانوی پابندیوں کو وسعت دی۔

سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شدید محاصرہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو کیوبا کی آبادی کے خلاف اجتماعی سزا کے طور پر کام کر رہا ہے ، نیشنل الیکٹرک پاور سسٹم میں بجلی کی بندش اور بیک اپ جنریٹر کے لیے ایندھن کی قلت کی وجہ سے لاکھ سے زائد سرجری ملتوی یا منسوخ کر دی گئی ہیں۔

سپلائی چین کی پابندیوں کی وجہ سے 1,200 بچوں سمیت ایک لاکھ 18 ہزار سے زائد کینسر کے مریض فرسٹ لائن علاج تک رسائی سے محروم ہیں۔سفیر نے کہا کہ شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح 9.3 فی 1,000 زندہ پیدائش تک بڑھ گئی ہے، نومولود بچوں کی 1,780 اموات ہیں۔ایندھن اور ادویات کی شدید قلت ملک بھر میں بنیادی صحت، خوراک اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے ریاستی سرپرستوں کی فہرست میں کیوبا کو من مانی طور پر برقرار رکھنے پر بھی بات کی گئی، جو بین الاقوامی بینکاری خدمات تک رسائی کو شدید طور پر محدود کرتی ہے اور من مانے مالیاتی سرچارج عائد کرتی ہے۔

کیوبا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس نے بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے وعدوں کی مستقل طور پر تعمیل کی ہے اور وہ دہشت گردی کا سرپرست نہیں بلکہ شکار ہے۔

سفیر دامیان کورڈیرو ٹورس نے برابری، باہمی احترام اور قومی خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ باعزت مکالمے اور دوطرفہ مذاکرات کے لیے کیوبا کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ تاہم زور دیا کہ کیوبا اپنی آزادی یا خود ارادیت کے حوالے سے کوئی رعایت نہیں دے گا۔سفارت خانے نے کہا، آج کیوبا کی حمایت کرنا ہمت، انصاف اور تاریخی ذمہ داری کا عمل ہے، اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے حق میں ایک عمل ہے اور امریکی حکومت کی جانب سے کیوبا پر ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے لیے بین الاقوامی حمایت کا مطالبہ کیا۔

کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پریلا اور اقوام متحدہ میں سفیر ارنسٹو سوبرون نے واشنگٹن پر الزام لگایا ہے کہ وہ بین الاقوامی ووٹوں پر اثر انداز ہونے اور جزیرے کے لیے روایتی حمایت کو کمزور کرنے کے لیے ایک جارحانہ سفارتی دباؤ مہم شروع کر رہا ہے۔

کیوبا کی رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں اور توانائی/ایندھن کی پابندیوں نے بڑے پیمانے پر نقصانات (مارچ 2025 سے فروری 2026 کے درمیان 8 بلین ڈالر سے زائد کا تخمینہ) پہنچائے ہیں، جس سے بجلی کی وسیع بندش، ایندھن کی قلت، اور خوراک و ادویات کی فراہمی کے شدید مسائل ہیں۔