پاکستان قرض لینے والے ممالک کے گروپ ’باروئرز پلیٹ فارم‘ کی گورننگ کونسل کا چیئرمین بن گیا ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پیر کو تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں عالمی بینک (ورلڈ بینک) گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا سالانہ اجلاس ہوا۔
پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری تفصیلات کے مطابق، اس اجلاس کے دوران وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ’باروئرز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ قبول کی۔‘
اس موقع پر انھوں نے کہا کہ پلیٹ فارم کو ’مل کر سیکھنے‘ اور ’تکنیکی تعاون‘ کے فروغ کا ذریعہ بننا چاہیے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق محمد اورنگزیب نے باروئرز پلیٹ فارم کو سال 27-2026 کے لیے پاکستان کی ترجیحات بھی بتائیں۔ انھوں نے قرضوں کے انتظام کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے، اصلاحات کے لیے ایک دوسرے سے سیکھنے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنے پر زور دیا۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ قرض کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے ترقی کا ایک ذریعہ بننا چاہیے۔
تجارت اور ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ (یو این سی ٹی اے ڈی) نے بھی باروئرز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کے پہلے اجلاس سے متعلق تفصیلات جاری کی ہیں۔
ادارے کی پریس ریلیز کے مطابق یہ اجلاس گذشتہ روز (12 اکتوبر) کو ہوا، جس میں ترقی پذیر ممالک کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کی پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی پلیٹ فارم میں شامل نئے رکن ممالک سے خطاب کیا۔
انھوں نے کہا: ’ترقی پذیر ممالک کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تنازعات، تجارت اور موسمیاتی دباؤ، مناسب مالی معاونت کی کمی اور قرضوں کی ادائیگی کے بھاری بوجھ جیسے متعدد چیلنجز کا بیک وقت سامنا ہے۔
’باروئرز پلیٹ فارم اپنے اراکین کو اس طوفان سے نمٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘
یو این سی ٹی اے ڈی کی پریس ریلیز کے مطابق اب تک 31 ترقی پذیر ممالک با ضابطہ طور پر اس پلیٹ فارم میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر ممالک نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمے اگست 2026 کے اختتام تک 82 ہزار 953 ارب روپے کا قرض واجب الادا تھا، جو ایک سال قبل اگست 2025 کے اختتام پر 77 ہزار 458 ارب روپے تھا۔ اس مجموعی قرضے میں اندرونی اور بیرونی دونوں قرضے شامل ہیں۔ مجموعی قرضے میں بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً 87 ارب ڈالر ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، ایک سال مدت کے بیرونی قرضوں میں پیرس کلب کے رکن ممالک کے 5.2 ارب ڈالر، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے 43.5 ارب ڈالر اور مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے 14 ارب ڈالر کے قرضے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان نے یورو بانڈز، سکوک اور دیگر مالیاتی بانڈز کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں (کیپیٹل مارکیٹ) سے تقریباً چھ ارب ڈالر حاصل کر رکھے ہیں، جبکہ 6.4 ارب ڈالر کمرشل قرضوں کی صورت میں واجب الادا ہیں۔
ایک سال سے کم مدت کے قرضوں میں 8.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ایک ارب ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرضوں کا حجم تقریباً 11 ارب ڈالر ہے۔