نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخوں کے خلاف مقدمات کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دے دیا

0
638

*نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر سندھ ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ ملیر میں جاری گیارہ زیر حراست گستاخوں کے خلاف ٹرائل کو روک دیا*

*مذکورہ کمیشن نے اسلام دشمن بیرونی ایجنڈے کے تحت اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے خلاف قانون رپورٹ مرتب کرکے گستاخوں کو تحفظ دینے کی بھونڈی کوشش کی ہے*

*مذکورہ رپورٹ کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج اور مذکورہ کمیشن کا عدالتی،پارلیمانی اور عوامی فورمز پر بھرپور محاسبہ کیا جائے گا۔تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کا مذکورہ رپورٹ پر شدید ردعمل*

کراچی: نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان نے اپنی رپورٹ میں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف توہین مذہب و توہین رسالت کی دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر سندھ ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گیارہ زیر حراست گستاخ ملزمان کے خلاف سیشن کورٹ ملیر میں جاری ٹرائل کو حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے روک دیا۔
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی مذکورہ رپورٹ کو مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو تحفظ دینے کے اسلام دشمن بیرونی ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے اپنے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔مذکورہ رپورٹ کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرکے مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو تحفظ دینے کی مذکورہ بھونڈی کوشش کو ناکام بنا دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث زیر حراست گستاخ ملزمان کی فیملیز کی جانب سے دی گئی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اپنی 66 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں مذکورہ ملزمان کے خلاف توہین مذہب و توہین رسالت کی دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی اے کی ملی بھگت سے نوجوانوں کو ٹریپ کرکے توہین مذہب و توہین رسالت کے مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے۔کمیشن نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج کئے گئے تمام مقدمات کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

یونان اور لیبیا کشتی حادثے میں ملوث خاتون سمیت 2 انسانی سمگلر گرفتار

دریں اثناء سندھ ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس صلاح الدین اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی میں گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف درج مقدمہ نمبر 13/2023 میں زیر حراست گیارہ گستاخ ملزمان کی جانب سے دائر پٹیشن پر ابتدائی سماعت کے بعد اپنے حکم نامہ میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان کی مذکورہ رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے مذکورہ ملزمان کے خلاف سیشن کورٹ ملیر میں جاری ٹرائل کو حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے روک دیا۔
عدالت عالیہ نے آئندہ تاریخ سماعت کے لئے ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو نوٹس جاری کر دیا۔دوسری طرف تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کے مرکزی صدر علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی اور جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان کی مذکورہ رپورٹ کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ”نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان مقدس ہستیوں کے گستاخوں کا سہولت کار بن چکا ہے۔اسلام دشمن بیرونی ایجنڈے کے تحت مذکورہ کمیشن نے اپنے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حقائق کے برعکس مذکورہ خلاف قانون رپورٹ مرتب کرکے مقدس ہستیوں کے زیر حراست گستاخوں کو تحفظ دینے کی ایک بھونڈی کوشش کی ہے۔جسے ہم اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرکے ناکام بنا دیں گے”۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ”نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ایکٹ 2012 کی دفعہ نائن سی کے تحت مذکورہ کمیشن کو صرف اس حدتک تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل تھا کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث جیلوں میں قید گستاخوں کو کیا جیلوں میں قانون کے مطابق بنیادی حقوق فراہم کئے جارہے ہیں یا نہیں۔
مذکورہ کمیشن کو قانوناً یہ اختیار حاصل ہی نہیں کہ وہ کسی مقدمے کے درست یا غلط ہونے کے متعلق رپورٹ مرتب کرے۔مذکورہ کمیشن نے مذکورہ گستاخوں کے خلاف درج مقدمات کے متعلق خلاف قانون رپورٹ مرتب کرکے نہ صرف یہ کہ عدالتوں کے قانونی امور میں مداخلت کی ہے،بلکہ مذکورہ رپورٹ کے ذریعے مذکورہ گستاخوں کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونے کی بھی کوشش کی ہے۔
مذکورہ اقدام کے ذریعے سنگین جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔جس پر ہم مذکورہ کمیشن کا نہ صرف یہ کہ عدالتی فورم پر محاسبہ کریں گے بلکہ پارلیمانی اور عوامی فورمز پر بھی مذکورہ کمیشن کا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا۔مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو تحفظ دینے کی کسی کوشش کو نہ تو پہلے کبھی عوام پاکستان نے کامیاب ہونے دیا اور نہ ہی آئندہ کبھی کامیاب ہونے دیں گے”۔

Pakistan in the World – December 2024

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here