عدالتِ عالیہ نے ملزمان عابد علی اور شفقت عرف بگا کی اپیلیں خارج کر دیں سزائے موت اور دیگر تمام سزائیں برقرار

0
93

(آئینہ عدالت ؛ احسن یار چھینہ، ایڈووکیٹ ھائ کورٹ)

9ستمبر 2020 کی تاریک اور سنسان رات تھی، سنسان موٹروے پر مظلومہ مسماۃ ثناء (فرضی نام)، جو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ (ایم اے انگلش) خاتون ہیں، اپنے تین معصوم بچوں کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہی تھیں کہ اچانک پٹرول ختم ہو جانے کی وجہ سے ان کی گاڑی موٹروے پر بند ہو گئی۔ بے یار و مددگار خاتون نے فوری طور پر اپنے قریبی رشتہ دار سردار شہزاد کو فون کر کے اپنی صورتحال اور لوکیشن شہیر کی ۔ شہزادنے انہیں موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا اور خود اپنے ایک دوست جنید کے ساتھ گوجرانوالہ سے مدد کے لیے روانہ ہو گیا۔ لیکن جب تک وہ صبح چار بجے کے قریب بتائی گئی جگہ پر پہنچے، وہاں کا منظر دل دہلا دینے والا تھا؛

گاڑی کی ڈرائیور سائیڈ کی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا، دروازے پر خون کے تازہ دھبے جمے ہوئے تھے، اور گاڑی لاوارث حالت میں کھڑی تھی۔ ایک خوفناک وسوسے کے تحت انہوں نے تلاش شروع کی، تو کچھ ہی دیر میں مظلومہ خاتون اپنے معصوم بچوں کو سمیٹے، موٹروے اور ساتھ متصل جنگل کے درمیان موجود کچے راستے سے بدحواس حالت میں آتی ہوئی دکھائی دیں۔

خاتون نے کانپتی ہوئی آواز میں اس خوفناک واردات سے پردہ اٹھایا جو ان پر بیت چکی تھی۔ جب وہ پٹرول کا انتظار کر رہی تھیں، تبھی گاڑی کے سامنے کی لائٹوں کی روشنی میں دو نامعلوم مسلح افراد، جن میں سے ایک پسٹل اور دوسرا ڈنڈے سے لیس تھا، نمودار ہوئے۔ مسلح ملزم عابد علی نے پسٹل کی بٹ سے ڈرائیور سائیڈ کا شیشہ توڑ دیا اور خاتون و بچوں کو برہنہ پستول کی نوک پر زبردستی گھسیٹ کر نزدیک موجود تاریک جنگل میں لے گئے۔ وہاں بچوں کو قتل کرنے کی ہولناک دھمکیاں دے کر ملزم عابد علی اور شفقت عرف بگا نے باری باری ان کی عفت کو تار تار کیا۔ ملزمان نے ان سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے دو کنگن، ایک بریسلیٹ، گاڑی کی رجسٹریشن بک اور تین اے ٹی ایم کارڈز بھی چھین لیے۔ اس دردناک اور انسانیت سوز واقعہ کا مقدمہ تھانہ گجر پورہ لاہور میں درج کیا گیا۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1 لاہور نے باقاعدہ ٹرائل کے بعد 20 مارچ 2021 کو فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان عابد علی اور شفقت عرف بگا عمر قید مع جائیداد کی ضبطگی، 14 سال قیدِ با مشقت مع دو لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 440 کے تحت 5 سال قید مع 50 ہزار روپے جرمانہ، اور دفعہ 337F(i) و 337L(2) کے تحت 50,50 ہزار روپے دمن کی سزا سنائی۔ ملزمان نے اس فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ لاہور میں اپیلیں دائر کیں، جبکہ ریاست نے سزائے موت کی توثیق کے لیے ریفرنس کے ساتھ ساتھ دفعہ 365-A میں عمر قید کو سزائے موت میں بدلنے کی اپیل بھی پیش کی، جس کی سماعت مسٹر جسٹس سید شہباز علی رضوی اور مسٹر جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل فاضل بینچ نے کی۔کیس منظرعام آنے پر پورے مُلک میں شدی غم و غصہ اور خوف کی لہر دوڑ گئ۔

اس ملزم تک پہنچنے کا سراغ کسی اتفاق کا مرہونِ منت نہیں تھا بلکہ سائنسی اور جدید تفتیش کا ایک ناقابلِ تردید زنجیر کا نتیجہ تھا۔ پنجاب فارنسک سائنس ایجنسی (PFSA) کے کرائم سین یونٹ نے گاڑی کے بیرونی دروازے سے خون کے جو نمونے حاصل کیے تھے، فارنسک سائنسدان تفتیش پر معلوم ہوا کہ اس کا ڈی این اے پروفائل ایجنسی کے ڈیٹا بیس میں موجود ایک پرانے مقدمے (ایف آئی آر نمبر 264/2013 تھانہ فورٹ عباس) میں محفوظ ملزم عابد علی کے ڈی این اے سے مکمل طور پر میچ کر گیا۔

اس سائنسی کامیابی کے بعد تفتیشی افسر محمد آصف نے عابد علی کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ وہ مسلسل ایک موبائل نمبر 0305-7520487 پر رابطے میں تھا، جو اگرچہ اللہ دتہ کے نام پر رجسٹرڈ تھا مگر درحقیقت اس کا بیٹا شفقت عرف بگا استعمال کر رہا تھا۔ یوں فارنسک ڈی این اے کے ایک قطرے سے شروع ہونے والا یہ سفر ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری پر منتج ہوا۔

عدالت کے سامنے سب سے اہم قانونی نقطہ یہ تھا کہ آیا محض مظلومہ کی شہادت کی بنیاد پر اتنی بڑی سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے؟

فاضل عدالت نے اس امر پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اور اسلامی قانونِ اور ابو داؤد کی حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جرمِ زنا بالجبری میں اگر مظلومہ کا بیان قابلِ اعتماد، سچا اور طبی و فارنسک شواہد سے مزین ہو تو صرف اس کی تنہا شہادت ہی ملزم کو سزا دینے کے لیے کافی ہے۔

مظلومہ نے جج صاحب کے سامنے انتہائی جرات، پختگی اور اعتماد کے ساتھ بیان درج کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی کی لائٹیں آن تھیں اور پاس سے گزرنے والی ایک گاڑی کی ہائی بیم کی روشنی میں انہوں نے ملزمان کے چہروں کو واضح طور پر دیکھا تھا۔ ملزمان نے مسلسل کافی وقت ان کے ساتھ گزارا، جس کی وجہ سے غلط فہمی یا غلط شناخت کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ نفسیاتی اصولوں کے مطابق بھی، اتنے خوفناک اور صدمہ پہنچانے والے واقعہ کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات انسان کے حافظے پر نقش ہو جاتی ہیں جنہیں وقت کی گرد مٹا نہیں سکتی۔

شناخت پریڈ کے مرحلے پر مجسٹریٹ کی موجودگی میں مظلومہ نے تمام فرضی اشخاص کے درمیان دونوں ملزمان عابد علی اور شفقت عرف بگا کی بلا جھجھک درست شناخت کی۔ قانونی کارروائی کی سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ شناخت پریڈ کے اختتام پر جب مجسٹریٹ نے ملزمان سے پوچھا کہ آیا انہیں اس شناخت پر کوئی اعتراض ہے، تو ملزمان نے نہ صرف کسی قسم کے اعتراض سے انکار کیا بلکہ اپنے جرم پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ خاتون نے ان کی بالکل درست شناخت کی ہے۔ عدالت نے قانونی شکاف دور کرتے ہوئے واضح کیا کہ اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 اور عدالتی احکامات کے تحت جنسی جرائم کی متاثرہ خواتین کے نام، شناخت، خاندانی پس منظر یا رہائش کو پوشیدہ رکھنا قانونی لازمی امر ہے، اسی لیے ٹرائل کورٹ نے ان کی شناخت محفوظ رکھی اور ان کی حرمت و وقار کا پاس رکھا۔

صفائی کے وکلائے صفائی کی جانب سے اٹھائے گئے اس اعتراض کو کہ متاثرہ خاتون کے بچوں کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، عدالت نے مسترد کر دیا۔ ریکارڈ کے مطابق دفعہ 540 ضابطہ فوجداری کے تحت بچوں کو طلب کیا گیا تھا، لیکن قانونِ شہادت 1984ء کے آرٹیکل 3 کے تحت ٹرائل کورٹ نے ان کی اہلیت جانچنے کے لیے ان سے سوالات کیے؛ بچے انتہائی کم سن تھے اور سب سے بڑا بچہ محض پانچ سال کا تھا، جو عقلی جوابات دینے سے قاصر رہے۔ لہٰذا عدالت نے انہیں گواہی کے لیے نااہل قرار دیا، جس آرڈر کو دفاع کی جانب سے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ اسی طرح، لیڈی ڈاکٹر کی طبی رپورٹ نے مظلومہ کے بائیں ران اور دائیں بازو پر  زخموں کی تصدیق کی جو ان کی شدید مزاحمت کا منہ بولتا ثبوت تھے، جبکہ ڈاکٹر عبداللہ فضل اور ڈاکٹر محمد اویس نے ملزمان کی جسمانی قابلیت اور ملزم عابد علی کی کوہنی پر زخم کا نشان نوٹ کیا جو گاڑی کا شیشہ توڑتے وقت لگا تھا۔

فارنسک شواہد نے اس کیس کو ناقابلِ تردید بنا دیا۔ لیڈی ڈاکٹر کی حاصل کردہ ویجائنل سوابس اور مظلومہ کے کپڑوں سے حاصل شدہ سپرم کے نمونے PFSA کی رپورٹ کے مطابق ملزمان عابد علی اور شفقت بگا کے ڈی این اے پروفائل سے 100 فیصد میچ کر گئے۔ اس کے علاوہ گاڑی کے شیشے پر لگے خون کے Swabs کا عابد علی کے ڈی این اے سے میچ ہونا اس سائنسی سچائی پر حتمی مہر ثبت کر گیا۔

ملزمان نے دفعہ 340(2) ضابطہ فوجداری کے تحت خود کو بطور گواہ پیش کر کے دفاع کرنے سے بھی گریز کیا اور دفعہ 342 کے تحت صرف انحراف کا راستہ اختیار کیا، جو اتنے ٹھوس سائنسی اور طبی شواہد کے سامنے مکمل طور پر بے وزن ثابت ہوا۔

حتمی فیصلے اور سزاؤں کا تعین کرتے ہوئے عدالت عالیہ لاہور نے قرار دیا کہ اس درندانہ، وحشیانہ اور قبیح فعل نے پوری سوسائٹی میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی تھی اور موٹروے جیسی اہم شاہراہوں پر خواتین و شہریوں کے تحفظ کے احساس کو مجروح کیا تھا۔ ایسے سنگین جرائم میں کسی قسم کی نرمی قانون کے عبرتناک اثر کو ختم کر دے گی۔ چنانچہ عدالتِ عالیہ لاہور کے فاضل بینچ نے ملزمان عابد علی اور شفقت عرف بگا کی اپیلیں بالکل خارج کر دیں اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت اور دیگر تمام سزاؤں کو بحال رکھا۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here