قاسم اقبال جلالی
آپ نے اگلے 10 سے 15 برسوں میں دنیا کا رخ سمجھنا ہو تو ماہرینِ سیاسیات کا ایک پرانا اصول یاد رکھنا چاہیے، جہاں ہتھیار بننے لگیں، یا ہتھیار خریدے جانے لگیں، وہاں تاریخ کروٹ لے رہی ہوتی ہے۔ آج دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں، جو ماضی قریب میں سب سے جنگجو قومیں سمجھی جاتی تھیں، جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم میں ایسی تباہی مچائی کہ پوری نسلیں لرز اٹھیں، جن کی جنگی صلاحیتوں اور حکمتِ عملی نے دنیا کو ورطہء حیرت میں ڈالے رکھا، یعنی جاپان اور جرمنی، ایک بار پھر اپنے دفاعی بجٹ میں تاریخ ساز اضافہ کر رہی ہیں اور جدید ترین ہتھیاروں سے اپنے آپ کو لیس کر رہی ہیں۔ یہ جیو پالیٹکس اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں انتہائی اہم development ہے.
جاپان کا دفاع بجٹ 2024 میں $55.3 billion ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال سے 21 فیصد زیادہ ہے. اور یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے تیز رفتار rearmament ہے۔ ادھر جرمنی کے فوجی اخراجات 2024 میں $88.5 billion ڈالر تک جا پہنچے، جو 2023 کے مقابلے میں 28 فیصد اور 2015 کے مقابلے میں 89 فیصد زیادہ ہیں. اس طرح جرمنی پہلی بار 1990 میں اپنے اتحاد کے بعد مغربی اور وسطی یورپ کا سب سے بڑا فوجی خرچ کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
یہ محض بجٹ کے ہندسے نہیں، یہ دنیا کے geopolitical نقشے پر ابھرتی ہوئی ایک نئی سٹریٹیجک تصویر ہے جس کے اثرات ہر براعظم پر پڑیں گے، ایشیا سے یورپ تک، افریقہ سے مشرقِ وسطیٰ تک۔
جاپان کی کہانی خاص طور پر حیرت انگیز ہے، اس لیے کہ اس ملک کا آئین، جسے 1947 میں فاتحین نے لکھا، Article 9 جاپان کو کسی بھی حملے یعنی Attack یا offensive کی صلاحیت رکھنے سے روکتا تھا۔ یعنی فاتحین نے جاپانی آئین کے ذریعے جاپان پہ پابندی لگا دی تھی کہ وہ کوئی ایسا ہتھیار نہیں بنائیں گے جو دفاع سے آگے بڑھ کر حملے کی صلاحیت رکھتا ہو. اسی لئیے جاپان کے پاس آج تک بحری بیڑا نہیں ہے. طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں ہیں. ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں. لمبے عرصے تک جاپان نے اپنا دفاعی بجٹ GDP کے 1 فیصد سے اوپر نہیں جانے دیا. یہ اس ملک کا اخلاقی عہد تھا۔
لیکن اب جاپان نے FY2025 میں دفاعی اخراجات کا مجموعی ہدف تقریباً $70 billion ڈالر یعنی 11 trillion yen مقرر کیا ہے، جو GDP کے 2 فیصد سے بھی تجاوز کر جائے گا. اور یہ ہدف اصل منصوبے سے دو سال پہلے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ محض 2022 میں دفاعی بجٹ ¥5.4 trillion تھا، جو 2023 میں ¥6.8 trillion، 2024 میں ¥7.9 trillion اور 2025 میں ¥8.7 trillion ہوگیا۔ یہ محض رقم کا اضافہ نہیں، یہ ایک پوری philosophy کی تبدیلی ہے۔
جاپان اب صرف اپنا دفاع نہیں کرنا چاہتا بلکہ 400 Tomahawk land-attack cruise missiles خریدنے کا معاہدہ کر چکا ہے جن کی مار 1,000 miles سے زیادہ ہے، جس سے چین اور شمالی کوریا کے اہداف براہِ راست جاپانی بحری جہازوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ اسی طرح جاپان کا domestically developed Type 12 surface-to-ship missile، جس کی مار تقریباً 1,000 kilometers ہے، منصوبے سے ایک سال پہلے March 2026 میں deploy کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی جاپان ہے جو کل تک محض “shield” تھا. آج وہ “spear” بھی اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ انتہائی اہم تبدیلی ہے.
جرمنی کی re-weaponization اپنے دامن میں ایک اور طرح کا تاریخی بوجھ رکھتی ہے۔ فروری 2022 میں جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو جرمن چانسلر Olaf Scholz نے اسے “Zeitenwende” یعنی تاریخی موڑ قرار دیا اور €100 billion کا ایک خصوصی دفاعی fund قائم کیا اور آئین میں ترمیم کر کے debt brake کو دفاعی اخراجات سے مستثنیٰ کر دیا۔ یہ بہت اہم قدم تھا۔ اب موجودہ چانسلر Friedrich Merz کا اعلان کردہ ہدف یہ ہے کہ Bundeswehr کو یورپ کی “مضبوط ترین conventional فوج” بنایا جائے اور جرمنی کا دفاعی بجٹ 2025 میں €86 billion یورو سے بڑھ کر 2029 تک €152 billion یورو ہو جائے گا۔
Pakistan in the World – March / April 2026
ایک طویل المدت منصوبے کے تحت 2041 تک €350 billion یورو خرچ کیے جائیں گے، جن میں ammunition کے لیے €70.3 billion، اور combat vehicles کے لیے €52.5 billion، جنگی جہازوں aircraft اور missile systems کے لیے €34.2 billion اور naval assets کے لیے €36.6 billion مختص ہیں۔ علاوہ ازیں35 nuclear-capable F-35 fighter jets تقریباً €10 billion میں خریدے جا رہے ہیں جو امریکی nuclear bombs گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اگلے دس سالوں میں تقریباً 1,000 اضافی Leopard battle tanks شامل کیے جائیں گے۔ Rheinmetall جیسی جرمن دفاعی کمپنی کا revenue گزشتہ سال €9.75 billion تھا جو 36 فیصد اضافے کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح ہے. اور یہ کمپنی 2030 تک یورپ میں €300 billion سے زیادہ کے آرڈر کی توقع رکھتی ہے۔
یہاں ایک لمحے کے لیے رکنا اور سوچنا ضروری ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور اس کا دنیا پر اثر کیا ہوگا؟ جاپان کے معاملے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی جارحیت، تائیوان کی صورتحال، اور شمالی کوریا کا missile program وہ عوامل ہیں جو Tokyo کو دفاعی لحاظ سے انتہائی پریشان کیے ہوئے ہیں۔ جرمنی کے معاملے میں یوکرین جنگ، روس کا خطرہ اور امریکہ کی “America First” پالیسی نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب یورپ کو خود اپنی حفاظت کرنی ہوگی۔
لیکن ان دونوں ملکوں کی re-armament کے محرکات خواہ جتنے بھی دفاعی اور جائز نظر آئیں، جغرافیائی سیاست کے اعتبار سے اس کے نتائج زیادہ پیچیدہ ہوں گے۔ جاپان کی Tomahawk missiles اور counterstrike capability سے چین کا ردِعمل کیا ہوگا؟ کیا بیجنگ اپنی فوجی تعمیرات کو مزید تیز نہیں کرے گا؟ کیا یہ Indo-Pacific میں ایک arms race کو جنم نہیں دے گا جو پورے خطے کو destabilize کرے گا؟
ادھر جرمنی کی دوبارہ”یورپ کی سب سے بڑی فوج” بننے کی خواہش فرانس اور پولینڈ جیسے ہمسائے کس نظر سے دیکھیں گے؟ روس کے لیے ایک مضبوط، طاقتور اور بڑی فوج کا حامل جرمنی کیا psychological اور strategic مفہوم رکھتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب ان دو ممالک نے ہتھیار اٹھائے تو دنیا نے دو عالمی جنگیں دیکھیں. اب اگرچہ حالات مختلف ہیں، allies مختلف ہیں، اور ارادے مختلف بیان کیے جاتے ہیں، تاہم ان کی military صلاحیت میں تیزی سے اضافہ دنیا کے power balance کو بنیادی طور پر بدل کر رکھ دے گی۔
Pakistan in the World – May 2025
اس پوری تصویر کا ایک اور پہلو وہ ہے جسے economic re-orientation کہا جا سکتا ہے۔ جاپان اور جرمنی دونوں export-driven معیشتیں ہیں جو صنعتی مہارت میں دنیا میں بے مثال ہیں۔ جب یہ ممالک اپنی صنعتی طاقت کو فوجی پیداوار کی طرف موڑتے ہیں تو دنیا کی defence industry کا پورا توازن بدل جاتا ہے۔ جاپان نے 2022 تک ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی رکھی تھی، اب وہ Patriot missiles امریکہ کو فروخت کرنے اور UK اور اٹلی کے ساتھ مل کر 2035 تک ایک نئے stealth fighter jet، Global Combat Air Programme، پر کام کر رہا ہے۔
جرمنی کے دفاعی بجٹ میں تین مسلسل سالوں میں double-digit اضافہ ہوا ہے،2024 میں 28 فیصد، 2025 میں 24 فیصد، اور یہ سلسلہ 2029 تک جاری رہنے کا منصوبہ ہے۔ Rheinmetall نے Bulgaria میں ایک factory قائم کی ہے، Thyssenkrupp submarines بنا رہی ہے، اور پوری جرمن صنعت ایک war-economy کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ 1930 کی دہائی میں بھی یہی کمپنیاں، یہی سانچہ، اور یہی سوچ تھی۔ یقیناً آج کا جرمنی اور آج کا جاپان نہ Hitler کا جرمنی ہے نہ Hirohito کا جاپان، لیکن جب دنیا کی دو سب سے جنگجو تاریخ رکھنے والی قومیں ایک ساتھ، ایک ہی وقت میں، تیزی سے ہتھیاروں کی طرف پلٹیں تو یہ signal کسی بھی سنجیدہ analyst کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
آخر میں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ پاکستان، ایران، ترکی یا دوسرے ترقی پذیر ممالک اس تبدیلی کو کس نظر سے دیکھیں اور کیا سبق سیکھیں۔ جب دنیا کی امیر ترین اور ٹیکنالوجی میں سب سے آگے قومیں یہ فیصلہ کر لیتی ہیں کہ اب صرف diplomacy کافی نہیں، تو وہ درحقیقت دنیا کو ایک ایسے مستقبل کی طرف دھکیل رہی ہوتی ہیں جہاں طاقت کی زبان سب سے اونچی بولے گی۔ جرمنی کا 2022 سے پہلے تک کے دفاعی اخراجات اور حالیہ مسلسل اضافہ انتہائی قابلِ غور ہے۔ ایسے ہی جاپان کی یہ تبدیلی محض reactive نہیں، یہ ایک broader strategic recalibration ہے. ایسا پہلا موقع ہے جب Tokyo نے صرف امریکہ کی دفاعی شیلڈ پر انحصار چھوڑ کر خود بھی دشمن کے اڈوں تک مار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ دونوں ملک مل کر دنیا کو بتا رہے ہیں کہ post-World War II کا وہ دور جب ہارے ہوئے جنگجو سر جھکائے بیٹھے رہتے تھے، ختم ہو چکا ہے۔ آنے والی دہائیوں میں دنیا کا نقشہ کیا ہوگا، اس کا جواب آج برلن اور ٹوکیو کی defense ministries کی دیواروں میں لکھا جا رہا ہے، اور ہمیں اسے پڑھنا ہوگا، قبل اس کے کہ تاریخ ایک بار پھر وہ سبق دہرائے جو ہم اب تک بھلا نہیں پائے۔
Pakistan in the World – January 2026