سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت یکطرفہ طور پر پانی کا رخ نہیں موڑ سکتا،اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پربین الاقوامی سیمینار

0
44

اسلام آباد سے تزئین اختر

پاکستان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت قرار دے چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر آبی ذخائر نہیں بنا سکتا، اگر سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے ہر اس ملک کو خطرہ لاحق ہو جائے گا جو بالائی اور زیریں دریائی نظام پر انحصار کرتا ہے، بھارت ہمارے پانی کے بہائو میں رکاوٹ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ آلودگی پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بھی ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت یکطرفہ طور پر پانی کا رخ نہیں موڑ سکتا۔

منگل کو اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پربین الاقوامی سیمینار منعقدہوا۔ جناح کنونشن سینٹر میں ”سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ“ کے موضوع پر افتتاحی سیشن ہوا۔ اس موقع پروفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خطابکیا۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم، سابق وفاقی وزیر قانون احمد بلال صوفی، انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت بین الاقوامی آبی ماہرین بھی موجود تھے۔

سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے ، مسئلہ پانی کی عدم دستیابی یا بہاو کا نہیں، کنٹرول کا ہے، پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے ، پاکستان میں بڑی طبقے کا ذریعہ معاش زراعت ہے جو پانی سے وابستہ ہے۔

پانی کی قلت کے باعث پاکستان میں کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بنگلہ دیش سمیت دیگر نشیبی ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔دریائے نیل ہو، دریائے فرات یا دریائے سندھ، دنیا کے مختلف خطوں میں پانی سے متعلق چیلنجز ایک جیسے ہیں، اس لیے یہ مسئلہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی اہمیت کا حامل ہے۔

مرالہ ہیڈ ورکس پر کبھی بھارت کی جانب سے انتہائی کم پانی چھوڑا جاتا ہے اور کبھی اچانک سیلابی ریلہ آ جاتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول ہے، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

بھارت نہ صرف پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ وہ دنیا میں آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک میں بھی شامل ہے۔ بھارتی اقدامات کے باعث پاکستان میں چھ ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوئے جبکہ اتنی بڑی انسانی قیمت کئی جنگوں میں بھی دیکھنے میں نہیں آتی۔

سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 3 جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔  اگر اتنا مضبوط معاہدہ بھی برقرار نہ رہ سکا تو پھر دنیا کا کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا اور کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے جہاں عدالت متعدد واضح فیصلے دے چکی ہے۔

عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی ملک سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا نہ ہی پاکستان کے حصے کے دریاؤں کے بہاؤ کا رخ موڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان دریاؤں پر ایسے آبی ذخائر تعمیر کر سکتا ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہوں۔

بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو بھی تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ اگر سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے ہر اس ملک کو خطرہ لاحق ہو جائے گا جو بالائی اور زیریں دریائی نظام پر انحصار کرتا ہے۔یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی آبی تحفظ، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کا معاملہ ہے۔

سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی شہ رگ ہے جس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ ترمیم، منسوخی یا معطلی ممکن نہیں، بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں جس کے باعث اسے مختلف عالمی فورمز پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان پانی کے حق کے تحفظ کے لئے ہر سطح پر اقدامات کرے گا۔

ہم محض سندھ طاس معاہدے پر گفتگو نہیں کر رہے بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ سے زیادہ عوام کی شہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب ہماری قومی شناخت کی بنیاد اور بطور قوم ہماری پہچان ہے۔ ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں۔ ہم دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائوں کے کناروں پر بسنے والی ایک قوم ہیں۔

پانی ہی زندگی ہے اور دریائے سندھ نے پاکستان کو زندگی عطا کی ہے۔ دریائے سندھ ہماری شہ رگ ہے اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو اس کے پانی پر ایک ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔

پاکستان کے لئے پانی محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کا مسئلہ ہے، دریائے سندھ کا آبی نظام صدیوں سے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے۔ گلگت بلتستان کی بلند و بالا چوٹیوں سے لے کر پنجاب اور سندھ کے ذرخیز میدانوں تک یہ پانی ہمیں جغرافیہ اور تاریخ سے جوڑتا آیا ہے۔ پاکستان کی کہانی کئی حوالوں سے دریائے سندھ کی ہی کہانی ہے۔

1960ء کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ورلڈ بینک کی سرپرستی میں طے پانے والا یہ معاہدہ جنگوں، سیاسی اتار چڑھاؤ اور طویل عرصے کی کشیدگی کے باوجود قائم و دائم رہا ہے۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک اس معاہدے کی مضبوطی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ تعاون، مکالمہ اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری ہی امن کا واحد پائیدارراستہ ہے۔ یہ معاہدہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کی ایک نمایاں مثال ہے جو نیک نیتی کے اصول، معاہدوں کے احترام اور پرامن طریقہ کار سے تنازعات کے حل کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ محض قانونی تصورات نہیں بلکہ وہ بنیادیں ہیں جن پر اعتماد قائم ہوتا ہے۔ پاکستان کے عوام کو دریائے سندھ کے پانی پر حق حاصل ہے اور سندھ طاس معاہدے میں نہ تو یکطرفہ طور پر ترمیم کی جا سکتی ہے نہ اسے منسوخ، معطل یا غیر موثر کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں کسی بھی ترمیم یا نظرثانی کے لئے بھی صرف باہمی رضامندی ہی درکار ہے۔

بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں اور عالمی سطح پر مختلف فورمز بشمول قانونی فورمز پر شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا۔ جو ڈھانچہ کمزور بنیادوں پر قائم ہو وہ زمین بوس ہو جاتا ہے۔

اس وقت جب ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار تیز ہو رہی ہے، گلیشیئرز غیر معمولی رفتار سے پگھل رہے ہیں اور پانی کی کمی ہمارے عہد کا ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے، اس معاہدے کے تحفظ کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ اسی ضرورت کے تحت بین الاقوامی ماہرین کو اکٹھا کیا گیا تاکہ پانی کی قدر، ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور سب سے بڑھ کر سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پر گفتگو کی جا سکے۔

جنوبی ایشیاء دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کا مسکن ہے۔ ہمارا اجتماعی مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم پانی کو تنازعے کے بجائے تعاون کے ذریعے میں تبدیل کریں۔ تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ دریا تہذیبوں کو تقسیم نہیں کرتے بلکہ انہیں جوڑتے ہیں۔ دریا سرحد، سیاست اور نسلوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ فطرت سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی اور انسانیت کے مشترکہ چیلنجز مشترکہ حل کے متقاضی ہیں۔ پانی کو روکنے یا بند کرنے کی کوئی بھی کوشش ہمیشہ ناکام ہوتی ہے کیونکہ پانی اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔

پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا یا طے شدہ انتظامات میں یکطرفہ تبدیلی کی کوشش نہ صرف علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کے وسیع تر فریم ورک کو بھی متاثر کرتی ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں کو سہولت کے مطابق معطل یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ معاہدوں کا احترام اقوام کے درمیان اعتماد کو برقرار رکھنے اور عالمی نظم کو قائم رکھنے کے لئے ناگزیر ہے۔ پاکستان ہمیشہ پرامن روابط، تعمیری مکالمے اور معاہدے کے دیانتدارانہ نفاذ کے لئے پرعزم رہا ہے تاہم اگر پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت پاکستان کے عوام کے پانی کے حق کو محفوظ بنانے کے لئے موثر جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔

ہم ہر صورت نہ صرف اس معاہدے کی حرمت کا تحفظ کریں گے بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے دریائے سندھ کے پانی پر ناقابل تنسیخ حق کے تحفظ کے لئے بھی ہر ممکن اقدام کریں گے۔ دریائے سندھ کا پانی ہزاروں سال سے بہہ رہا ہے، اس نے تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے، یہ آج بھی بلا تعطل زندگی کو سہارا دے رہا ہے۔ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان پانیوں کو آنے والی نسلوں کے لئے امن اور مشترکہ خوشحالی کی علامت کے طور پر برقرار رکھیں۔

پاکستان کے عوام کے پانی پر حق کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہم تمام بین الاقوامی فورمز پر کوششیں کریں گے، بھارت کی جانب سے اس معاہدے میں تبدیلی یا اسے یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوششیں کی جا رہی ہیں جو ممکن نہیں ہیں۔ پانی کا حق ہمیشہ مقدس رہے گا۔ یہ معاہدہ برقرار رہے گا اور پاکستان دریائے سندھ سے جڑے پاکستانیوں کے ذریعہ معاش اور زندگیوں کے تحفظ کے لئے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here