نیپال کے سشیل پرساد کوئرالا – دنیا کے سب سے غریب وزیراعظم

0
312

وہ 2014ء میں نیپال کے وزیراعظم بنے ۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفتر پہنچے تو انتہائی سستے سے کپڑے پہن رکھے تھے۔لباس کی مجموعی قیمت دو سو روپے سے بھی کم تھی۔سر پر انتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹر یا نائب قاصد کے کپڑے بھی ان سے بہت بہتر تھے۔

منتخب وزیراعظم کو ان کے دفتر لے جایا گیا۔دفتر کے باہر چپل اُتاری اور ننگے پاؤں چلتے کرسی پر چوکڑی مارکر بیٹھ گئے ۔سیکریٹری اور دیگر عملے کے اوسان خطا ہوگئے کہ یہ کس طرح ملک کے لوگوں سے ووٹ کی طاقت سے وزیراعظم بن گیا ہے۔ انھوں نے فائلیں منگوائیں اور بڑی محنت سے کام شروع کردیا۔سیکریٹری دو گھنٹے اپنے کمرے میں انتظار کرتا رہا کہ باس اب بلائے گا یا اب۔اس نے کئی بار چپڑاسی سے پوچھا کہ مجھے وزیراعظم نے تو نہیں بلایا۔چپڑاسی شرمندگی سے جواب دیتا نہیں۔ابھی تک انھوں نے کسی کو بھی بلانے کے لیے نہیں کہا۔

پورا دن گزرگیا۔وزیراعظم سرکاری کام کرکے بڑے آرام سے واپس چلےگئے۔سختی سے منع کیا کہ کوئی بھی خوش آمدید کہنے یاخدا حافظ کہنے نہ آئے۔ یعنی ہرطرح کے پروٹوکول کو ختم کردیا۔اسی صورتحال میں ایک ہفتہ گزر گیا۔تمام عملہ بیکار بیٹھا رہا۔ وزیراعظم ٹھیک آٹھ بجے صبح دفتر آتے ۔رات گئے تک کام کرتے۔ پھر بڑے آرام سے چلےجاتے۔

ایک ہفتہ بعد،سیکریٹری نے وزیراعظم کو چٹ بھجوائی کہ وہ کسی سرکاری کام سے ملنا چاہتا ہے۔چٹ بھجوائے ہوئے دو چار منٹ ہوئے تھے کہ وزیراعظم خود اس کے کمرے میں آگئے اورتہذیب سے پوچھا کہ فرمائیے، کیا کام ہے۔

سیکریٹری کی جان نکل گئی کہ ملک کا وزیراعظم اس کے دفترمیں آکر کام پوچھ رہا ہے۔کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ لجاجت سے کہا کہ سر،قانون کے مطابق بطور وزیراعظم آپ نے اثاثے ڈیکلیئر کرنے ہیں۔وزیراعظم نے سیکریٹری سے فارم لیا اور خاموشی سے اپنے دفترچلے گئے۔

شام کوفارم واپس آیا تو سیکریٹری وزیراعظم کے اثاثوں کی تفصیلات دیکھ کر حیران رہ گیا۔ درج تھا،

”میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ کوئی گاڑی بھی نہیں ہے کیونکہ میں بس میں سفر کرتا ہوں۔کسی قسم کی کوئی جائیداد، پلاٹ، زیور، سونا، ہیرے بھی نہیں ہیں۔جہاں تک زرعی زمین کا تعلق ہے،ساری زمین خیرات کرچکاہوں اوراس وقت میرے پاس ایک ایکڑ زمین بھی نہیں ہے۔میرا کسی قسم کا کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہے۔میرے پاس کوئی رقم ہی نہیں ہے۔میرے پاس صرف تین موبائل فون ہیں جن میں سے ایک آئی فون ہے۔اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے”۔

یہ سشیل پرساد کوئرالا تھے۔ نیپال کے سیاست دان۔ 11 فروری 2014 سے 10 اکتوبر 2015 تک نیپال کے وزیرِ اعظم رہے اور نیپال کے جدید آئین کے نفاذ کی نگرانی کی۔ وہ 2010 سے 2016 تک نیپالی کانگریس کے صدر بھی رہے، جبکہ اس سے قبل وہ پارٹی میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے تھے۔سشیل پرساد کوئرالا کا تعلق ایک انتہائی معزز خاندان سے تھا جس میں کئی وزرائے اعظم گزرے تھے، لیکن انہوں نے دولت نہیں کمائی؛ اس کے برعکس، اپنی پارٹی کے لیے کام کرنے کے دوران انہوں نے اپنے اثاثے فروخت کر دیے۔ انہوں نے شادی نہیں کی تھی اور ان کا کوئی کنبہ نہیں تھا۔

بنگلہ دیش میں سیاستدان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل پر حاضر سروس بریگیڈیئر گرفتار

نیپال جیسا ملک جہاں سیاست اورکرپشن،بالکل ہماری طرح لازم وملزوم ہے۔وہاں وزیراعظم کے ڈیکلیئریشن فارم میں کسی قسم کے اثاثے نہ ہونا اچھنبے کی بات تھی ۔سیکریٹری اگلے دن صرف اس لیے وزیراعظم کے پاس گیا کہ کہیں ان سے کوئی غلطی نہ ہوگئی ہو۔مگر وزیراعظم نے تسلی دی اور کہا کہ میں نے ڈیکلیئریشن فارم کے نیچے دستخط کیے ہیں۔ فکرنہ کریں۔

تھوڑے دن کے بعد کسی صحافی نے اخبارمیں چھاپ دیا کہ یہ دنیا کاسب سے غریب وزیراعظم ہے۔اپوزیشن نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ جھوٹ ہے۔کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جسکے خاندان میں تین وزیراعظم گزرے ہوں، اتنا مفلوک الحال ہو۔اپوزیشن نے ہر طرح کی تحقیق کر ڈالی۔مگرسشیل پرساد کوئرالا کی لکھی ہوئی باتوں میں کوئی سقم نہ نکال سکے۔واقعی وزیراعظم کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔وہ معاشی کسمپرسی کا شکار تھے۔

ایک سرکاری دورے میں حکومت کی طرف سے انہیں 645 ڈالر ملے۔ دورے کے بعدانہوں نے یہ تمام ڈالر سرکاری خزانے میں واپس جمع کروا دیے کہ دورے پرکسی قسم کے کوئی پیسے خرچ نہیں ہوئے۔لہذایہ ڈالر ان کے کسی کام کے نہیں۔

بطور وزیراعظم سشیل پرساد کوئرالا نے انتہائی سادگی سے وقت گزارا اورحکومت کے بعد بھائی کے گھرمنتقل ہوگئے۔آخری عمر میں انھیں پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا۔ان کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔سیاسی پارٹی کے اراکین نے باقاعدہ چندہ اکٹھا کیا اورپھر وہ اپنا علاج کروانے کے قابل ہوئے۔ بہرحال کینسر جیسے موذی مرض سے بہادری سے لڑتے ہوئے 2016ء میں نیپال کے ایک سرکاری اسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا۔

آج بھی آپ ان کی زندگی پر لکھی گئی کتابیں پڑھیں توآنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ انسان پوچھتاہے اے خدا، ایسے درویش لوگ بھی اس دنیا پرحکومت کرتے ہیں۔الیکشن جیتتے ہیں اور اپنے دامن پر کرپشن کی ایک چھینٹ بھی نہیں پڑنے دیتے۔ اسی تنگدستی میں دنیاچھوڑدیتے ہیں۔ ایسی مثالیں ہمیں صرف اور صرف کافروں کے ملکوں میں ہی نظر آئیں گی۔ مسلمان فطرتاً ان صفات سے عاری ہیں۔

وہ ہمارے سیاست دانوں، وزراء اور وزرائے اعظم کے لیے ایک مثال ہیں۔ نظام اور مسائل کا رونا رونے کے بجائے، تمام عوامی عہدیداران کو ان کی پیروی کرنا چاہیے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگر اتنے عظیم سیاستدان پاکستان میں ہوتے، تو یہاں کے ہم عصر سیاستدانوں نے انہیں پاگل قرار دے دیا ہوتا۔

Pakistan in the World – May – June 2026